تیل کی قیمتوں میں ردوبدل

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو چند پیسوں کی کمی کی گئی ہے‘ عام صارف کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا


Editorial November 01, 2013
پاکستان میں یہ روایت پختہ ہو گئی ہے کہ تیل کی قیمت جب کم کرنا ہو تو حکومت بہت محتاط ہو کر فیصلہ کرتی ہے۔ فوٹو: فائل

حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ جمعرات کو اوگرا کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 48 پیسے فی لیٹر کمی کے بعد نئی قیمت 112 روپے 76 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل 20 پیسے کمی سے116روپے 75 پیسے فی لیٹر ہو گیا، مٹی کا تیل تیرہ پیسے فی لیٹر کمی سے اب 108 روپے لیٹر ہو گیا ہے، ہائی اوکٹین دو روپے سڑسٹھ پیسے فی لیٹر کمی سے141روپے 23 پیسے فی لیٹر ہو گیا۔ جے پی فور کی قیمت میں 93 پیسے فی لیٹر کمی گئی ہے، لائٹ ڈیزل کی قیمت برقرار رکھی گئی ہے۔ ذرایع کے مطابق پٹرول 2.48 روپے فی لیٹر سستا کرنے کی سفارش کی گئی تھی، تاہم حکومت نے صرف اڑتالیس پیسے فی لیٹرقیمت کم کی ہے۔جے پی ون سات پیسے سستا کر دیا گیا ہے۔ جے پی آٹھ کی قیمت میں سات پیسے اور ای ٹین فیول کے نرخوں میں اڑتالیس پیسے کمی کی گئی ہے۔ ادھر بھارت میں پٹرول کی قیمت سوا روپے فی لیٹر کم کردی گئی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں پچاس پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو چند پیسوں کی کمی کی گئی ہے' عام صارف کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا بلکہ یوں کہا جا سکتا ہے کہ حکومت نے تیل کی قیمتوں کو جوں کا توں رکھا ہے۔ پاکستان میں یہ روایت پختہ ہو گئی ہے کہ تیل کی قیمت جب کم کرنا ہو تو حکومت بہت محتاط ہو کر فیصلہ کرتی ہے، اس کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنا زیادہ سے زیادہ فائدہ سوچے اور عوام کو کم سے کم ریلیف ملے اور جب قیمتیں بڑھانے کا معاملہ ہو تو احتیاط کا دامن چھوڑ دیا جاتا ہے۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کم ہوتی ہے اور حکومت ملک میں تیل کے نرخ بڑھا دیتی ہے۔ایسا بھی ہوتا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ایک روپے بڑھتی ہے تو ملک میں اس کے نرخ چار یا پانچ روپے بڑھ جاتے ہیں۔اسی طرح اگر عالمی منڈی میں پانچ روپے کمی ہوتی ہے تو پاکستان میں چند پیسے کم کردی جاتی ہے۔یہ طرز عمل عوام کے ساتھ زیادتی کے زمرے میں آتا ہے۔

انھی سطور میں کئی بار یہ تجویز دی جا چکی ہے کہ پاکستان کی معیشت کو استحکام دینے کے لیے تیل کی قیمتیں سالانہ بنیاد پر طے ہونی چاہئیں۔ماضی میں ایسا ہی ہوتا تھا، سالانہ بجٹ میں تیل کی قیمت بھی طے کردی جاتی تھی۔ یوں سارا سال تیل کی قیمتوں میں استحکام رہتا تھا۔یہی طریقہ کار اب بھی اپنایا جانا چاہیے، اس سے فائدہ ہو گا کہ ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات میں اضافہ نہیں ہو گا۔ معیشت کے دوسرے شعبوں پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اگر حکومت موجودہ سسٹم کو ہی برقرار رکھنا چاہتی ہے تو پھر انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں ہونے والے اتار چڑھائو کے مطابق ملک میں تیل کی قیمتوں ردوبدل کیا جائے' عالمی منڈی میں پٹرول جتناسستا ہوتا ہے تو اس تناسب سے ملک میں سستا کیا جانا چاہیے تاکہ عوام کو احساس ہو کہ حکومت ان کا ساتھ دھوکہ نہیں کر رہی۔

موجودہ طریقہ کار سے حکومت کو فائدہ ہوتا ہے یا پٹرول پمپ مالکان کو لیکن عوام سراسر خسارے میں رہتے ہیں۔یہاں یہ بات کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ تیل کی قیمت بڑھنے سے ٹرانسپورٹ کے نرخوں میں اضافہ ہو جاتا ہے جس کا اثر تمام اشیائے ضرورت پر پڑتا ہے کیونکہ ان کی نقل و حمل مہنگی کر دی جاتی ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ تیل کی قیمت میں اضافے کے بعد ٹرانسپورٹر کرایوں میں من مانا اضافے کرتے ہیں جن کی تیل کی قیمت میں اضافے سے کوئی نسبت نہیں ہوتی۔ یہی حال تاجروں کا ہے جو ٹرانسپورٹ کے نرخوں میں اضافے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی اشیاء کی قیمتیں من مانے انداز سے بڑھا دیتے ہیں۔گویا اس اعتبار سے عوام پر دہرا تہرا بوجھ پڑ جاتا ہے۔ ارباب اختیار کو عام لوگوں کا کچھ تو خیال کرنا چاہیے۔