امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جہاں غزہ بورڈ آف پیس میں مختلف ممالک کی شمولیت کو تیز تر بنا رہے ہیں وہیں انھوں نے ایک بار پھر حماس کو سخت دھمکی دی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے ورلڈ اکنامک فورم میں غزہ ورلڈ آف پیس کی دستظی تقریب کا بھی انعقاد کیا۔
اس دوران میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم ہو چکا ہے اور غزہ میں صرف چند چھوٹے مسائل باقی ہیں جن میں حماس شامل ہے۔
صدر ٹرمپ نے حماس کو ایک بار پھر سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر بہت جلد اپنے ہتھیار نہیں ڈالے تو اس تنظیم کو انتہائی تیزی سے ختم کر دیا جائے گا۔
انھوں نے یاد دلایا کہ حماس کی قیادت نے خود ہتھیار ڈالنے پر اتفاق کیا تھا اور اب اسے اپنے وعدے کو فوری طور پر نبھانا چاہیے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ حماس کے لیے ہتھیار ڈالنا آسان کام نہیں ہے کیونکہ وہ ہتھیار ہاتھ میں لے کر پیدا ہوئے ہیں اور پلے بڑھے ہیں۔
امریکی صدر نے بتایا کہ اگلے دو تین دنوں میں، اور یقینی طور پر آئندہ تین ہفتوں میں واضح ہو جائے گا کہ حماس واقعی خود کو غیر مسلح کرتی ہے یا نہیں۔
انھوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حماس نے ایسا نہ کیا تو انہیں بہت جلد نیست و نابود کر دیا جائے گا۔
امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ غزہ میں ممکنہ امن فوج کے قیام میں شرکت کے لیے 59 ممالک دلچسپی رکھتے ہیں اور ان میں سے کئی ممالک کا مقصد حماس کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔
ان کے بقول وہ ممالک غزہ آنا چاہتے ہیں اور حماس کو ختم کرنا چاہتے ہیں وہ جو بھی کر سکتے ہیں، کرنے کے لیے تیار ہیں۔
یاد رہے کہ حماس نے امریکی صدر کے اس دعوے کی باضابطہ تردید کرتی آئی ہے کہ وہ غیر مسلح ہونے کا وعدہ کرچکی ہے۔