شاہ لطیف ٹاؤن میں دوروز قبل فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والا نوجوان دوران علاج دم توڑ گیا ، پولیس کے مطابق مقتول نوجوان کو اس کے ساتھی نے فائرنگ کرکے زخمی کیا تھا۔
زخمی نوجوان نےاسپتال پہنچ کرظاہر کیا تھا کہ اسے ڈکیتی کی واردات کے دوران ڈاکوؤں نے فائرنگ کرکے زخمی کیا ہے، مقتول نوجوان اور اس کے قتل میں ملوث ساتھی پہلے بھی گرفتار ہو چکے ہیں اور ان کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج ہے۔
رپورٹ کے مطابق اتوار کو شاہ لطیف ٹاؤن تھانے کے علاقے موسیٰ گوٹھ میں واقع نجی اسکول کے قریب فائرنگ کے واقعے میں ایک نوجوان ٹانگ میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگیا تھا جسے فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں شدید زخمی ہونے والا نوجوان 2 روز تک زیر علاج رہنے کے بعد منگل کو دوران علاج دم توڑ گیا۔
مقتول نوجوان کی شناخت حامد ولد نذر گل کے نام سے کی گئی ، مقتول عبداللہ گوٹھ کا رہائشی اور نجی کمپنی میں ملازمت کرتا تھا۔
رابطہ کرنے پر شاہ لطیف پولیس نے بتایا کہ شدید زخمی نوجوان نے اسپتال پہنچ کرظاہر کیا تھا کہ اسے ڈکیتی کی واردات کے دوران ڈاکوؤں نے فائرنگ کرکے زخمی کیا ہے۔
بعدازاں دوران تفتیش زخمی نوجوان نے انکشاف کیا کہ اسے اس کے ساتھی ثنا اللہ نے فائرنگ کرکے زخمی کیا۔
پولیس کے مطابق دوران علاج دم توڑ جانے والے نوجوان کا ویڈیو بیان بھی قلمبند کیا گیا تھا شاہ لطیف ٹاؤن پولیس کے مطابق مقتول نوجوان حامد اور اس کا ساتھی ثنا اللہ ایک مقدمے میں پہلے بھی گرفتار ہوچکے ہیں۔
مقتول نوجوان اوراس کے ساتھی کے خلاف 5 نومبر 2025 کو شاہ لطیف ٹاؤن تھانے میں اغوا کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ مقتول نوجوان کے قتل میں ملوث اس کا ساتھی ثنااللہ فرار ہے جس کی گرفتاری کی کوشش کی جا رہی ہیں۔