وزیراعظم کی کوششوں کا مثبت نتیجہ نکلے گا
وزیراعظم میاں محمد نوازشریف سے پیر کو جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پرائم منسٹر ہاؤس...
وزیراعظم میاں محمد نوازشریف سے پیر کو جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پرائم منسٹر ہائوس اسلام آباد میں ملاقات کی۔ موجودہ حالات کے تناظر میں یہ ملاقات خاصی اہمیت کی حامل ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں وزیر اعظم کا حالیہ دورہ امریکا' طالبان سے مذاکرات کے معاملات اور صوبہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بھی زیر غور آئی۔ بعض حلقوں میں یہ کہا جا رہا ہے کہ اس ملاقات کے بعد جے یو آئی جلد وفاقی کابینہ کا حصہ بن جائے گی اور وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے مولانا فضل الرحمن کو اس کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات کا جو ڈول ڈالنے جا رہی ہے' مولانا فضل الرحمن اس میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں'صوبہ خیبر پختونخوا کے سیاست میں مسلم لیگ اور جے یو آئی مل کر کام کرسکتی ہیں۔ وزیراعظم پاکستان نے یہ بھی کہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کرنا حکومت کی ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کوئی دبائو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اگلے روز ہی وزیراعظم پاکستان لندن پہنچے ہیں' یہاں وہ عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کریں گے اور پاکستان' برطانیہ اور افغانستان پر مشتمل سہ فریقی مذاکرات میں بھی شرکت کریں گے۔لندن میں انھوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو ڈاکٹر شکیل آفریدی کے معاملے پر کوئی یقین دہانی کرائی نہ ہی اس حوالے سے ماورائے عدالت کوئی فیصلہ کریں گے، پاکستان اپنے فیصلوں میں خود مختار ہے اور ہمیں اپنے فیصلے کرنے کا اختیار استعمال کرنا چاہیے۔ نواز شریف نے کہا کہ افغانستان میں پاکستان کا کوئی فیورٹ نہیں، ہم مستحکم افغانستان چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں امریکا افغانستان سے نکلے تو وہاں امن ہو، ہماری پالیسی ہے کہ افغانستان کو سپورٹ کیا جائے، وہاں مضبوط حکومت چاہتے ہیں۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا دورہ برطانیہ بھی خاصی اہمیت کا حامل ہے' عالمی اقتصادی فورم میں وہ پاکستان کی معاشی مشکلات اور ترجیحات بیان کریں گے اور اس کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے موجود پوٹینشل کی بھی نشاندہی کریں گے۔ یوں پاکستان کے لیے یہ اقتصادی فورم بہت سے فوائد کا باعث بن سکتا ہے۔ لندن میں ہونے والی سہ فریقی مذاکرات پاک افغان صورتحال کے تناظر میں نئی اور مثبت پیش رفت کا باعث بن سکتے ہیں۔ برطانیہ اس خطے میں امریکا کے بعد دوسری اہم طاقت ہے۔ برطانوی پالیسی سازوں کو اس خطے کی تاریخ' ثقافت اور طرز سیاست کا جتنا علم ہے' دنیا کے کسی اور ملک کو نہیں ہے۔
یوں سہ فریقی ملاقات میں بہت سے ایشوز پر ان کے صحیح تناظر میں بات چیت ہو گی' اس ملاقات کے بعد پاکستان کی حکومت کے لیے داخلی سطح پر طالبان سے مذاکرات کے معاملے کو آگے بڑھانا قدرے آسان ہو جائے گا' لندن جانے سے پہلے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات بھی شاید اسی تناظر میں کی گئی ہے۔موجود حکومت اس معاملے میں خاصی سنجیدہ نظر آ رہی ہے۔ایسے اشارے سامنے آرہے ہیں جن سے محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے اس حوالے سے خاصا کام کرلیا ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی ان مصروفیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کے خارجہ اور داخلہ ایشو پر سنجیدگی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور ان کی کوششوں کا مثبت نتیجہ نکلے گا۔ پاکستان جس قسم کے خارجہ اور داخلہ حالات کا شکار ہے، اس کا تقاضا یہی ہے کہ پاکستان کے مفادات کو سامنے رکھ کر کام کیا جائے اور اس سلسلے میں کسی دباو کو برداشت نہ کیا جائے۔یہ معاملہ طالبان سے مذاکرات کا ہو یا شکیل آفریدی کی رہائی کا۔وزیراعظم پاکستان نے اس حوالے سے اپنے عزم کا اظہار کردیا ہے۔