پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن کے لیے پلیئر کی ڈائریکٹ سائننگ، ڈرافٹ یا آکشن سے متعلق فیصلے کی گھڑی آ گئی۔
نمائندہ ’ایکسپریس‘ کو خصوصی انٹرویو میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے سی ای او سلمان نصیر نے کہا کہ اب 8 ٹیموں کے ہوتے ہوئے ریٹینشن کا معاملہ مزید حساس ہو گیا ہے۔
سلمان نصیر کا کہنا تھا کہ موجودہ فرنچائزز 5 یا 6 ریٹینشن چاہتی ہیں جبکہ بعض صفر ریٹینشن کی حامی ہیں، اس حوالے سے گورننگ کونسل کی میٹنگ جمعہ کو طے ہے جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹ سائننگ، ڈرافٹ یا آکشن سمیت تمام آپشنز زیر غور ہیں اور سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث کے باوجود فیصلہ گورننگ کونسل کی میٹنگ میں کیا جائے گا۔
آئی پی ایل کے ساتھ شیڈول کے ٹکراؤ پر سلمان نصیر نے کہا کہ پی ایس ایل شائقین کے لیے یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں کیونکہ وہ اپنی لیگ ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس بار بھی بہترین غیر ملکی کھلاڑی لیگ کا حصہ بنیں گے، بہتر سے بہتر غیر ملکی کرکٹرز لانے کی کوشش کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ پی ایس ایل کے آغاز کے لیے 23 اور 26 مارچ کی تاریخیں زیر غور ہیں۔ عید کی چھٹیاں، لیبر کی دستیابی اور کھلاڑیوں کی ذاتی مصروفیات اس فیصلے میں اہم عوامل ہیں۔
پی ایس ایل کے سی ای او کا کہنا تھا کہ 23 مارچ ایک قومی دن ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ اس موقع کو استعمال کیا جائے، بصورت دیگر 26 مارچ بھی ایک مضبوط آپشن ہے۔
سلمان نصیر نے کہا کہ سرمایہ کاروں کی تعداد 6 سے بڑھ کر 8 ہو جانا پی ایس ایل کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ نئی ٹیموں کی فروخت کے حوالے سے گزشتہ چند ہفتوں سے ہم مسلسل دلچسپی رکھنے والی پارٹیز کے ساتھ رابطے میں رہے، بولی سے قبل روڈ شوز، متعدد ملاقاتیں، مالی فزیبلٹیز اور تفصیلی مشاورت کا عمل جاری رہا، جس کے باعث انتظامیہ کو پہلے ہی اندازہ ہو چکا تھا کہ اس بار بولی غیر معمولی حد تک جائے گی، نتیجہ ریکارڈ ساز رہا جس پر سب مبارکباد کے مستحق ہیں۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے سلمان نصیر نے کہا کہ آسٹریلیا اور امریکا سے تعلق رکھنے والے 2 گروپس بولی کے عمل میں نمایاں رہے تاہم میں نہیں سمجھتا کہ پاکستانی سرمایہ کار کمزور تھے، دراصل ہر کوئی ایک حد مقرر کرتا ہے، پہلے مرحلے میں ہم نے دیکھا کہ کئی کمپنیز انتظار کی پالیسی اپنائے ہوئی تھیں،کچھ نے بالکل بولی نہیں لگائی اور بعض نے ابتداء میں ایک، دو بولیاں دے کر صورتحال کا جائزہ لینا مناسب سمجھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ میری رائے میں ہر ایک کی اپنی حکمت عملی ہوتی ہے، البتہ یہ ضرور ہے کہ جو لوگ غیر ملکی کرنسی میں کمائی کرتے ہیں انہیں ادائیگی پاکستانی روپوں میں کرنے کی وجہ سے ایک ایڈوانٹیج تو حاصل تھا۔