سرتاج عزیز کی بریفنگ اور ڈرون حملہ

ضلع ہنگو کی تحصیل ٹل بازار میں امریکی ڈرون حملہ کے بعد صورتحال خاصی گمبھیر ہوگئی ہے۔۔۔


Editorial November 21, 2013
ڈرون حملہ میں 3 اساتذہ سمیت 5طالب علم جاں بحق اور 8 سے زائد زخمی ہوئے۔ فوٹو: اے ایف پی

HAMBURG: ضلع ہنگو کی تحصیل ٹل بازار میں امریکی ڈرون حملہ کے بعد صورتحال خاصی گمبھیر ہوگئی ہے ، پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس حملہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی سالمیت اور خود مختاری کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے جب کہ سیاسی و مذہبی جماعتوں کی طرف سے شدید غم وغصہ کا اظہار کیا جارہا ہے۔حیرت ناک امر یہ ہے کہ بدھ کو وزیر اعظم کے مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز نے سینٹ کمیٹی کوایک بریفنگ میں بتایا کیاکہ نیٹو سپلائی پر معاہدہ ہے اور ہم یہ سپلائی روک نہیں سکتے، امریکی حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا عمل شروع کیا گیا تو مذاکرات کے دوران ڈرون حملے نہیں کیے جائیں گے ۔

تاہم ان کے بریفنگ کے کچھ ہی گھنٹوں بعد ہنگو کی تحصیل ٹل کے بندوبستی علاقہ میں جمعرات کو صبح 5 بجے ایک مدرسہ پرتین میزائل فائر کیے گئے، واضح رہے یہ تشویش ناک حملہ فاٹا کے علاقے میں نہیں ہوا۔ ڈرون حملہ میں 3 اساتذہ سمیت 5طالب علم جاں بحق اور 8 سے زائد زخمی ہوئے ، ہلاک شدگان کی تعداد بڑھنے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے ،علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ سپن ٹل میں 4 دھماکے ہوئے جب کہ متعدد ڈرون نچلی پروازیں کرتے رہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قوم کس کی بات کا یقین کرے۔امریکا کا یا سرتاج عزیز کا ، ادھر تحریک پاکستان نے سر تاج عزیز کے استدلال کو مسترد کردیا اور ڈرون حملہ کے خلاف خیبر پختونخوا کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا، سرتاج عزیز نے کہا کہ صدر اوباما کے سامنے ڈرون حملوں کا معاملہ اٹھایا تھا جس پر ان کا کہنا تھا کہ حکیم اﷲ محسود پہلے سے امریکا کی ہٹ لسٹ پر تھا، ان پر ڈرون حملے کی ٹائمنگ بدقسمت رہی جب کہ سرتاج عزیز کی بریفنگ اس سے بھی زیادہ بدنصیبی کی علامت ثابت ہوئی ، امریکی ڈرون حملہ بلاشبہ پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری کے خلاف اور اوباما انتظامیہ کی گن بوٹ پالیسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

واضح رہے امریکا کی قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس نے گزشتہ روز کہا کہ امریکا افغانستان میں گذشتہ بارہ سال کے دوران کی گئی غلطیوں پر معافی نہیں مانگے گا۔ اب کیا باقی رہ گیا۔کیا ارباب اختیار امریکا کی یقین دہانیوں کو رد کرتے ہوئے خطے کی تیزی سے ہولناک ہوتی ہوئی صورتحال کے درست ادراک اور مناسب تدابیراختیار کرنے میں مزید وقت لیں گے جب کہ تازہ ڈرون حملہ واضح امریکی توسیعی پیغام ہے کہ وہ اس کادیگر علاقوں میں تسلسل جاری رکھنے پر مصر ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت عوام کے شدید رد عمل کے پیش نظر امریکا سے ڈرون حملے فی الفور روکنے کی دو ٹوک بات کرے اور ملکی سالمیت اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے وہی کچھ کرے جو خوددار اور باوقار قوموں کا شیوہ ہوا کرتا ہے۔