بطور صحافی اور صحافت کے شعبے کے استاد، ہم ایک عرصے سے یہی سمجھ رہے تھے کہ اخبارات کا کلچر اب ختم ہو رہا ہے اور اخبارات دم توڑ رہے ہیں، لیکن بھارت کے حوالے سے ایک خبر نے ہمارے اس خیال کو غلط ثابت کر دیا اور ہمیں احساس ہوا کہ اخبارات دم نہیں توڑ رہے بلکہ اس کے پڑھنے والے یعنی قارئین کم ہوتے جا رہے ہیں۔
بھارتی میڈیا کی ایک خبرکے مطابق بھارت کی ریاست راجستھان اور اتر پردیش کے اسکولوں میں تمام طلباء کو صبح سویرے ہندی اور انگریزی کا اخبار پڑھنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ ایک اچھی خبر ہی نہیں، ایک بہت اچھی تبدیلی بھی ہے،کیونکہ اخبارات تو ہمیشہ کی طرح شائع ہو رہے ہیں مگر ان کے پڑھنے والوں کی تعداد کم سے کم تر ہوتی جا رہی ہے اور اسی سبب اخبارات کی سرکولیشن بھی کم ہو رہی ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی طالب علم کو اخبار ضرور پڑھنا چاہیے،کیونکہ اس سے اس کی معلومات میں ہی اضافہ نہیں ہوتا بلکہ اس کو زبان پر بھی دسترس حاصل ہوتی ہے۔ ایک اور مسئلہ اس سے جڑا ہوا ہے کہ ہماری نئی نسل اپنی زبان سے نابلد ہوتی جا رہی ہے۔ راقم کا خیال ہے کہ بظاہر تو یہ اچھی بات ہے کہ ٹیکنالوجی جدید سے جدید تر ہو رہی ہے اور یہ طلبہ کے لیے آسانیاں پیدا کر رہی ہے مگر اس کے نتیجے میں مطالعے کی عادت ختم ہوتی جا رہی ہے۔
بہرکیف بھارت میں کیے گئے ان فیصلوں سے نئی نسل کو بہت سے فوائد ہوں گے یا وہ بہت سارے نقصانات سے بچ سکیں گے۔ اسی طرح مطالعے کی عادت جو نئی نسل میں کم سے کم تر ہوتی جارہی ہے وہ بھی اس عمل سے بہتر ہوگی،کیونکہ جو لوگ اخبار پڑھنے کے عادی ہوجائیں گے وہ پھر کتابیں بھی پڑھیں گے۔ راقم کا خیال ہے کہ اخبار نہ پڑھنے کی عادت آگے جا کے مطالعہ نہ کرنے کی عادت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں اب کتب شائع ہونا کم ہوگئی ہیں، جس کی یقیناً بہت سی وجوہات ہیں لیکن سب سے اہم وجہ تو مطالعے کے شوق کی کمی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب کتاب خریدنے والے ہی نہیں ہوں گے تو کتاب شائع کرنے والوں کو نقصان اٹھانا پڑے گا ایسے میں تو وہ کتاب شائع نہیں کر سکتے۔
بہرحال اخبارات نہ پڑھنے کے سبب مطالعے کی عادت میں کمی آرہی ہے۔ اگر بچے اسکول کے زمانے میں ہی اخبار پڑھیں گے تو پھر ان میں مطالعے کی عادت بھی فروغ پائے گی اور وہ آگے چل کے کتابیں بھی پڑھیں گے۔ یہ ایک بہت بڑا معاشرتی مسئلہ ہے کہ اخبارات اور کتابیں پڑھنے والے کم ہوتے جا رہے ہیں۔
ایک اچھی قوم وہی ہو سکتی ہے، جس میں مطالعے کی عادت ہو۔ ہمارے ہاں تو طالب علم اپنے کورس کے لیے بھی نہ مطالعہ کرتے ہیں نہ کتابیں پڑھتے ہیں بلکہ انھیں نوٹس کی تلاش ہوتی ہے اور اب تو بھی موبائل پر اس کی تصاویر یعنی پکس مانگتے ہیں اورکتاب کے لیے کہتے ہیں کہ ہمیں پی ڈی ایف دے دی جائے۔ ظاہر ہے پھر یہ مطالعہ تو نہ ہوا صرف امتحانی ضرورت پوری کرنا ہوگیا۔
بطور استاد میں یہ جانتا ہوں کہ میں جب بھی کلاس میں کہتا ہوں کہ ’’ آپ فلاں کتاب پڑھیں یا مجھ سے آ کے کتاب لے لیں اور پڑھ لیں‘‘ تو طالب علم کا یہی سوال سامنے آتا ہے ’’سر، کیا اس کی پی ڈی ایف نہیں مل سکتی؟‘‘ یہ خطرناک رجحان ہے۔ طالب علموں کو تو کتابوں سے دوستی رکھنی چاہیے اور مطالعے کا زیادہ سے زیادہ ذوق رکھنا چاہیے مگر افسوس ایسا نہیں ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ مسئلے کو کیسے حل کیا جائے؟ تو اس کا جواب یہی ہے کہ جس طرح سے بھارت کے مختلف ریاستوں میں اخبار کی تعلیم لازمی قرار دے دی گئی ہے، اسی طریقے سے ہم بھی اپنے ہاں اخبارات پڑھنے کے لیے تعلیمی اداروں میں ایک پیریڈ لازمی رکھیں، جہاں ایک اردو اور ایک انگریزی کا اخبار طلبہ کو روزانہ دیا جائے۔ کم از کم یہ سلسلہ ان کالجز اور جامعات میں کیا جائے جہاں شعبہ صحافت اور میڈیا سائنس موجود ہیں اور ان شعبہ جات کے طلبہ کو اس مطالعے کے نمبر بھی دیے جائیں۔ یہ بڑی تلخ حقیقت ہے کہ اب تعلیمی اداروں کے صحافت جیسے شعبے میں بھی طلبہ اخبارات کا مطالعہ نہیں کرتے۔
قابل غور پہلو یہ ہے کہ مطالعے کی کمی سے ایک بڑا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ جو ہمارا علمی خزانہ لائبریریوں میں موجود ہے، وہ وہیں دفن ہوکر رہ گیا ہے اور نئی نسل میں منتقل نہیں ہو رہا ہے۔ ظاہری سی بات ہے کہ طلبہ کتابیں پڑھیں گے، تو ہمارا کلچر، ہمارا ماضی اور ہمارے نظریات، سب کچھ اس مطالعے کے ذریعے نئی نسل میں منتقل ہوں گے لیکن جب نئی نسل اس سے کٹ جائے گی تو پھر یہ سلسلہ رک جائے گا۔
نئی نسل جس طرح سے سوشل میڈیا کا استعمال کررہی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا مطالعہ سوشل میڈیا کی حد تک ہی ہے اور سوشل میڈیا پر وہ مواد موجود نہیں ہے جو ہماری نئی نسل کی ضرورت ہے، اسی لیے بہت سارے مسائل ہمارے سامنے آرہے ہیں۔
اسی ضمن میں ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ اب اردو میں موجود کتابوں کا مطالعہ بھی ختم ہوگیا ہے، کیونکہ نئی نسل انگریزی زبان کی طرف سے زیادہ راغب ہے اور وہ اردو بھی مشکل سے پڑھتی ہے، چنانچہ اب ان کی جو بھی شخصیت بنتی ہے وہ صرف اور صرف انگریزی کتب کی مرہون منت ہوتی ہے، لٰہذا جو علم ادب اور خزانہ ہمارے ماضی کا اس نسل تک پہنچنا تھا وہ نہیں پہنچ سکتا اور یوں یہ نسل ایک بیگانی نسل بنتی جا رہی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور اس کو حل کرنے کے لیے سب سے پہلے ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنے تعلیمی اداروں میں اخبار بینی کی عادت ڈالیں اور روزانہ اخبار پڑھنے کے لیے پیریڈ مختص کریں، جب طالب علم اخبارات پڑھنا شروع کریں گے تو ان میں مطالعے کی عادت بڑھے گی اور پھر وہ کتابوں کی طرف بھی آئیں گے اور جب کتابوں کی طرف آئیں گے تو اپنے ماضی سے جڑیں گے، اپنی ثقافت سے جڑیں گے، اپنے بزرگوں سے جڑیں گے اور اپنے ماضی کے خزانوں سے فیض حاصل کریں گے۔
اخبارات میں جب طالب علم مطالعہ کریں گے تو یقینا اس میں صرف خبریں ہی نہیں ہوں گی، بلکہ بہت سارے مضامین اور ایڈیٹوریل پر بہت سارے موضوعات بھی پڑھنے کو ملیں گے جس سے نہ صرف ان کی زبان مضبوط ہوگی بلکہ ان کی معلومات میں صحیح اضافہ ہوگا اور یہ وہ معلومات ہونگی جو مستند ہوگی کیونکہ سوشل میڈیا پر جو غیر مستند چیزیں ہوتی ہیں اور اس سے علم میں اضافہ جو ہوتا ہے وہ عام طور پر معیار اور قابل اعتبار نہیں ہوتا۔ عموماً ایسے مواد پر بحث بھی شروع ہو جاتی ہے اور لوگ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں جس غلط معلومات پھیلتی ہے اور ایک بڑی تعداد اسے درست سمجھنے لگتی ہے۔ سوشل میڈیا کا جنگل ایسا گھنا ہوگیا ہے کہ اس میں اب مطالعہ کہیں گم ہوکر رہ گیا ہے۔ اکثر لوگ واٹس ایپ پر یا فیس بک پر کمنٹس پڑھ کر سمجھتے ہیں کہ وہ مطالعہ کا حق ادا کر رہے ہیں، انھیں معلوم ہی نہیں کہ مطالعہ کس کا نام ہے۔
مختصراً یہ کہ مطالعے میں کمی کی عادت نئی نسل کے لیے سخت نقصان دہ بات ہے اور اس کا حل تعلیمی اداروں کے پاس ہے، وہ چاہیں تو اخبارات کا مطالعہ لازمی قرار دے کر اس مسئلے کو حل کرسکتے ہیں۔