سلامتی کونسل میں ہنگامہ، ایران پر دباؤ کے خلاف روس اور چین امریکا پر برس پڑے

روسی مندوب نے اجلاس کو “سرکس” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس عالمی امن کے لیے ہونا چاہیے تھا


ویب ڈیسک January 16, 2026

نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس اور چین نے امریکا پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایران کے معاملے میں طاقت کے استعمال کی مخالفت کی ہے۔

سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے روسی مندوب نے اجلاس کو “سرکس” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس عالمی امن کے لیے ہونا چاہیے تھا، نہ کہ ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے لیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی قوتیں ایران میں موجودہ صورتحال کو جان بوجھ کر ہوا دے رہی ہیں۔

روسی مندوب نے کہا کہ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی کشیدگی یا تصادم کا خواہاں نہیں، تاہم کسی بھی جارحیت کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی حکومت کے لیے شہریوں اور املاک کا تحفظ اولین ترجیح ہے، جبکہ امریکی بیانات جن میں ایرانی عوام کو اداروں پر قبضے کی ترغیب دی گئی، کسی بھی ملک کی خودمختاری کے خلاف ہیں۔

روسی مندوب کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر اور حکومت کی حمایت میں عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکلی ہے، اور امریکی کارروائی کی صورت میں پورا خطہ مزید بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ روس نے مسائل کے پرامن حل کے لیے تعاون کی پیشکش بھی کی۔

دوسری جانب چینی مندوب نے سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا فوری طور پر ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی کوشش ترک کرے۔ انہوں نے کہا کہ چین دنیا کو “جنگل کے قانون” کی طرف دھکیلنے کے خلاف ہے اور کسی بھی ملک کی سالمیت کے خلاف طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے۔

چینی مندوب نے زور دیا کہ ایران ایک خودمختار ملک ہے اور ایرانی عوام کو اپنے فیصلے خود کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو ایران کو درپیش مسائل کے حل میں مدد کرنی چاہیے اور تمام اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کے مطابق ہونے چاہئیں۔

ادھر چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک گفتگو بھی کی، جس میں انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ایرانی حکومت اور عوام متحد رہیں گے اور موجودہ مشکلات پر قابو پا لیں گے۔

مقبول خبریں