پاکستان سے گرفتار ہوکر گوانتاناموبے میں 23 سال سے قید؛ برطانیہ نے زرتلافی ادا کردیا

ابو زبیدہ کو 2002 میں فیصل آباد سے گرفتار کرکے دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ اسامہ بن لادن کا ساتھی تھا


ویب ڈیسک January 12, 2026

برطانوی حکومت نے پاکستان سے گرفتار ہوکر 23 برسوں سے تاحال گوانتاناموبے میں بے گناہ قید کاٹنے والے فلسطینی نژاد ابو زبیدہ کو زرِتلافی کے طور پر بھاری رقم ادا کردی۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ ادائیگی ابو زبیدہ کی جانب سے برطانوی حکومت کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے کے نتیجے میں کی گئی۔

مقدمے میں ابو زبیدہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ میری 23 سال سے تاحال جاری غیر قانونی حراست اور تشدد میں برطانوی اداروں نے بھی بالواسطہ کردار ادا کیا تھا۔

اگرچہ معاوضے کی درست رقم ظاہر نہیں کی گئی تاہم ابو زبیدہ کی وکیل کا کہنا ہے کہ یہ رقم خاصی بڑی ہے اور اس کی ادائیگی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

ابو زبیدہ کون ہیں؟

ابو زبیدہ کا اصل نام زین العابدین محمد حسین ہے۔ وہ فلسطینی نژاد ہیں اور 2000 کی دہائی کے آغاز میں امریکا نے ان پر القاعدہ کا سینئر رہنما اور اسامہ بن لادن کا قریبی ساتھی ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔

تاہم بعد ازاں امریکی حکومت خود اس دعوے سے دستبردار ہو چکی ہے کہ ابو زبیدہ القاعدہ کی اعلیٰ قیادت کا حصہ تھے۔

انھیں مارچ 2002 میں فیصل آباد میں ایک چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن تھا۔

ابو زبیدہ کی گرفتاری کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اُس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے خود ان کی گرفتاری کا اعلان کیا اور القاعدہ کا اہم رہنما قرار دیا۔

2002 میں گرفتاری کے بعد سے ابو زبیدہ کو سی آئی اے کی مختلف خفیہ جیلوں (Black Sites) میں 2006 تک رکھا گیا جہاں امریکی عدالتی نظام کا اطلاق نہیں ہوتا تھا۔

اس دوران ابو زبیدہ کو 11 دن تک تابوت نما ڈبے میں بند رکھا گیا، 83 مرتبہ واٹر بورڈنگ کا نشانہ بنایا گیا، سونے نہیں دیا گیا اور اتنا تشدد کیا گیا کہ ایک آنکھ ضائع ہوگئی۔

ان تمام تر تشدد کے باوجود نہ اعترافی بیان ملا اور نہ کوئی ٹھوس ثبوت ہاتھ آیا۔ اس کے باوجود 2006 میں گوانتانامو منتقل کردیا گیا۔

جہاں وہ تاحال قید ہیں اور ان پر آج تک کسی عدالت میں باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکی۔

2010 کے بعد سے ان سوالات سے سر اُٹھانا شروع کردیا کہ ابوزبیدہ کو آخر کیوں حراست میں رکھا گیا ہے۔

امریکی حکومت نے بھی بتدریج تسلیم کرنا شروع کردیا کہ ابو زبیدہ القاعدہ کے سینئر رہنما نہیں تھے۔

2015–2023 – برطانیہ میں تحقیقات

برطانوی پارلیمانی کمیٹی نے یہ جانچ کی کہ آیا برطانوی خفیہ ادارے (MI5 / MI6) ابو زبیدہ سے تفتیش میں بالواسطہ طور پر شامل رہے۔

کمیٹی نے انکشاف کیا کہ برطانوی اداروں نے سی آئی اے کو ہی یہ معلومات فراہم کی تھیں جس سے ابو زبیدہ پر تشدد میں اضافہ ہوا۔

2024–2026 مقدمہ اور زرِتلافی

برطانوی کمیٹی کی جانچ کے بعد ابو زبیدہ نے اپنے وکلاء کے ذریعے برطانوی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کیا اور آج برطانوی حکومت نے عدالتی کارروائی کے بغیر تصفیہ کرتے ہوئے زرِتلافی ادا کر دی۔

یاد رہے کہ زر تلافی کی رقم ملنے کے باوجود تاحال ابو زبیدہ امریکی حراست میں ہیں اور گوانتاناموبے میں ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ زر تلافی کی یہ رقم 3 سے 10 ملین پاؤنڈز تک ہوسکتی ہے۔

 

 

 

مقبول خبریں