سانحہ راولپنڈی اور حکومت کی ذمے داری

حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ سانحہ راولپنڈی کے ذمے دار مجرموں کی سرکوبی کے لیے ہر ممکن اقدام کرے


Editorial November 19, 2013
حکومت پنجاب نے راولپنڈی میں امن و امان قائم کرنے کے ذمے دار اعلیٰ افسروں کو بھی معطل کر دیا ۔ فوٹو : فائل

لاہور: سانحہ راولپنڈی کے بعد ملک کے کئی شہروں میں احتجاج ہوا لیکن اس احتجاج کی آڑ میں شر پسند عناصر نے حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گھیراؤ جلاؤ اور ہنگامہ آرائی کی'جس سے امن وامان کی صورتحال پیدا ہوئی ۔ اگلے روز خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں دو گروپوں کے درمیان تصادم میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی، جس کے باعث 2 پولیس اہلکاروں سمیت 3 افراد جاں بحق اور دو زخمی ہوگئے۔ اس واقعے کے بعد شہر میں کشیدگی پھیل گئی اور مشتعل افراد نے درجنوں دکانوں کو آگ لگا دی۔ کوہاٹ میں پرتشدد واقعات کے بعد اس سے ملحقہ ضلع ہنگو میں بھی کشیدگی پھیل گئی اور شہر کے تمام بازار بند کرا دیے گئے۔

سانحہ راولپنڈی کے خلاف بٹ گرام، نوشہرہ، چلاس میں مظاہرے کیے گئے اور ریلیاں نکالی گئیں، اخباری اطلاعات کے مطابق چلاس میں شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی۔ ادھر راولپنڈی میں پیر کو کرفیو اٹھانے کے چند گھنٹے بعد ہی شہر میں مشتعل افراد کے احتجاجی مظاہروں سے صورتحال دوبارہ کشیدہ ہو گئی۔ مظاہرین نے شہر کے تمام بڑے بازار بند کرا دیے، دکانوں اور گاڑیوں پر شدید پتھراؤ اور توڑ پھوڑ کے بعد پولیس کی اضافی نفری طلب کر لی گئی۔ حکومت نے سانحہ راولپنڈی کے ذمے داروں کے تعین اور وجوہات جاننے کے لیے ہائیکورٹ کے جج کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن قائم کر دیا ہے' حکومت پنجاب نے راولپنڈی میں امن و امان قائم کرنے کے ذمے دار اعلیٰ افسروں کو بھی معطل کر دیا ہے اور پولیس شرپسندوں کو پکڑنے کے لیے کارروائی بھی کر رہی ہے۔

ایسی صورت میں مذہبی جماعتوں اور شخصیات پر یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں' ان کشیدہ حالات میں احتجاجی جلسے و جلوس نکالنا' بہتر نتائج کا حامل نہیں ہو سکتا' جلوسوں کی آڑ میں شرپسند عناصر اپنا کھیل کھیلنا شروع کر دیتے ہیں' اس کا مظاہرہ راولپنڈی ،ملتان' کوہاٹ اور ہنگو میں کیا گیا۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ سانحہ راولپنڈی کے ذمے دار مجرموں کی سرکوبی کے لیے ہر ممکن اقدام کرے اور انھیں احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ عوام کو پتہ چل سکے کہ حکومت شرپسندوں کو کچلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔