سپریم کورٹ نے 2 فوجی اہلکاروں کی سزائے موت کیخلاف اپیل خارج

سپاہی مشتاق اور لانس نائک مکرم حسین پر اپنے ساتھیوں کو مارنے کا الزام تھا اور ملٹری کورٹ نے دونوں کو سزائے موت دی تھی


Numainda Express April 02, 2015
سپاہی مشتاق اور لانس نائک مکرم حسین پر اپنے ساتھیوں کو مارنے کا الزام تھا اور ملٹری کورٹ نے دونوں کو سزائے موت دی تھی۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے فوج کے حاضر سروس 2 ملازمین کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کرتے ہوئے قرار دیاہے کہ وہ فوجی عدالتوں کے فیصلوں کا جائزہ لینے کی مجاز نہیں۔

سپاہی مشتاق اور لانس نائک مکرم حسین پر اپنے ساتھیوں کو مارنے کا الزام تھا اور ملٹری کورٹ نے دونوں کو سزائے موت دی تھی، اس فیصلے کے خلاف اپیل ہائی کورٹ نے دائرہ اختیار نہ ہونے کی بنیاد پر خارج کردی تھی جبکہ جسٹس امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے گزشتہ روز ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا کہ مسلح افواج کے ملازمین کے ٹرائل کے لیے الگ قانون موجود ہے اور ملٹری کورٹ کا فیصلہ سول عدالتوں میں چیلنج نہیں ہوسکتا۔ عدالت نے کہاکہ ملٹری قانون کے مطابق ملزم کو دفاع کے لیے وکیل فراہم کیا جاتا ہے اور اپیل کے لیے فورم بھی دیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں