نشے کی حالت میں جان لیوا حادثے پر ڈرائیور کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہوگا، جس کیلیے قانون پیش کردیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کرنے والے سخت سزا کے لیے ہو جائیں تیار کیونکہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی اراکین مشترکہ قانون لے آئے۔
ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار الحسن اور پیپلز پارٹی کے مرزا اختیار بیگ نے اہم قانون پیش کیا جس میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 174بی اور سی میں ترمیم تجویز کی گئی ہے۔
بل کے متن میں لکھا گیا ہے کہ کوئی بھی الکوحل، منشیات یا نشہ آور دوا کے زیر اثر گاڑی چلاتے ہوئے کسی کی موت کا سبب بنتا ہے تو وہ " قتل خطہ بوجہ نشہ آور ڈرائیونگ " کا مجرم ہوگا۔
بل میں لکھا گیا ہے کہ نشے میں ڈرائیونگ کے باعث کسی کی موت واقعے ہو تو اس جرم کے مرتکب کو دس سال تک قید اور پانچ لاکھ تک جرمانے کی سزا ملے گی۔
بل میں تجویز کی گئی ہے کہ ہر اس حادثے جس میں موت یا شدید جسمانی چوٹ واقع ہو تو تھانے کا انچارج یا تفتیشی افسر جو سب انسپکٹر کے عہدے سے کم نہ ہو بغیر کسی تاخیر کے ملوث ڈرائیور میں نشے میں ہونے کا پتا لگانے کے لیے سانس، خون، تھوک ٹسیٹ کرانے کا پابند ہوگا۔
مشترکہ بل میں کہا گیا ہے کہ ڈرائیور نشے میں ہونے کا ٹیسٹ میں تصدیق کی صورت میں انچارج پولیس افسر ایف آئی آر تعزیرات پاکستان کی دفعہ دفعہ 322 یا 302 کے تحت درج کرے گا۔