تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کا نشہ سر چڑھ کر بولتا ہے اور کمزور پر غالب آنے کی خواہش اسے مہمیز کرتی ہے۔ حکمرانی کا تاج سر پر سجا اور طاقت کو ہتھیار بنا کر دوسروں پر اپنی برتری اور اجارہ داری قائم کر کے انھیں اپنا دست نگر بنانے اور اپنی مرضی اور طلب کے مطابق اپنے اشاروں کٹھ پتلی بنائے رکھنا جابر اور غاصب حکمرانوں کا وتیرہ رہا ہے۔
ایسے ظالم، مغرور، ضدی، گھمنڈی اور بدمست حاکموں نے دنیا کو جنگوں، تباہیوں اور بربادیوں سے دوچارکیا، امن کو تہس نہس کیا اور علاقائی و عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا دیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی طاقت کے زعم میں آج کل اسی راستے پر چل رہے ہیں۔ ان کے حکم پر گزشتہ دنوں وینزویلا پر حملہ کرکے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرکے امریکا لایا گیا اور اب ان کے خلاف منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ اس خوش فہمی میں تھے کہ وینزویلا کے عوام ان کے اقدام کی حمایت کریں گے، لیکن نتیجہ ٹرمپ کی خواہش کے برعکس نکلا۔ وینزویلا کے لوگ سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں اور سابق صدر کی حمایت میں مظاہرے کر رہے ہیں۔
صدر نکولس کو جس انداز میں گرفتار کرکے مقدمہ چلایا جا رہا ہے، اس سے عوام میں ان کی ہمدردی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف نیچے جا رہا ہے۔ وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر قبضے اور وینزویلا کا حکومتی انتظام اپنے ہاتھ میں لینے کی خواہش پوری ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ غالباً اسی باعث وینزویلا پر دوسرا امریکی آپریشن صدر ٹرمپ نے ملتوی کر دیا ہے۔ تاہم ان کی یہ خواہش برقرار ہے کہ امریکا وینزویلا پر مکمل کنٹرول حاصل کر کے وہاں تیل و گیس کے ذخائر کو اپنے قبضے میں لے کر ان سے فائدہ اٹھائے۔
صدر ٹرمپ کی ایران، میکسیکو، کولمبیا، کیوبا، گرین لینڈ، ڈنمارک سمیت دیگر ممالک پر حملے کی دھمکیاں بھی منظر عام پر آ چکی ہیں اور اب ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے انھوں نے دو ٹوک الفاظ میں یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی فوج کو دنیا بھر میں کسی بھی ملک پر حملے کا حکم دے سکتے ہیں، اس حوالے سے وہ کسی بھی عالمی قوانین کے پابند نہیں ہیں۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ دنوں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ اپنے ملک کے کمانڈر انچیف ہیں۔
مجھے کوئی روک نہیں سکتا، کسی بھی ملک پر حملہ کرنے کا فیصلہ وہ اپنے طے کردہ اخلاقیات کے اصول اور اپنی سوچ سے لیتے ہیں، انھیں کسی اور کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ واحد چیز جو مجھے روک سکتی ہے وہ میری اپنی اخلاقیات اور میرا اپنا دماغ ہے، امریکا اپنی طاقت کو منافع اور سیاسی بالادستی کے لیے استعمال کرنے کا پورا حق رکھتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مذکورہ انٹرویو نے پوری دنیا میں کھلبلی مچا دی ہے اور انھیں نہ صرف اپنے وطن بلکہ عالمی سطح پر بھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جرمنی کے صدر فرینک والٹراسٹین نے امریکی صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکی خارجہ پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکا موجودہ عالمی نظام کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو اس بات سے بچانا ہوگا کہ طاقتور ممالک اپنے مفادات کے لیے عالمی نظام کو لٹیروں کے اڈے میں تبدیل کر دیں، کمزور ممالک کے حقوق کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ڈنمارک کے وزیر دفاع نے بھی امریکا کو خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ پر حملے کی صورت میں گولی پہلے ماریں گے اور سوال بعد میں پوچھیں گے۔
دوسری جانب یورپی ممالک نے بھی گرین لینڈ پر امریکی حملے کی صورت میں پیدا ہونے والی امکانی صورت حال سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی مرتب کرنا شروع کر دی ہے۔ یورپی یونین کے اندر بعض حلقوں کی جانب سے امریکی انتظامیہ کے سربراہ کے ساتھ براہ راست تصادم کے لیے تیار رہنے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ نیٹو ممالک نے بھی دفاعی اخراجات میں اضافے، فوجی ساز و سامان کی تعیناتی اور فوجی مشقیں تیز کرنے کی بھی تجاویز دی ہیں۔ صدر ٹرمپ کو اپنے ملک کے اندر مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خود ان کی اپنی جماعت ری پبلکن کے کئی سینیٹرز نے وینزویلا پر امریکی حملے کی سخت مخالفت کی ہے، امریکا میں عوامی سطح پر بھی صدر ٹرمپ کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔
یوں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ صدر ٹرمپ جوں جوں اپنی عالمی طاقت کے زعم میں دوسرے مخالف ملکوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکیاں دینے اور عالمی قوانین کو پامال کرنے کے نت نئے اعلانات کرتے ہیں تو انھیں نہ صرف اپنے ملک اور اپنی جماعت کے اندر مخاصمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر صدر ٹرمپ کے جارحانہ عزائم اور ممکنہ فوجی اقدام کے خلاف ایک محاذ بنتا دکھائی دے رہا ہے جو دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ اقوام متحدہ، او آئی سی اور چین، روس، برطانیہ، فرانس سمیت عالمی رہنماؤں کو دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔