پاکستان کی آبادی میں اضافے کی موجودہ صورتحال ایک خاموش بحران کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ 2017 میں پاکستان کی آبادی 207.68 ملین تھی جو محض 6 سال کے قلیل عرصے میں بڑھ کر 2023 میں 241.5 ملین تک پہنچ چکی ہے۔
آبادی میں اضافے کی یہ شرح 2.55 فیصد ہے جو نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے کئی ترقی پذیر ممالک سے کہیں زیادہ ہے۔ اگر اضافے کی یہی رفتار برقرار رہی تو ماہرینِ عمرانیات کو خدشہ ہے کہ 2050 تک پاکستان کی آبادی موجودہ حجم سے دگنی ہوجائے گی۔
یہ کوئی اچانک پیدا ہونے والا مسئلہ نہیں بلکہ یہ دہائیوں کی اس غفلت کا نتیجہ ہے جس کے تحت ہم نے آبادی کے مسئلے کو قومی سلامتی کا مسئلہ تسلیم نہیں کیا۔ آج پاکستان دنیا کے پانچ بڑے آبادی والے ممالک میں شامل ہوچکا ہے، جہاں وسائل محدود اور ضرورت مندوں کی تعداد زیادہ ہے۔
پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں تقریباً ہر دورِ حکومت میں ہی آبادی پر قابو پانے کے حوالے سے مختلف مہمات چلائی گئیں، دلکش سلوگنز اور نعرے وضع کیے گئے، لیکن ان مہمات کا اثر برائے نام رہا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ حکومتوں نے کبھی بھی آبادی کو ایک سنجیدہ وجودی خطرے کے طور پر نہیں لیا۔ ان مہمات میں تسلسل کی کمی اور سیاسی ترجیحات کا نہ ہونا خاطر خواہ نتائج حاصل کرنے میں رکاوٹ بنا رہا۔ آج آبادی کا مسئلہ میڈیا کے ٹاک شوز، مذہبی مباحثوں، عوامی حلقوں اور حکومتی ایوانوں میں ایک اہم موضوع بن کر ابھرا ہے۔ یہ تبدیلی خوش آئند ہے کیونکہ آگاہی ہی حل کی پہلی سیڑھی ہے۔
حکومتی سطح پر یہ تسلیم کیا جا رہا ہے کہ بڑھتی آبادی بالکل ویسا ہی چیلنج ہے جیسا کہ موسمیاتی تبدیل۔ چند سال پہلے تک پاکستان میں کلائمیٹ چینج کو ایک عام موسمی معمول سمجھا جاتا تھا، لیکن جب عالمی سطح پر اس کے اثرات واضح ہوئے اور پاکستان کو دنیا کے متاثرہ ترین ممالک میں شمار کیا جانے لگا تو ہماری آنکھیں کھلیں۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی کہ اگر ہم نے فطرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ بند نہ کی اور بڑھتی ہوئی انسانی آبادی کو ماحولیاتی وسائل کے مطابق نہ ڈھالا تو تباہی مقدر بن جائے گی۔ اب حکومت نے کلائمیٹ چینج اور آبادی کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو مسقتبل کے چیلنج قرار دے کر ان پر سنجیدگی سے کام شروع کیا ہے۔
وسائل اور آبادی کے درمیان عدم توازن کا سب سے ہولناک منظر تعلیمی شعبے میں نظر آتا ہے۔ 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق ڈھائی کروڑ سے زائد بچے اس وقت اسکولوں سے باہر ہیں۔ یہ وہ نسل ہے جسے ملک کا بوجھ نہیں بلکہ اثاثہ بننا تھا، لیکن وسائل کی کمی کی وجہ سے یہ بچے اسکول کی دہلیز تک نہیں پہنچ سکے۔ اگر آبادی کی موجودہ شرح جاری رہی تو 2050 تک ان اسکول سے باہر رہنے والے بچوں کی تعداد دگنی ہو جائے گی۔ لیبر فورس سروے کے مطابق 2040 تک پاکستان میں 57 ہزار پرائمری سکولوں کی ضرورت ہو گی۔
پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، جسے ’’ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ‘‘ کہا جا سکتا تھا، لیکن مناسب منصوبہ بندی کے بغیر یہی نوجوان اب ایک چیلنج بن رہے ہیں۔ سال 2025 میں بے روزگار نوجوانوں کی تعداد 2 کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2040 تک ملک کو مزید 10 کروڑ 40 لاکھ نئی نوکریوں کی ضرورت ہو گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری معیشت اتنی وسعت رکھتی ہے کہ وہ ہر سال لاکھوں نئے نوجوانوں کو روزگار فراہم کر سکے؟
پانی زندگی کی بنیاد ہے، لیکن پاکستان اس وقت پانی کی شدید قلت کا شکار ہے۔ ایشین ڈیولپمنٹ بینک کی ’’ایشین واٹر ڈیولپمنٹ آؤٹ لک 2025‘‘ کے مطابق پاکستان کی 80 فیصد سے زیادہ آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔ فی کس پانی کی دستیابی جو کبھی وافر تھی، اب تیزی سے گر کر 1100 مکعب میٹر رہ گئی ہے۔ یہ صورتحال ملک کو ’’واٹر اسٹریس ‘‘ سے نکال کر ’’واٹر اسکارسٹی‘‘ کی طرف لے جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگلے دس سال میں پانی کے انتظام اور گورننس کے لیے 35 سے 42 بلین ڈالر کی ضرورت ہو گی۔ پانی کی کمی نہ صرف زراعت کو تباہ کر رہی ہے بلکہ گندے پانی کے استعمال سے مہلک بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں۔
آبادی کا بوجھ صحت کے ڈھانچے کو بری طرح مفلوج کر چکا ہے۔ نوزائیدہ بچوں کی شرحِ اموات کے حوالے سے پاکستان کا شمار دنیا کے بدترین ممالک میں ہوتا ہے۔ یونیسف کے مطابق ہر ایک ہزار میں سے 62 بچے اپنی پہلی سالگرہ دیکھنے سے پہلے ہی وفات پا جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ 40 فیصد بچے اسٹنٹنگ (قد میں کمی) کا شکار ہیں، 18 فیصد شدید غذائی قلت اور 29 فیصد وزن میں کمی کا شکار ہیں۔ یہ اعداد و شمار ایک ایسے معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں جو اپنے بچوں کو بنیادی خوراک اور صحت دینے سے قاصر ہے۔
وسائل کی کمی کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی آبادی ماحولیات کو بھی نگل رہی ہے۔ شہروں کے پھیلاؤ کے لیے زرعی زمینیں ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں تبدیل ہو رہی ہیں، جنگلات کا صفایا کیا جا رہا ہے اور صنعتوں کا فضلہ آبی ذخائر کو زہر آلود کر رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی ٹریفک اور توانائی کی طلب کی وجہ سے کاربن کے اخراج میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جس سے گلوبل وارمنگ اور اسموگ جیسے مسائل نے جنم لیا ہے۔ اگر آبادی کے پھیلاؤ اور وسائل کے استعمال میں توازن نہ لایا گیا تو پاکستان کا قدرتی ماحولیاتی نظام مکمل طور پر زمین بوس ہو سکتا ہے۔
خوش قسمتی سے اب ریاستی سطح پر اس خطرے کا ادراک کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے حال ہی میں اس بحران کی سنگینی کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان کی آبادی میں ہر سال ایک پورے نیوزی لینڈ کا اضافہ ہو رہا ہے‘‘۔ یہ بیان اس رفتار کو سمجھنے کے لیے کافی ہے جس سے ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ اسی طرح وزیر خزانہ نے آبادی اور موسمیاتی تبدیلی کو پاکستان کے دو بڑے چیلنجز قرار دیتے ہوئے تسلیم کیا کہ آبادی کا دباؤ معاشی استحکام کی راہ میں اہم رکاوٹ ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی آبادی کے عالمی دن کے موقع پر اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کا انتظام عوامی وسائل اور حکمرانی کے نظام پر زبردست دباؤ ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ایک جامع اور حقوق پر مبنی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے، جس میں خاندانی منصوبہ بندی اور صحت کی دیکھ بھال تک مساوی رسائی کو یقینی بنایا جائے گا۔
پاکستان کی بقا کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم کتنی جلدی اپنی آبادی کو اپنے وسائل کے مطابق ڈھالتے ہیں۔ اگر ہم آج بھی خاموش رہے تو آنے والی نسلیں نہ صرف وسائل کی کمی کا شکار ہوں گی بلکہ وہ ایک ایسے بنجر اور آلودہ ماحول میں سانس لینے پر مجبور ہوں گی جہاں زندگی خود ایک بوجھ بن جائے گی۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔