تنازع کشمیر پر وزیراعظم کا درست موقف

بھارتی حکومتی ارکان بھی اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے کئی بار کہہ چکے ہیں کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں


Editorial October 31, 2013
پاکستان نے کئی بار بھارت کو یہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی تجویز دی مگر بھارت ٹال مٹول سے کام لیتا رہا۔ فوٹو: فائل

پاکستان اور بھارت میں کشیدگی کی ایک بڑی وجہ مسئلہ کشمیر ہے۔ گزشتہ 65 سال میں دو طرفہ اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے باوجود مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب کوئی پیشرفت نہیں ہوئی اور یہ جوں کا توں چلا آ رہا ہے۔ اپنی حساسیت کی بنا پر آج بھی کنٹرول لائن پر سرحد پار سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہتی ہیں، بعض اوقات کشیدگی اور تنائو میں اس قدر اضافہ ہو جاتا ہے کہ نوبت فائرنگ سے بڑھتے بڑھتے گولہ باری تک آ جاتی اور پورے خطے میں ایک نئی جنگ کا خوف پھیل جاتا ہے۔

پاکستان نے کئی بار بھارت کو یہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی تجویز دی مگر بھارت ٹال مٹول سے کام لیتا رہا اور اگر کبھی مذاکرات پر راضی بھی ہوا تو اس کا نتیجہ مثبت نہیں نکلا اور معاملات جہاں سے شروع ہوئے تھے وہیں پر ختم ہو گئے۔ اب تک ہونے والے دو طرفہ مذاکرات اس امر کے واضح عکاس ہیں کہ بھارت کی ہٹ دھرمی ہمیشہ مسئلے کے حل کی جانب پیشرفت میں رکاوٹ بنی اور اس نے کشمیر کو اٹوٹ انگ کہنے کی مسلسل رٹ لگائے رکھی۔ برطانیہ کے دورے پر آئے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بھارت کی اسی ہٹ دھرمی اور مسئلے کو جوں کا توں رکھنے کی مذموم کوششوں کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم 65 سال میں باہمی طور پر یہ مسئلہ حل نہ کر سکے تو اب یہ کہنا کہ ثالثی کے لیے تیسرے فریق کی ضرورت نہیں مسئلے کو ٹالنے والی بات ہے، بھارت کو ثالثی میں کیا ہچکچاہٹ ہے' مسئلہ کشمیر کا ایسا پائیدار حل ہونا چاہیے جس پر کشمیر' پاکستان اور بھارت کے عوام راضی ہوں۔ پاکستان کشمیر کے حل کے لیے بھارت کو مذاکرات کی مسلسل دعوت دے رہا ہے ۔

بھارتی حکومتی ارکان بھی اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے کئی بار کہہ چکے ہیں کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں' مذاکرات ہی کے ذریعے باہمی تنازعات حل کیے جا سکتے ہیں۔ جب دونوں حکومتیں یہ امر بخوبی جانتی ہوں کہ انھیں بالآخر مذاکرات کی میز ہی پر آنا پڑے گا تو پھر اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے انھیں عملی اقدامات کرنے میں کیا امر مانع ہے' صرف بیانات سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ 65سال تو گزر گئے آخر یہ مسئلہ کب حل ہو گا' اگر دونوں حکومتوں کی جانب سے اب بھی کوئی پیشرفت نہ ہوئی تو خدشہ ہے کہ آیندہ 65 سال بعد بھی یہ مسئلہ دشمنی اور نفرت کی بنیادی وجہ بنا رہے گا۔ بھارت کا رویہ اس قدر ہٹ دھرمی پر مبنی ہے کہ نہ تو وہ خود اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہا اور نہ تیسرے فریق کی ثالثی قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے بھی اسی بھارتی رویے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو ثالثی میں کیا ہچکچاہٹ ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ سے ملاقات میں یہ واضح کیا کہ پاکستان' بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے تاہم کشمیر کا مسئلہ پاکستان' بھارت اور کشمیری عوام کو اعتماد میں لے کر ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ یہ مسئلہ کشمیری عوام کا ہے اس لیے ان کی قسمت کا فیصلہ ان کی مرضی کے خلاف نہیں ہونا چاہیے۔ وزیراعظم نواز شریف نے برسراقتدار آنے کے بعد خطے میں امن و امان کے لیے ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ اب ایک بار پھر انھوں نے اسی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بھارت سے دوستی' اچھے تعلقات' تجارت، کاروبار اور اقتصادی تعاون کا فروغ چاہتے ہیں' عوامی رابطے جتنے بڑھیں اچھا ہے۔ عوامی رابطے جتنے بڑھیں گے نفرتیں اتنی ہی کم ہوں گی اور دونوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے اور قریب آنے کا موقع ملے گا۔

اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت ہو رہی ہے مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے مزید وسعت دی جائے اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔ وزیراعظم نواز شریف نے ملکی مسائل کے حوالے سے کہا کہ ہم نے بہت پیسہ غیر ضروری سازو سامان پر خرچ کیا اگر یہ پیسہ تعلیم' صحت اور سماجی شعبے پر خرچ ہوتا تو آج ہم کہیں اور ہوتے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ملکی ترقی میں تعلیم' صحت اور سماجی شعبے کی بنیادی اہمیت ہے۔ اگر یہ شعبے کمزور ہوں گے تو کوئی بھی ملک ترقی کے میدان میں آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اب بھی بجٹ میں تعلیم اور صحت پر ضرورت کے مقابل بہت کم رقم خرچ کی جا رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بیانات سے آگے بڑھ کر عملی طور پر ان شعبوں کو اولین ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ رقم ان کی ترقی کے لیے مختص کی جائے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ جس ملک کے دیگر ممالک سے تجارتی تعلقات جتنے بہتر اور وسیع ہوں گے وہاں ترقی اور خوشحالی کا درجہ بھی اتنا ہی بلند ہو گا۔اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعظم نے جہاں بھارت سے تجارتی تعلقات بڑھانے کی بات کی وہاں انھوں نے امریکا اور برطانیہ سے امداد لینے کے بجائے تجارت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

دہشت گردی نے پاکستان کے لیے بہت سی مشکلات پیدا کی ہیں۔ موجودہ حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہر ممکن طور پر کوشاں ہے۔ اس سلسلے میں انسداد دہشت گردی فورس قائم کرنے کی بات ہو رہی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ برطانیہ نے انسداد دہشت گردی فورس کے قیام میں ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔ امن و امان کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کو تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھنا ہو گا۔ اگر موجودہ حکومت کی کارکردگی بھی بیانات تک محدود رہی اور بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ عملی طور پر کچھ نہ کیا گیا تو موجودہ مسائل میں وقت کے ساتھ ساتھ مزید اضافہ ہوتا چلا جائے گا جو ملکی بقا اور سلامتی کے لیے خطرہ بن جائیں گے۔ وزیراعظم نواز شریف نے پاکستان کے سرکاری اداروں میں بدعنوانی اور بدانتظامی کی نذر ہونے والے 500 ارب روپے کو روکنے کا ذکر تو کیا مگر یہ نہیں بتایا کہ اس کے لیے حکومت نے عملی طور پر کیا اقدامات کیے ہیں ۔