ملکی معاشی اور سماجی صورتحال توجہ طلب

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے تاپی گیس پائپ لائن منصوبے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کو ٹرانزیکشن ایڈوائزر مقرر...


Editorial November 14, 2013
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بنیادی شرح سود 9.5فیصد سے بڑھا کر 10فیصد مقرر کردی ہے۔ فوٹو: فائل

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے تاپی گیس پائپ لائن منصوبے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کو ٹرانزیکشن ایڈوائزر مقررکرنے کی منظوری دے دی ۔کمیٹی کا اجلاس بدھ کو وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈارکی زیر صدارت ہوا۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ قابل اعتماد مالیاتی ادارے کی ٹرانزیکشن ایڈوائزر کی حیثیت سے شمولیت کے باعث منصوبے میں وسیع تر شفافیت کے حوالے سے جو کچھ کہا ہے وہ خوش آیند ہے تاہم اسے عملی حیثیت دینے کے لیے ٹھوس اقدامات ضروری ہیں، ملک کو گیس کے بحران سے نکالنے کے لیے شفاف منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ کمیٹی کو مہنگائی اور سبزیوں کی ہوشربا قیمتوں کو کنٹرول کا میکنزم وضع کرنے کی ہدایت بھی دینی چاہیے۔

ادھر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بنیادی شرح سود 9.5فیصد سے بڑھا کر 10فیصد مقرر کردی ہے اور ملکی اقتصادیات کے بارے میںجو مالیاتی تجزیہ جاری کیا ہے وہ چشم کشا ہے جس پر ہمارے اقتصادی اور معاشی ماہرین کو سنجیدگی سے غور و فکر کرنا چاہیے، اسٹیٹ بینک کے مطابق شرح سود نہ بڑھانے کی صورت میں مہنگائی میں اضافے سے قرض لینے کی ترغیب بڑھ جائے گی اور بچت کی حوصلہ شکنی ہو گی، سرمایہ کاری اور پیداواری استعداد گھٹ سکتی ہے۔ مانیٹری پالیسی بیان میں کہا کہ بیرونی شعبے کے حوالے سے معاشی استحکام کی دشواریاں برقرار ہیں تاہم حالیہ پالیسی اور اصلاحی اقدامات کے پس منظر میں آیندہ معیشت کی مبادیات مستحکم معلوم ہوتی ہیں، بڑھتی ہوئی گرانی سے قطع نظر کامیاب سیاسی تبدیلی اور توانائی سے متعلق گردشی قرضے کے تصفیے کے نتیجے میں معاشی بحالی کے امکانات حوصلہ افزا ہیں ۔

یہ اقتصادی اور مالیاتی حقائق مزید ٹھوس معاشی ترجیحات کے متقاضی ہیں جب کہ اسلام آباد میں سارک ایوان صنعت و تجارت کے نمایندوں کا اجلاس ہوا ، ماہرین نے اچھی تجاویز دیں اور واضح کیا کہ سارک ممالک میں تجارتی تعلقات میں کمی کی بڑی وجہ انفرا اسٹرکچر اور کمیونی کیشن کا خراب نظام ہے ،خطے میںقیام امن اور غربت میں کمی کے لیے پاکستان اور بھارت کو اہم کردار ادا کرنا ہو گا۔ ادھرعالمی ادارہ صحت نے حیران کن انکشاف کیا ہے کہ شام میں 22 میں سے 13بچوں میں پولیووائرس پاکستان سے شام منتقل ہوا تھا جو اب مشرق وسطیٰ میں پھیل رہاہے اور مصر سمیت پورے یورپ کوخطرہ لاحق ہوگیا ہے۔صحت کے حکام کو پولیو وائرس کے حوالے سے اس الزام کی مکمل تحقیقات اور احتیاطی تدابیر بھی کرنی چاہئیں تاکہ عالمی ادارہ صحت کو پاکستان سے قطعی طور پر کسی قسم کی کوئی شکایت نہ ہو۔ڈینگی اور پولیو وائرس نے قومی صحت و شہریوں کے اعصاب پر مہلک اثرات مرتب کیے ہیں جو ارباب اختیار کی فوری توجہ کے مستحق ہیں ۔