بلدیاتی الیکشن شیڈول کی منظوری

الیکشن کمیشن نے تین صوبوں پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کے مجوزہ شیڈول کی منظوری دے دی ہے...


Editorial October 30, 2013
تمام صوبوں میں بلدیاتی انتخابات وقت پر ہوں گے۔ فوٹو: ایکسپریس

الیکشن کمیشن نے تین صوبوں پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کے مجوزہ شیڈول کی منظوری دے دی ہے، صوبوں کی جانب سے حلقہ بندیوں کے نوٹیفکیشن کے بعد شیڈول کا جلد باقاعدہ اعلان کیا جارہا ہے ۔ سندھ میں27 نومبر جب کہ پنجاب اور بلوچستان میں 7دسمبر کو بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں گے۔ الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ شیڈول سے پہلے حلقہ بندیوں کا نوٹیفکیشن لازمی ہے۔ قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس تصدیق حسین جیلانی کی صدارت میں الیکشن کمیشن کا طویل اجلاس گزشتہ روز ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا حتمی شیڈول یکم نومبر کو جب کہ پنجاب اور بلوچستان کے لیے شیڈول پانچ نومبر کو جاری کا جائے گا۔سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کی مشترکہ ہدایات و کوششوں سے بلدیاتی انتخابات کے مجوزہ شیڈول کی منظوری بلاشبہ ایک بریک تھرو ہے۔ دنیا بھر میں بلدیاتی یا مقامی ، خود اختیاری یا شہری حکومتوں کا تصور رائج ہے جسے بنیادی جمہوریت کی پہلی اینٹ کا درجہ حاصل ہے۔

مقام افسوس ہے کہ جمہوری حکومتوں پر بلدیاتی الیکشن سے بوجوہ گریز یاڈرنے کا الزام لگایا جاتا ہے تاہم بلدیاتی الیکشن کی تاریخ اس امر کی گواہی دیتی ہے کہ صرف آمروں کو بلدیاتی الیکشن کرانے کی توفیق ہوئی اور جمہوری حکومتوں نے کسی نہ کسی بہانے سے بلدیاتی الیکشن کو موخر کرانے کی اپنی سی ہر ممکن کوشش کی۔بہرکیف اس وقت صورتحال تبدیل ہوچکی ہے ۔ سپریم کورٹ نے بلدیاتی الیکشن کرنے کا حکم بہ اصرار جاری کیا اور اب الیکشن کمیشن نے اس سمت میں اہم اقدام کیا ہے۔ حقیقت میں بلدیاتی الیکشن اختیارات کی نچلی سطح پرمنتقلی کے جدید جمہوری تصور سے جڑا ہوا ہے، اسے یورپی اور دیگر ممالک میں مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے جس کا مقصد شہریوں کوان کے روزمرہ مسائل اور بلدیاتی امور کی انجام دہی میں مدد دینا، صحت صفائی اور تعلیم و تفریح وغیرہ کے شعبوں میں ان کی داد رسی کرنا ہے، مطلب عوام کو ان کی دہلیز پر ہر قسم کا ریلیف مہیا کرنا مقامی حکومت کا اصل فریضہ ہے جب کہ اس نظام سے عوام کو اپنے منتخب بلدیاتی نمایندوں اور میئر کی ہمہ وقت موجودگی کے باعث مسائل کے حل کا یقین ہوتا ہے۔

یہ نمایندے علاقوں اور اپنے حلقہ انتخاب میں ہمیشہ دستیاب ہوتے ہیں۔دوسری طرف قومی اور صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے اراکین کا درد سر بھی کم ہوجاتا ہے ورنہ لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ بلدیاتی ادارے نہیں ہیں تو گلی کوچوں کی صفائی اور اسکول میں داخلے کے لیے بھی قومی یا صوبائی اسمبلی کے اراکین ان کے ساتھ مدد کو چلیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے اس نازک مرحلے میں بلدیاتی الیکشن شیڈول کی منظوری ایک مستحسن فیصلہ ہے۔ چنانچہ مجوزہ شیڈول کے تحت سندھ میں پانچ نومبر کو امیدواروں سے کاغذات نامزدگی وصول کیے جائیں گے ان کی جانچ پڑتال کا عمل 7 اور 8 نومبر کو مکمل کیا جائے گا، امیدواروں کو 13نومبر کو انتخابی نشانات الاٹ کیے جائیں گے 27نومبر کو پولنگ ہوگی اور سرکاری نتائج 30نومبر کو جاری کیے جائیں گے۔ پنجاب اور بلوچستان میں8سے 10 نومبر تک کاغذات نامزدگی وصول کیے جائیں گے، 13سے 15نومبر تک جانچ پڑتال کی جائے گی 23نومبر کو امیدواروں کو انتخابی نشانات الاٹ کیے جائیں گے، دونوں صوبوں میں پولنگ سات دسمبر کو ہوگی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے صوبوں کی جانب سے دی گئی تاریخوں پر بلدیاتی انتخابات کرانے کے احکامات دیے ہیں اور الیکشن کمیشن نے ان ہی تاریخوں پر انتخابات کرانے کے شیڈول مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے پنجاب اور بلوچستان میں بلدیاتی الیکشن کے سرکاری نتائج کو دس دسمبر کو جاری کر دیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن نے کئی اہم فیصلے کیے ہیں جس کے تحت بیلٹ پیپرز پر امیدواروں کے نام درج نہیںہوں گے صرف انتخابی نشانات کی چھپائی کی جائے ، امیدواروں کی حتمی فہرست سے پہلے ہی ماڈل بیلٹ پیپر کی چھپائی کا کام شروع کرا دیا جائے۔ بلدیاتی انتخابات میں صرف مقناطیسی سیاہی کا استعمال ہو۔اس مقصد کے لیے ایک لاکھ پولنگ اسٹیشنوں کے لیے دس لاکھ سیاہی کے پیڈ تیار کرائے جائیں گے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اجلاس میں پرنٹنگ کارپوریشن کی جانب سے تیس روز میں پچاس کروڑ بیلٹ پیپر کی چھپائی سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ پوری صلاحیت کے باجود بھی اس وقت میں اتنے بیلٹ پیپر تیار نہیں کیے جاسکتے اس حوالے سے ڈی جی الیکشن کمیشن سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا اس کا جائزہ منگل کے اجلاس میں لیا جائے گا تاہم انھوں نے اس کی تصدیق نہیں کی اتنے عرصے میں بیلٹ پیپرز کی چھپائی مکمل ہوجائے گی۔

یہ بھی بتایا گیا کہ یکم اور پانچ نومبر کو حتمی شیڈول جاری کر دیے جائیں گے، الیکشن کمیشن کے دوسرے اہم اجلاس میں سیکریٹری خزانہ چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز، سیکریٹریز لوکل گورنمنٹ، چیئرمین نادرااور دیگر محکموں کے افسر شریک ہوئے ۔ اقدامات کو تیزی سے حتمی شکل دی جارہی ہے، بلدیاتی انتخابات کے اخراجات کے لیے وزارت خزانہ سے فوری طور پر چھ ارب روپے مانگے جا چکے ہیں۔ جس روز پولنگ ہوگی اسی دن نتائج کا اعلان بھی ہوگا، اس میں تاخیر کے اندیشوں کو رد کیا گیا ہے۔واضح رہے خیبر پختونخوا اور اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ عدالت میں زیرسماعت ہے اور4 نومبر کو تاریخ طے ہے، جب کہ کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔تاہم اس امر کا عوام اور بلدیاتی اداروں سے وابستہ حکام کو یقین ہے کہ الیکشن کسی صورت موخر نہیں ہوں گے۔اور نہ ہونے چاہئیں۔بلدیاتی اداروں کی جمہوری نشوو نما اور استحکام ملک کے مفاد میں ہے کوشش کی جائے کہ سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کی کوششوں کو بارآور کیا جائے اور بلدیاتی الیکشن کے انعقاد سے متعلق جمہوری حکومتوں کو گریز یا لیت ولعل کی پالیسی کا جو طعنہ دیاجاتا ہے اس کا جلد ازالہ ہوجائے۔