طالبان حکومت نے پہلی مرتبہ بھارت میں اپنا اعلیٰ سفارتی نمائندہ مقرر کر دیا

افغان سفارت خانے کے مطابق نور احمد نور نے ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد بھارتی حکام سے ملاقاتیں بھی کی ہیں


ویب ڈیسک January 13, 2026

افغانستان میں طالبان حکومت نے پہلی مرتبہ بھارت میں اپنا اعلیٰ سفارتی نمائندہ مقرر کر دیا ہے۔

طالبان کی جانب سے نور احمد نور کو نئی دہلی میں افغان سفارت خانے کا ناظم الامور (Charge d’Affaires) مقرر کیا گیا ہے، جو 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت میں تعینات ہونے والے پہلے سینئر طالبان عہدیدار ہیں۔

اگرچہ بھارت نے اب تک طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا، تاہم اس تقرری کو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطوں کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ بھارت اس پیش رفت کو اسلام آباد اور کابل کے درمیان موجود اختلافات کے تناظر میں ایک سفارتی موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

افغان سفارت خانے کے مطابق نور احمد نور نے ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد بھارتی حکام سے ملاقاتیں بھی کی ہیں۔ سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ دونوں فریقین نے افغانستان اور بھارت کے تعلقات کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

افغان سفارت خانے نے نور احمد نور کی بھارتی وزارتِ خارجہ کے سینئر عہدیدار آنند پرکاش کے ساتھ ایک تصویر بھی جاری کی، تاہم بھارتی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

طالبان کی اسلامی قانون کی سخت تشریح بظاہر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت سے متضاد نظر آتی ہے، اس کے باوجود بھارت نے اس سفارتی خلا کو پُر کرنے کی کوشش کی ہے۔

یہ تقرری طالبان کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ وہ عالمی سطح پر اپنی حکومت کو تسلیم کرانے اور بیرونِ ملک افغان سفارتی مشنز پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

واضح رہے کہ اکتوبر میں بھارت نے اعلان کیا تھا کہ وہ افغانستان میں اپنے تکنیکی مشن کو مکمل سفارت خانے میں تبدیل کرے گا، جبکہ اب تک روس واحد ملک ہے جس نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔

مقبول خبریں