بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے الرجی کیوں

سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات میںکسی قسم کی تاخیرکو مستردکرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاہی نہ ہونے کا بہانہ کرکے...


Editorial November 05, 2013
سیاہی نہ ہونے کا بہانہ کرکے بلدیاتی انتخابات کو ٹالا نہیں جاسکتا، سپریم کورٹ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات میںکسی قسم کی تاخیرکو مستردکرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاہی نہ ہونے کا بہانہ کرکے بلدیاتی انتخابات کو ٹالا نہیں جاسکتا، سیاہی اورکاغذ کی خریداری سپریم کورٹ کا درد سر نہیں، حد بندیاں ہوتی رہیں گی، جائیں اور جا کر انتخابات کرائیں، اگر حکم پر عمل نہ کیا تو نتائج اچھے نہیں نکلیں گے ۔اس حکم کے بعد الیکشن کمیشن ،وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت تمام متعلقہ اداروں کواپنی سمت درست کرنی چاہیے کیونکہ لگ یہی رہا ہے کہ بلدیاتی الیکشن مقناطیسی سیاہی یا حدبندیون کی عدم تکمیل کے باعث موخر ہر گز نہیں ہونگے ۔ سوال یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات سے حکومتیں اس قدر الرجک کیوں ہیں،کیا حکمرانی کے جدید تصورات کی روشنی میں مقامی سطح پر اخیارات کی منتقلی اتنا ناپسندیدہ کام ہے کہ سپریم کورٹ سے انتخابات کے انعقاد سے گریز کی معذرت و تاویلات میں وقت ضایع کیا جائے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے متفرق درخواست پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ صوبوں نے حلقہ بندیوںکا عمل مکمل نہیں کیا جب کہ بیلٹ پیپرز اور مقناطیسی سیاہی کی تیاری کا عمل بھی پورا نہیں ہوسکا لہٰذا بیلٹ پیپرز اور مقناطیسی سیاہی کی تیاری کے لیے4 ماہ کی مہلت دی جائے۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن کے مطابق صوبوں نے حد بندیوںکی تفصیلات کمیشن کو جمع نہیںکرائیں اور نہ ہی ووٹنگ سیاہی منگوا سکی ہے، اس صورت میں بلدیاتی انتخابات کرانا مشکل ہیں۔

ادھر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ چاروں صوبوں نے بلدیاتی انتخابات بارے قانون بنالیا ہے صرف کنٹونمنٹ بورڈز اور اسلام آبادکے لیے قانون سازی حتمی مراحل میں ہے ۔اصولی بات تو یہ ہے کہ بلدیاتی الیکشن آئین کی ضرورت کے مطابق جلد سے جلد کرانے چاہئیں ، سیاہی ،بیلٹ پیپر اور حلقہ بندیون کے معاملات کو الیکشن کے التواء یا اس میں تاخیر کا بہانہ نہ بنایا جائے۔بلدیاتی الیکشن ہوں گے تو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کاکافی سے زیادہ درد سر از خود کم ہوسکتا ہے جب کہ مستقبل کے رہنما اسی بلدیاتی زینہ سے ہوتے ہوئے قومی تعمیر نو میں اپنا کردار بڑے ایوانوں میں ادا کرنے کے بھی قابل ہوسکیں گے۔