چیف جسٹس کو خود انصاف ملا تو مجھے بھول گئے مختاراں مائی

بھارتی ریاست بنگال میں لڑکی کے ساتھ پنچایت کے فیصلے کے تحت اجتماعی زیادتی کی خبر سن کر زخم تازہ ہو گئے،مختاراں مائی


این این آئی January 26, 2014
سابق چیف جسٹس مجھے کہا کرتے تھے بیٹا میں بھی انصاف کے لئے سڑکوں پر ہوں، مختاراں مائی فوٹو: فائل

KARACHI: خواتین کی تعلیم اور ان کے حقوق کی سرگرم کارکن مختاراں مائی نے کہا ہے کہ بھارت ہو یا پاکستان، تھانہ کلچر دراصل وڈیرہ کلچر ہے۔

بھارت کی ریاست بنگال میں لڑکی کے ساتھ پنچایت کے فیصلے کے تحت اجتماعی زیادتی کی خبر سن کر اپنے زخم تازہ ہو گئے، مجھے انصاف ملا نہ بھارتی لڑکی کو انصاف ملے گا۔ ایک انٹرویو کے دوران مختاراں مائی نے عدالتی کارروائی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ سابق چیف جسٹس مجھے کہا کرتے تھے بیٹا میں بھی انصاف کے لئے سڑکوں پر ہوں، آپ بھی سڑکوں پر ہو، انشا اللہ مجھے بھی انصاف ملے گا آپ کو بھی انصاف ملے گا، جب خود ان کو انصاف مل گیا تووہ غریب مختاراں بھول گئے۔

مختاراں مائی نے آبدیدہ ہوتے ہوئے بتایا کہ 12سال گزر گئے جب سے ان کے ساتھ یہ وحشت ناک واقعہ پیش آیا وہ آج تک اپنی نیند نہیں سو سکی ہیں اور انھیں سونے کیلیے نیند کی گولیوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ آج بھی گھر والوں سے چھپ کر گھنٹوں روتی رہتی ہیں۔انھوں نے بھارت کی متاثرہ لڑکی کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ حوصلہ نہ ہارنا اپنی آواز نہ دبانا اور خود کو مضبوط

مقبول خبریں