پرویزمشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ

فریق مخالف کوبھی اپنا موقف بیان کرنے کی پوری آزادی ہونی چاہیے تاکہ انصاف کے تقاضے صحیح معنوں میں پورے ہوتے نظر آئیں


Editorial November 19, 2013
فریق مخالف کو بھی اپنا موقف بیان کرنے کی پوری آزادی ہونی چاہیے تاکہ انصاف کے تقاضے صحیح معنوں میں پورے ہوتے نظر آئیں۔ فوٹو: فائل

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی ہدایت کی روشنی میں ملک کی پانچوں ہائیکورٹس نے اگلے روز جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کے لیے خصوصی عدالت کے لیے نامزدگیاں عدالت عظمیٰ کو بھجوا دی ہیں۔ سپریم کورٹ نے ان پانچ ناموں کا پینل بنا کر حکومت بھجوا دیا ہے اور حکومت سے کہا ہے کہ وہ خود تین ناموں کا انتخاب کرے' یوں اسپیشل ٹربیونل کے قیام کے لیے ایک مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔

سابق آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت آئین کی پامالی ،ججوں کی معزولی اور انھیں قید کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔ پاکستان میں آئین ایک بار نہیں بلکہ کئی بار پامال کیا گیا ہے' ایوب خان ہوں' یحییٰ خان ہوں' ضیاء الحق ہو یا جنرل (ر) پرویز مشرف سب آئین توڑ کر یا معطل کر کے برسراقتدار آئے تھے۔

پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری جو مقدمہ چلانے کی تیاری ہو رہی ہے' یہ 12 اکتوبر1999 کے اقدام کے خلاف نہیں ہے بلکہ 3 نومبر 2007 کے ایمرجنسی پلس کے فیصلے کے خلاف ہے' ڈکٹیروں اور آمروں نے وطن عزیز کو جو نقصان پہنچایا ہے' وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے' موجودہ حکومت اگر آئین شکنی کے ذمے دار آمر کے خلاف قانونی و آئینی کارروائی کرنا چاہتی ہے تو یہ ایک اچھی روایت ہو گی تاہم اس کے لیے یہ بھی ہونا چاہیے تھا کہ 12 اکتوبر 99ء اور 5جولائی 77ء کے مارشل لاء کے بارے میں بھی فیصلہ کر لیا جاتا' اس طریقے سے انصاف کے تقاضے زیادہ بہتر طریقے سے پورے کیے جا سکتے تھے، پھر بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ حکومت جو کچھ کرنے جا رہی ہے' وہ آئین کے عین مطابق ہے اور عدالت کا فیصلہ بھی آئین کے مطابق ہی ہو گا' اس لیے فریق مخالف کو بھی اپنا موقف بیان کرنے کی پوری آزادی ہونی چاہیے تاکہ انصاف کے تقاضے صحیح معنوں میں پورے ہوتے نظر آئیں۔