حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تناؤ کی صورتحال میں مذاکرات کی گونج سنائی دے رہی ہے ۔ یہ مذاکرات ہوں گے یا نہیں، مذاکرات کی شرائط کیا ہوں گی، نتیجہ کیا نکلے گا،ملک میں سیاسی استحکام آسکے گا؟ اس طرح کے بیشتر سوالات عوام کے ذہنوں میں گردش کر رہے ہیں جن کے پیش نظر ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک خصوصی مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں سیاسی تجزیہ کاروں کو مدعو کیا گیا۔ ان سے ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر ارم خالد
(ڈین فیکلٹی آف سوشل اینڈ بیہیوئرل سائنسز، جامعہ پنجاب)
اس وقت دنیا بھر میں امن مخالف کاوشیں ہو رہی ہیں اور مختلف ریاستوں کے عوام سمجھتے ہوئے اورکہیں ناسمجھی میں ان کا شکار ہو رہے ہیں۔ وطن عزیز کی بات کریں تو یہاں گزشتہ کچھ عرصے سے تناؤ کی صورتحال ہے جس کی وجہ سے حالات نازک ہیں۔ عالمی ، علاقائی اور داخلی حالات کے پیش نظر ملک کے سنجیدہ حلقوں میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ ہمارے سیاستدان کب سمجھیں گے؟ کب تک ملکی مفادات پر ذاتی مفادات کو ترجیح دی جائے گی؟اگر توجہ طلب معاملات کے بجائے آپس کے اختلافات کو ہی بڑھاوا دیا جائے گا تو عوام کی امنگوں کی ترجمانی کیسے ہوگی؟پاکستان کی عمر 78 برس ہوچکی ہے۔
اب ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ سیکھنے کے مراحل میں ہیں، یہ انتہائی نامناسب ہوگا۔ ہم مختلف تجربات سے گزر چکے ہیں، ہم نے بہت کچھ برداشت کیا ہے لہٰذا سیاسی جماعتوں اور سیاسی قیادت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ اگر وہ واقعی پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ عوام ان پر اعتماد کریں تو انہیں آپسی اختلافات سے گریز کرنا ہوگا۔ اب وقت آن پہنچا ہے کہ سیاستدان مل بیٹھ کر ترجیحات بے کریں۔
انہیں یہ واضح کرنا ہوگا کہ ان کی ترجیحات میں پاکستان کے ساتھ وفاداری اور عوام کیلئے احساس ہے؟ کیا یہ جماعتیں پاکستان کیلئے ہی قائم ہوئی ہیں؟ اگر ان کا تعلق پاکستان اور پاکستانیوں سے ہے تو پھر انہیں ذاتی اختلافات اور اختیارات کی جنگ چھوڑ کر اپنی ترجیحات میں پاکستان اور پاکستانیوں کو اول درجے پر رکھنا ہوگا۔
پاکستان کا وجود سب کیلئے اہم ترین ہے، یہ محض دعویٰ نہیں ہونا چاہیے بلکہ سیاسی قیادت اس کا عملی مظاہرہ کرے۔ سیاسی جماعتیں وہ پلیٹ فارم ہے جہاں سب مل کر مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں اور لائحہ عمل ترتیب دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ سیاسی جماعتیں عوام کی تربیت کرتی ہیں کہ انہیں کس طرح مل جل کر رہنا ہے۔ یہ تربیت حقوق اور فرائض دونوں پہلوؤں کے حوالے سے ہوتی ہے۔ محض حقوق کی بات کرنا اختلافات کی شدت کو بڑھاتا ہے۔ سیاسی جماعتیں ہوں یا قائدین، اگر وہ اپنے فرائض کو سمجھتے ہوئے آگے بڑھیں تو فائدہ ہوگا۔ انہیں سمجھنا چاہیے کہ ان کے رویے سے معاشرتی اور سیاسی دونوں رویے تشکیل پاتے ہیں۔ لوگ انہیں سنتے ہیں اور متاثر بھی ہوتے ہیں۔ سیاسی قائدین کے رویے اور عمل دونوں سے ہی اچھی روایات کو فروغ ملنا چاہیے۔
سیاستدان ایک دوسرے کو برداشت کریں،اس طرح معاشرے میں برداشت کو فروغ ملے گا۔ دنیا بھر میں جس تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، ان میں روایتی علوم، اصول اور قوائد، سیاست کو پرکھنے اور برتنے کے طریقے جومغرب اور دنیا نے سکھائے اور جو کچھ علم سیاسیات نے سکھایا، وہ سب کہیں کھو گیا ہے، سب اپنے اپنے طریقے سے عمل اور اپنی مرضی کی تعبیر و تشریح کر رہے ہیں۔ پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ ہم مغرب کا جمہوری نظام متعارف کرانا چاہتے ہیں لیکن برسوں سے یہ توجیح دی جاتی ہے کہ ہماری معاشرتی روایات اس نظام سے مطابقت نہیں رکھتی۔ سچ یہ ہے کہ جمہوری رویوں کی تشکیل کیلئے کسی نے اپنی جدوجہد نہیں کی۔ سیاسی جماعتیں جس طرح اپنے قائدین کا انتخابات کرتی ہیں وہ طریقہ جمہوری نہیں ہے۔
اسمبلیوں میں قائدین کا منتخب نمائندوں کے ساتھ رویہ غیر جمہوری ہوتا ہے، خاص طور پر قانون سازی کے وقت۔ منتخب اسمبلیوں میں بیٹھ کر قائدین کا غیر جمہوری رویہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ عوام کے منتخب نمائندوں کی حیثیت کیا ہے۔ اس سارے تناظر میں ضرورت یہ ہے کہ سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتیں اپنے اصل مقصد کو سمجھیں۔ ان کا مقصد لوگوں کو جوڑنا اور ایک ایسی فضاء پیدا کرنا ہے جس میں سب کیلئے گنجائش ہو اور سب لوگ مل کر ملک و قوم کی خدمت کر سکیں۔ یہ سب اکٹھے بیٹھے بغیر ناممکن ہے لہٰذا ضرورت یہ ہے کہ مذاکرات نتیجہ خیز ہوں۔ یہ محض نمائش کیلئے نہیں بلکہ سنجیدگی کے ساتھ ہونے چاہئیں۔ ملک کو اس وقت شدید خطرات درپیش ہیں، بدلتے ہوئے حالات میں ہمیں اپنے گھر میں امن اور سکون لانا ہے، یہی سیاسی قائدین کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
پروفیسر ڈاکٹر امجد مگسی
(ڈائریکٹرپاکستان سٹڈی سینٹر، جامعہ پنجاب)
موجودہ ملکی صورتحال میں یہ بات واضح ہے کہ سیاست میں ہمیشہ مذاکرات کی اہمیت ہوتی ہے۔ مذاکرات کے ذریعے جب مختلف جماعتیں آپس میں بیٹھتی ہیں تو بہتری کا راستہ نکلتا ہے۔ ملکی مفاد سب سے مقدم ہوتا ہے۔ اس وقت ملک کو معاشی اور سکیورٹی چیلنجز درپیش ہیںجنہیں اجتماعی دانش اور کاوشوں سے حل کیا جاسکتا ہے۔ سیاسی اختلافات کا ہونا کوئی انہونی نہیں ہے ، اختلافات کو قومی مفادات سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔اس میں تمام سیاسی جماعتوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرناہوگا۔ عالمی اور علاقائی سطح جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں،ا مریکا، چین، ایران، افغانستان اور ہندوستان کے ساتھ ہمارے جو معاملات ہیں، ان کے پیش نظر ملک میں سیاسی ہم آہنگی اور رواداری کی اشد ضروری ہے،اگر یہ نہیں ہوگا تو چیلنجز سے نمٹنا مشکل ہوجائے گا۔
ہم آہنگی اور سیاسی استحکام کیلئے پہلا قدم حکومت کو لینا ہوتا ہے ، اسے دل بڑا کرنا ہوگا۔ اسی طرح اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ ایک ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔جتنی موثر اپوزیشن ہوگی حکومت کی کارکردگی اتنی بہتر ہوگی لیکن اگر صرف مخالفت ہی کی جائے گی تو حکومت پر کوئی خاص اثر نہیں ہوگا۔ احتجاج کی بات تب کرنی چاہیے جب کوئی اور راستہ موجود نہ ہو۔
بار بار احتجاج اور بے یقینی کی صورتحال سے ملک کا نقصان ہوتا ہے، خاص طور پر معاشی نقصان۔ ہم آئی ایم ایف سے قرض لے رہے ہیں، ہمیں اپنی ایکسپورٹ میں اضافہ کرنا ہے، ملکی پیداوار میں اضافے کیلئے اقدامات کرنے ہیں، اس کیلئے سیاسی استحکام ضروری ہے۔ مذاکرات کی باتیں حوصلہ افزاء ہیں۔ میں اس کی تائید کرتا ہوں کہ ملک میں مذاکرات ہونے چاہئیں۔ اس کیلئے حکومت کو ایک قدم آگے بڑھانا چاہیے اور ا پوزیشن کو بھی تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔ ایک مرتبہ فضاء بہتر ہوگئی تو راستے خودبخود کھلیں گے۔ سب سے پہلے حکومت اور اپوزیشن میں تناؤ کو نارمل کرناہے،دونوں مذاکرات کی میز پر آجائیں تو ملک و قوم کی بھلائی ہوگی۔
سلمان عابد
(سیاسی تجزیہ کار)
پاکستان کا حالیہ بحران اور اس کا حل صرف مفاہمت کی سیاست سے جڑا ہے۔اگرچہ اس وقت پاکستان میں مفاہمت کی سیاست کے امکانات کم ہیں اور محاذآرائی سمیت تناؤ اور ٹکراؤ کا کھیل زیادہ غالب ہے۔ اس لیے بہت سے سیاسی لوگوں کے خیال میں موجودہ حالات میں مفاہمت کے امکانات ممکن نہیں ہیں۔ لیکن اس کے باوجود سیاسی شعور رکھنے والے افراد اسی نقطے پر زور دیتے ہیں کہ حالات جتنے بھی خراب ہو جائیں ہمیں جنگ و جدل سے نکل کر سیاسی مفاہمت اور سیاسی بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اس لیے اگر کوئی مفاہمت کی بات نہیں بھی کر رہا تب بھی ہمیں بار بار اسی نقطے پر زور دینا ہوگا کہ قومی سیاست اور اس کا بحران کا حل مفاہمت اور بات چیت کی سیاست کے ساتھ ہی جڑا ہوا ہے۔
یہ کہنا کہ مفاہمت اور بات چیت کی سیاست میں رکاوٹ بانی پی ٹی آئی یا ایک مخصوص جماعت ہے تو یہ درست تجزیہ نہیں ہے کیونکہ مفاہمت کی سیاست اور اس کے حالات کو پیدا کرنے کی بنیادی ذمہ داری ریاست اور حکومت کی ہوتی ہے اور وہ حالات کی بہتری کے لیے یا دو طرفہ بات چیت کے لیے ایک ایسا سازگار ماحول پیدا کرتی ہے جہاں اس کے سیاسی مخالفین بھی مل بیٹھ کر بات چیت کرنے کو تیار ہوں۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ حکومت اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ محض اپنی شرائط یا اپنے ایجنڈے پر بات کرنا چاہتی ہے اور جو تحفظات ان کے سیاسی مخالفین کو ہیں ان کو کوئی اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ہمیں سیاست اور مفاہمت کے عمل میں مفاہمت اور سیاسی ڈکٹیشن کے درمیان بنیادی فرق کو سمجھنا ہوگا اور اگر کوئی فریق یہ سمجھتا ہے کہ وہ دوسرے فریق پر مفاہمت کے نام پر اپنی ڈکٹیشن مسلط کر سکتا ہے یا اسے سیاسی طور پر سرنڈر کرنے کی طرف لایا جاسکتا ہے تو وہ غلطی پر ہے۔
اسی طرح ہماری حکومت اور ریاست کو ایک بنیادی بات سمجھنا ہوگی کہ سیاسی مخالفین سے نمٹنے کے لیے سیاسی حکمت عملیوں پر مبنی راستہ ہی اختیار کیا جاتا ہے۔جو لوگ حکومت اور ریاست کو سیاسی مخالفین کے خلاف طاقت کے استعمال کی تجویز دیتے ہیں یا وہ طاقت کا استعمال کرنا چاہتے ہیں تو اس سے سیاسی حالات درستگی کے بجائے اور زیادہ بگاڑ کا شکار ہوں گے۔پی ٹی آئی پہلے ہی اپنے چھ نکات مذاکرات کے حوالے سے دے چکی ہے جن میں 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات، 8 فروری کے انتخابات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن،26 نومبر کے واقعات کی عدالتی تحقیقات،پی ٹی آئی کے رہنماؤں پر دہشت گردی اور غداری کے مقدمات کا خاتمہ،نئے چیف الیکشن کمیشن کی تقرری اور 26 ویں 27ویں ترمیم کا خاتمہ شامل ہے لیکن ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی ایسا ایجنڈا سامنے نہیں آیا جس پر وہ بات کرنا چاہتے ہیں،اس لیے بھی مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہے۔
دوسری طرف بانی پی ٹی آئی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومت کے ساتھ مذاکرات ممکن نہیں ہیں اور ان کے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ وہ صرف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں جبکہ اسٹیبلشمنٹ کا موقف ہے کہ پی ٹی آئی اگر بات چیت کرنا چاہتی ہے تو اسے حکومت کے ساتھ ہی بات کرنا ہوگی ہم ان معاملات سے خود کو الگ رکھنا چاہتے ہیں۔لیکن اس وقت جو سیاسی کشیدگی ہمیں پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان دیکھنے کو مل رہی ہے وہ کافی تشویشناک ہے اور اس سے حالات بہتری کی بجائے مزید خرابی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔پاکستان میں مفاہمت کی سیاست کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ ہمارے داخلی معاملات جن میں عدم سیاسی استحکام،بگڑتی ہوئی معیشت، گورننس کا بحران،سکیورٹی اور دہشت گردی سمیت اداروں کے درمیان ٹکراؤ کی پالیسی دیکھنے کو مل رہی ہے۔جبکہ علاقائی سطح پر بھارت اور افغانستان کا باہمی گٹھ بھی پاکستان کی مخالفت میں پیش پیش ہے۔
ایسے میں جب تک ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی نہیں کریں گے اور داخلی حالات کو بہتر نہیں بنائیں گے تو ہم علاقائی چیلنجز سے بھی نمٹنے میں ناکام رہیں گے۔اسی طرح جب سیاسی تقسیم اور سیاسی عدم استحکام موجود رہے گا تو پھر معیشت کی بہتری کے تمام تر دعوے بھی اپنی اہمیت کھو دیں گے۔ پی ٹی آئی کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حالات کی سنگینی کا احساس کرے اور معاملات کو اس نہج پر نہ لے کے جائے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ ممکن نہ ہو سکے۔ محاذآرائی کی سیاست خود پی ٹی ائی کے حق میں نہیں ہے اور بانی پی ٹی آئی کو چاہیے کہ وہ حالات کی بہتری میں کوئی درمیانی راستہ نکالنے پر توجہ دیں۔
سیاست میں سیاسی راستہ بات چیت کے ذریعے ہی نکلتا ہے اور جب تک سیاسی فریقین ایک دوسرے کے بارے میں سیاسی لچک اور سیاسی قبولیت کا مظاہرہ نہیں کریں گے مسائل حل نہیں ہو سکیں گے۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ کچھ ایسے اقدامات کرے جس سے پی ٹی آئی کو مفاہمت کی طرف راغب کیا جا سکے جس میں خاص طور پر جو لوگ جیلوں میں قید ہیں ان کو اگر ریلیف مل جائے تو اس سے ایک اچھا تاثر جا سکتا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف بار بار مذاکرات اور مفاہمت کی بات کرتے ہیں ۔نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی جس کی سربراہی سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری کر رہے ہیں انہوں نے بھی اپنی جانب سے مفاہمتی سیاست کو آگے بڑھانے کے لیے اسلام آباد میں ایک بڑی کانفرنس کا انعقاد کیا جو کہ اچھی پیش رفت ہے۔فواد چوہدری نے تمام بڑی سیاسی جماعتوں سمیت خود نواز شریف سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ مفاہمت کی سیاست کے لیے آگے بڑھیں اور اپنا کردار ادا کریں۔
اب بال مکمل طور پر حکومت کی کورٹ میں ہے، دیکھنا ہوگا کہ حکومت مفاہمت کی سیاست میں کس حد تک آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔کیونکہ خطرہ یہ ہے کہ اگر فوری طور پر مفاہمت کی سیاست کے امکانات پیدا نہیں ہوتے تو پی ٹی ائی کی جانب سے مزید سخت گیر پالیسیاں سامنے آ سکتی ہیں جس میں اسمبلیوں سے استعفیٰ سمیت دیگر آپشنز بھی ہو سکتی ہیں۔اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر سیاسی حالات مزید کشیدہ ہو جائیں گے اور جو مفاہمت کا راستہ تھوڑا بہت بچا ہے وہ بھی بند ہو جائے گا۔ اسی طرح حکومت کی یہ پالیسی بھی درست نہیں ہے کہ ایک طرف وہ مفاہمت اور مذاکرات کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف اس کے وفاقی وزراء اور سیاسی قیادت پی ٹی آئی اور بانی پی ٹی آئی کے خلاف سنگین ترین الزام تراشی کرتے ہیں۔ اس طرز عمل سے مفاہمت کی سیاست کسی بھی صورت میں آگے نہیں بڑھ سکے گی۔اس لیے مفاہمت کی سیاست میں جہاں غلطیاں پی ٹی آئی سے ہو رہی ہیں وہاں حکومت بھی ان غلطیوں کا حصہ ہے جو کہ قومی سیاست کے لیے کوئی اچھا پہلو نہیں ہے۔