معصوم جانوں کا المیہ اور ناکام نظام

کاہنہ کا سانحہ اس حقیقت کا بھی غماز ہے کہ ہمارے ہاں المیوں سے سبق سیکھنے کی روایت انتہائی کمزور ہے


ایڈیٹوریل July 02, 2026

لاہور کے علاقے کاہنہ نو میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14معصوم بچوں کی المناک ہلاکت نے پوری قوم کو غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا ہے، اس سانحے کی سنگینی صرف یہ نہیں کہ قیمتی جانیں ضایع ہوئیں، بلکہ اس سے کہیں زیادہ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ یہ المیہ جہاں انسانی غفلت ، لاپروائی ، لاعلمی اور شعور کا شاخسانہ ہے وہاں فرسودہ اورناکارہ ایڈمنسٹریٹو نظام اورشہری اداروں کی تباہی کا نوحہ بھی ہے۔

اداروں کے پاس ملبہ ہٹانے اور کنکریٹ کاٹنے کا جدید ساز وسامان موجودہ ہے نہ تربیت یافتہ ملازمین ہیں۔ سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، جہاں گڑھ پڑگیا، اسے بھرنے والا کوئی نہیں، کہیں آگ لگ جائے تو بھجانے والا کوئی نہیں، فائر بریگیڈ صرف نام کا محکمہ ہے، عمارت گر جائے تو ملبے تلے دبے ہوئے لوگوں کو بروقت نکالنے کے لیے مشینیں اور ضروری آلات نہیں ہیں اور نہ چاک وچوبند عملہ موجود ہے۔ البتہ محکمے موجود ہیں، افسر، کئی نائب افسر، بیسیوں کلرک، چپراسی تک موجود ہیں، لیکن کام صفر بٹاصفر۔

کاہنہ کے اس دل شکن سانحے نے ہر حساس انسان کے دل کو زخمی کیا ہے۔ معصوم بچوں کے جنازے اٹھتے ہوئے دیکھ کر شاید ہی کوئی آنکھ ایسی ہو جو نم نہ ہوئی ہو۔ یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان میں ہر بڑے سانحے کے بعد ایک مخصوص سرکاری طرز عمل اختیار کیا جاتا ہے۔ پہلے مرحلے میں افسوس اور تعزیت کے بیانات جاری ہوتے ہیں، مالی امداد کا اعلان کیا جاتا ہے، ساتھ ہی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے، چند گرفتاریاں عمل میں آتی ہیں اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ حکومت اور نظام پوری سنجیدگی کے ساتھ معاملے کا جائزہ لے رہا ہے، مگر جیسے ہی چند روز گزرتے ہیں، عوامی توجہ کسی نئے واقعے کی جانب مبذول ہو جاتی ہے، تحقیقات کی رفتار سست پڑ جاتی ہے، ادارے ایک دوسرے پر ذمے داری عائد کرنے لگتے ہیں اور بالآخر معاملہ وقت کی گرد میں گم ہو جاتا ہے۔

اس سانحے نے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت آشکار کر دی ہے کہ ہمارے ہاں سرکاری اداروں کے فیصلہ سازوں کے احتساب کا تصور ابھی تک عملی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ ایک محکمہ دوسرے محکمے پر ذمے داری ڈال دیتا ہے، دوسرا تیسرے کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے اور آخرکار کسی ایک فرد کو قربانی کا بکرا بنا کر پورے نظام کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہی وہ رویہ ہے جس نے ریاستی و سرکاری اداروں پر عوام کے اعتماد کو مسلسل کمزور کیا ہے۔ احتساب اس وقت موثر ہوتا ہے جب ذمے داری کا تعین شخصیات کے بجائے نظام کی سطح پر کیا جائے، غفلت کے ہر پہلو کا جائزہ لیا جائے اور قانون کی عملداری میں کسی قسم کی مصلحت کو جگہ نہ دی جائے۔

پاکستان میں تعمیراتی قوانین اور حفاظتی ضابطوں کی خلاف ورزی ایک معمول بنتی جا رہی ہے۔ غیر قانونی تعمیرات، ناقص تعمیراتی میٹریل، بغیر منظوری کے اضافی منزلیں، حفاظتی اصولوں سے انحراف ایک پختہ روایت بن چکی ہے۔حالانکہ ملک کے ہر بڑے شہر میں لوکل گورنمنٹ کے صفائی ستھرائی سے لے کر بلڈنگ کنڑول تک بیسیوں سرکاری ادارے موجود ہیں، جہاں سیکڑوں افسران اور گریڈ سولہ سے لے کر گریڈ ایک تک کے ہزاروں ملازمین موجود ہیں، کانٹریکٹ ملازمین،ورک چارج ملازمین اور ڈیلی ویجزز ملازمین الگ ہیں ۔ان ہزاروں ملازمین اور افسروں کے اتنے بڑے لشکر کے باوجود شہروں میں ناقص بلڈنگ مٹیریل فروخت ہورہا ہے، بغیر نقشہ کے عمارتیں بن رہی ہیں بلکہ شہر کے شہر غیرقانونی تعمیرات کے جنگل بن چکے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ متعدد نجی اسکول، کوچنگ اکیڈمیاں اور ٹیوشن سینٹر ایسی عمارتوں میں قائم ہیں جو بنیادی طور پر رہائشی مقاصد کے لیے تعمیر کی گئی تھیں۔ ان میں نہ طلبہ کی تعداد کے مطابق حفاظتی انتظامات موجود ہوتے ہیں، نہ ہنگامی اخراج کے راستے اور نہ ہی تعمیراتی استحکام کا کوئی مستند معائنہ کیا جاتا ہے۔

کاہنہ کا سانحہ اس حقیقت کا بھی غماز ہے کہ ہمارے ہاں المیوں سے سبق سیکھنے کی روایت انتہائی کمزور ہے۔ گزشتہ کئی برسوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں عمارتیں گریں، فیکٹریوں میں آگ لگی، تعلیمی اداروں میں حفاظتی انتظامات کی کمی کے باعث قیمتی جانیں ضایع ہوئیں اور متعدد عوامی مقامات پر ناقص تعمیرات نے درجنوں خاندانوں کو عمر بھر کے غم میں مبتلا کیا، مگر ان میں سے کتنے واقعات نے نظام میں حقیقی تبدیلی پیدا کی؟ کتنی تحقیقاتی رپورٹس پر مکمل عملدرآمد ہوا؟ کتنے سرکاری اہلکار اپنی غفلت کی سزا بھگت سکے؟ اور کتنے قوانین ایسے بنائے گئے جنھوں نے مستقبل میں ایسے حادثات کا راستہ روکا؟ ان سوالات کا جواب افسوس کے ساتھ نفی میں ملتا ہے۔ اس سانحے کے بعد یہ حقیقت بھی پوری شدت سے سامنے آئی ہے کہ بلدیاتی اداروں، ضلعی انتظامیہ، تعمیراتی نگرانی کرنے والے محکموں اور نجی تعلیمی اداروں کے مابین موثر رابطے کا فقدان ہے، انتظامی نظام میں کسی بھی عمارت کو تعلیمی مقصد کے لیے استعمال کرنے سے پہلے اس کے تعمیراتی استحکام، حفاظتی انتظامات، ہنگامی انخلا کے راستوں، آگ سے بچاؤ کے نظام اور طلبہ کی گنجائش کا باقاعدہ جائزہ لیا جاتا ہے۔ یہ عمل محض کاغذی کارروائی نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کا بنیادی تقاضا ہوتا ہے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں اکثر اجازت نامے رسمی کارروائی بن کر رہ جاتے ہیں اور بعد ازاں نگرانی کا نظام تقریباً غیر فعال ہو جاتا ہے۔

 تحقیقاتی کمیٹیوں کا قیام ہر بڑے سانحے کے بعد ایک ناگزیر اقدام سمجھا جاتا ہے، لیکن کمیٹیوں کی افادیت کا دارومدار ان کی تعداد یا حیثیت پر نہیں بلکہ ان کی غیر جانبداری، شفافیت اور سفارشات پر موثر عملدرآمد پر ہوتا ہے، اگر تحقیقات کا مقصد صرف عوامی غم و غصے کو وقتی طور پر ٹھنڈا کرنا ہو تو اس سے انصاف کے بجائے بے اعتمادی کو فروغ ملتا ہے۔حکومت کو اس روایت سے نکلنا ہوگا۔ تحقیقاتی رپورٹیں مقررہ مدت میں مکمل ہوں، انھیں عوام کے سامنے پیش کیا جائے، ذمے دار افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور آیندہ کے لیے واضح اصلاحی لائحہ عمل بھی نافذ کیا جائے۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جو عوام کے اعتماد کو بحال کر سکتا ہے۔

اس موقع پر پارلیمنٹ اور صوبائی قانون ساز اداروں کی ذمے داری بھی کم نہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ تعلیمی اداروں، کوچنگ مراکز اور ٹیوشن سینٹروں کے لیے حفاظتی معیار کو مزید سخت بنایا جائے۔ ہر عمارت کا سالانہ حفاظتی معائنہ قانونی طور پر لازم قرار دیا جائے، تعمیراتی استحکام کی باقاعدہ تصدیق کے بغیر کسی ادارے کو کام کرنے کی اجازت نہ دی جائے اور خلاف ورزی کی صورت میں صرف جرمانوں پر اکتفا کرنے کے بجائے فوجداری کارروائی بھی عمل میں لائی جائے۔

انسانی جان کے تحفظ سے متعلق قوانین میں نرمی کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہونی چاہیے۔عدلیہ بھی اس ضمن میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ایسے مقدمات برسوں تک التوا کا شکار رہیں تو متاثرہ خاندانوں کے زخم مزید گہرے ہو جاتے ہیں اور مجرموں کو قانون سے بچ نکلنے کی امید پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عوامی جانوں کے ضیاع سے متعلق مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر سنا جائے، مقررہ مدت کے اندر فیصلے کیے جائیں اور عدالتوں کے احکامات پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ بروقت انصاف نہ صرف متاثرین کے لیے اطمینان کا باعث بنتا ہے بلکہ معاشرے میں قانون کی ہیبت بھی قائم کرتا ہے۔ جو سرکاری افسر اور اہلکار اپنے فرائض قانون کے مطابق ادا نہیں کررہا ، اس کے احتساب کا طریقہ سادہ اور ابہام سے پاک ہونا چاہیے، اس حوالے سے قانون سازی انتہائی ضروری ہوچکی ہے۔

عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ سرکاری افسروں و ملازمین پر خرچ ہوتا ہے، اگر سرکاری افسر اور ملازمین اپنا کام نہیں کررہے ہیں تو انھیں نوکریوں سے برخاست کرنے کا میکنزم سبک رفتار ہونا چاہیے۔ اس سانحے نے معاشرے کے اجتماعی رویوں پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ عوام بھی حفاظتی اصولوں کو غیر ضروری سمجھتے ہیں، تعمیراتی قوانین کو رسمی کارروائی تصور کرتے ہیں اور اس وقت تک خطرے کا احساس نہیں کرتے جب تک کوئی بڑا حادثہ پیش نہ آ جائے۔ یہ رویہ تبدیل کیے بغیر صرف سرکاری اقدامات دیرپا نتائج نہیں دے سکتے۔ شہریوں، تعلیمی اداروں، انجینئروں، تعمیراتی کمپنیوں اور مقامی کمیونٹی کو بھی قانون کی پابندی اور احتیاطی تدابیر کو اپنی اجتماعی ذمے داری سمجھنا ہوگا۔ قومیں صرف سانحات پر ماتم کر کے آگے نہیں بڑھتیں بلکہ ان سے سبق سیکھ کر اپنے اداروں کو مضبوط، قوانین کو مؤثر اور احتساب کو غیر جانبدار بناتی ہیں۔

پاکستان کو بھی اب اسی راستے کا انتخاب کرنا ہوگا۔ انسانی جان کو ہر مفاد پر مقدم رکھنا، قانون کو ہر شخصیت سے بالا تر تسلیم کرنا، اداروں کو جواب دہ بنانا اور انتظامی غفلت کو ناقابل معافی جرم قرار دینا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے عوام کا ریاست پر اعتماد بحال ہو سکتا ہے اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک محفوظ، مہذب اور ذمے دار معاشرہ استوار کیا جا سکتا ہے۔ معصوم بچوں کی خاموش قبریں آج پوری قوم سے ایک سوال کر رہی ہیں۔ کیا ان کیاموات بھی ماضی کے بے شمار سانحات کی طرح محض چند روزہ افسوس، سرکاری بیانات اور رسمی تحقیقات کی نذر ہو جائیں گی یا پھر یہ سانحہ ایک ایسے نئے قومی شعور کو جنم دے گا جس میں انسانی جان کی حرمت کو ہر سیاسی، انتظامی اور مالی مصلحت پر ترجیح دی جائے گی؟