کراچی میں رواں سال ریبیز کا پہلا کیس رپورٹ ہو گیا ہے جو ضلع سانگھڑ سے تعلق رکھنے والی بچی میں سامنے آیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق شہر جھول سے تعلق رکھنے والی 8 سالہ بچی میں ریبیز کی تشخیص ہوئی ہے۔ سانگھڑ سے تعلق رکھنے والی بچی کو آوارہ کتے کے کاٹنے کے ڈیڑھ ماہ بعد ریبیز کی شدید علامات ظاہر ہوئیں جس کے بعد اسے کورنگی مین انڈس اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ریبیز پریوینشن کلینک کے مینجر آفتاب گوہر کا کہنا ہے کہ بچی کو متعدد سرکاری اسپتالوں میں ناکافی علاج فراہم کیا گیا جس کے بعد اسے انڈس اسپتال منتقل کیا گیا۔
آفتاب گوہر کے مطابق ابتدائی علاج کے دوران بچی کے زخم کو دھویا ہی نہیں گیا، جو ریبیز سے بچاؤ میں انتہائی اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بچی میں پانی اور ہوا سے خوف جیسی واضح علامات سامنے آ چکی ہیں جو ریبیز کے ایڈوانس اسٹیج کی نشاندہی کرتی ہیں۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق رواں سال انڈس اسپتال میں اب تک 1500 جبکہ جناح اسپتال میں 800 سگ گزیدگی کے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
سول اسپتال میں رواں سال 400 سے زائد سگ گزیدگی کے کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کراچی کے دو بڑے اسپتالوں میں ریبیز کے باعث 20 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
طبی ماہرین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ سگ گزیدگی کی صورت میں فوری طور پر زخم کو صابن اور پانی سے دھو کر قریبی اسپتال سے مکمل ویکسینیشن کروائی جائے، کیونکہ علامات ظاہر ہونے کے بعد یہ سو فیصد جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔