دواؤں پر بھی طبقاتی تقسیم؟

ارکانِ پارلیمنٹ کو دوائیں عام آدمی کے مقابلے میں 30 فیصد سستی فراہم کی جاتی ہیں


رضوانہ قائد February 01, 2026
فوٹو: فائل

پاکستان میں مہنگائی پہلے ہی عام آدمی کی کمر توڑ چکی ہے۔ روٹی، آٹا، بجلی، گیس اور ایندھن کے بعد اب دوائیں بھی عام شہری کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔

ایک طرف عوام قرضدار ہوکر مہنگی دوائیں خریدنے پر مجبور ہیں یا سسک سسک کر دم توڑ رہے، دوسری جانب یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ ارکانِ پارلیمنٹ کو یہی دوائیں عام آدمی کے مقابلے میں 30 فیصد سستی فراہم کی جاتی ہیں۔

یہ حقیقت جان کر فطری سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ارکانِ پارلیمنٹ عام آدمی سے اتنے زیادہ شرف یافتہ ہوگئے کہ عوام کسی درجے میں نہیں؟

سیاستدان عوام کے ووٹ حاصل کرکے حکومت میں ان وعدوں کے ساتھ شامل ہوتے ہیں کہ وہ عوام کے مسائل حل کریں گے، ان کے مفادات کا تحفظ کریں گے اور انصاف پر مبنی قانون سازی کریں گے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہی نمائندے پارلیمنٹ میں پہنچ کر اپنے لیے ذاتی مراعات اور سہولتیں سمیٹنے میں مصروف ہو جاتے ہیں اور عوام کو یکسر نظر انداز کر دیتے ییں۔

آئین اور جمہوری اصولوں کے مطابق قومی خزانہ پر پہلا حق عوام کا ہوتا ہے، نا کہ حکمرانوں اور ارکانِ پارلیمنٹ کا۔ ٹیکس عام آدمی دیتا ہے، مہنگائی وہ برداشت کرتا ہے، اسپتالوں میں قطاروں میں وہ کھڑا ہوتا ہے، مگر سہولتیں وہ لوگ سمیٹ لیتے ہیں جو اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہوتے ہیں۔

یہ کیسا نظامِ انصاف ہے کہ جس ملک میں ایک غریب مریض دوا نہ خریدنے کے باعث دم توڑ دے، اسی ملک میں منتخب نمائندوں کو وہی دوا رعایتی نرخوں پر فراہم کی جائے؟

حال ہی میں اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پارلیمنٹ ڈسپنسری کو 30 فیصد سستی دوا فراہم کیے جانے پر سوال اٹھایا گیا۔

رکنِ قومی اسمبلی عالیہ کامران نے اس معاملے پر سخت استفسار کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کی ڈسپنسری کو رعایتی نرخوں پر دوائیں فراہم کی جا رہی ہیں، آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) اس معاملے کی فوری اور واضح وضاحت کرے۔

یہ سوال نہایت اہم ہے کیونکہ اگر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پارلیمنٹ کو رعایت دے سکتی ہے تو پھر یہی رعایت سرکاری اسپتالوں، فلاحی اداروں اور عام عوام کو کیوں نہیں دی جا سکتی؟ کیا قانون سب کے لیے برابر نہیں؟ یا پھر قانون صرف کمزور کے لیے سخت اور طاقتور کے لیے نرم ہے؟

پاکستان میں لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو روزانہ دو وقت کی دوا خریدنے سے قاصر ہیں۔ شوگر، بلڈ پریشر، دل، گردوں اور کینسر جیسے مہلک امراض میں مبتلا مریض دواؤں کی قیمتیں سن کر ہی مایوس ہو جاتے ہیں۔ کئی گھرانے ایسے ہیں جو علاج اور بچوں کی تعلیم میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسے حالات میں اگر یہ خبر سامنے آئے کہ ارکانِ پارلیمنٹ کو سستی دوائیں فراہم کی جا رہی ہیں تو عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ارکانِ پارلیمنٹ پہلے ہی بے شمار مراعات سے مستفید ہو رہے ہیں، بھاری تنخواہیں، مفت رہائش، سرکاری گاڑیاں، ایندھن، پروٹوکول، بیرونِ ملک فری دورے، علاج کی سہولتیں اور نہ جانے کیا کچھ۔ اس کے باوجود اگر انہیں سستی دوائیں بھی فراہم کی جائیں تو یہ سراسر ناانصافی اور طبقاتی امتیاز کی بدترین مثال ہے۔

عوام اب یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا جمہوریت کا مطلب یہی رہ گیا ہے کہ اقتدار میں آنے والے خود کو اشرافیہ سمجھنے لگیں اور عوام کو صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کریں؟

اگر واقعی ارکانِ اسمبلی عوام کے نمائندے ہیں تو انہیں بھی وہی دوائیں، وہی اسپتال اور وہی سہولتیں ملنی چاہئیں جو ایک عام پاکستانی کو میسر ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات ہوں، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اپنی پالیسی واضح کرے اور اگر واقعی کسی خاص طبقے کو غیر قانونی یا غیر اخلاقی رعایت دی جا رہی ہے تو اسے فوراً ختم کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو چاہیے کہ دواؤں کی قیمتوں میں مجموعی طور پر کمی لانے کے لیے عملی اقدامات کرے تاکہ علاج ہر شہری کا حق بن سکے، نہ کہ صرف طاقتور طبقے کی سہولت۔

قومیں اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب حکمران خود کو عوام کے برابر سمجھیں، ان سے بالاتر نہیں۔ اگر عوام کی تکلیف اور درد کو محسوس نہ کیا گیا تو یہ فاصلے بڑھتے جائیں گے، اور اعتماد کا یہ بحران کسی بھی نظام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ہمارے حکمران حضرت عمرؓ کے اس مشہور قول کی مثال دیتے نظر آتے ہیں : ’’اگر دریائے فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا مر گیا تو عمر اس کا ذمہ دار ہوگا‘‘۔

کوئی فرق رہ گیا ہے عوام اور اس بھوکے کتے میں؟

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
رضوانہ قائد
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔

مقبول خبریں