طالبان سے مذاکرات کیلیے امریکی اجازت کی ضرورت نہیںپرویزخٹک

ملک میں دہشت گردی کی سب سے بڑی وجہ ڈرون حملے ہیں، یہ حملے بند ہونے چاہئیں،وزیراعلیٰ کے پی کے


Staff Reporter October 26, 2013
قیام امن کا بہترین راستہ مذاکرات ہیں اوروفاقی حکومت کو طالبان سے مذاکرات کے لیے تمام سیاسی جماعتوں نے مینڈیٹ دیا ہے .فوٹو: فائل

ISLAMABAD: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویزخٹک نے کہاہے کہ طالبان سے مذاکرات کیلیے ہمیں امریکا سمیت کسی کی بھی این اوسی کی ضرورت نہیں۔

ملک میں دہشت گردی کی سب سے بڑی وجہ ڈرون حملے ہیں، یہ حملے بند ہونے چاہئیں،خیبرپختوانخواکے علاوہ تینوں صوبوں میں ضیاالحق کابلدیاتی قانون نافذہے،عوام تک اختیارات منتقل ہی نہیں کیے گئے،چیف جسٹس آف پاکستان ا ختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہ ہونے کانوٹس لیں۔جمعہ کو کراچی میں نجی فلاحی اداروں امن فاؤنڈیشن او دی سٹیزن فاؤنڈیشن کے دورے کے موقع پرمیڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے پرویزخٹک نے کہاکہ ملک کواس وقت دہشت گردی اورانتہاپسندی کاسامنا ہے اوردہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرصوبہ خیبرپختونخواہے۔

قیام امن کا بہترین راستہ مذاکرات ہیں اوروفاقی حکومت کو طالبان سے مذاکرات کے لیے تمام سیاسی جماعتوں نے مینڈیٹ دیا ہے پھر مذاکرات میں تاخیر کیوں ہورہی ہے ؟ہمیں مذاکرات کے لیے امریکاسمیت کسی کی بھی این او سی کی ضرورت نہیں،وفاقی حکومت اگرقیام امن کے لیے طالبان سے مثبت اندازمیں مذاکرات شروع کرے گی توہم اس کابھرپورساتھ دیں گے۔

ڈرون حملے بند ہونے چاہئیں کیونکہ ان کی وجہ سے دہشت گردی بڑھ رہی ہے اورامن و امان کی صورتحال خراب ہورہی ہے۔انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت اختیارات کی نچلی سطح پر منتقل کو اصل جمہوریت سمجھتی ہے،ہم صوبے میں ایسابلدیاتی نظام لائیں گے جس کے تحت مقامی حکومتیں انتظامی اور مالی طور پر با اختیار ہونگی،اس بلدیاتی نظام کے تحت عوام کے مسائل کے حل کے لیے ترقیاتی فنڈز کا40 فیصدحصہ بلدیاتی اداروں کو دیا جائے گا،چیف جسٹس آف پاکستان اس بات کا نوٹس لیں کہ دیگر تین صوبائی حکومتیں بلدیاتی نظام کے تحت عوام کو اختیارات کیوں نہیں دے رہی ہیں،چیف جسٹس بلدیاتی انتخابات جلدکرانے کے لیے کہہ رہے ہیں، میں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ پہلے اس نظام کا جائزہ لے لیاجائے۔

 

مقبول خبریں