آصف زرداری کے خلاف ہتک آمیز ٹی وی پروگرام روکے جائیں پیپلز پارٹی کا پیمرا کو خط

بدین پولیس نے ذوالفقار مرزا اور ساتھیوں کے خلاف دوسرے روز بھی مزید 2 مقدمات درج کرکے مزید 3ساتھیوں کوگرفتارکر لیا


بدین پولیس نے ذوالفقار مرزا اور ساتھیوں کے خلاف دوسرے روز بھی مزید 2 مقدمات درج کرکے مزید 3ساتھیوں کوگرفتارکر لیا۔ فوٹو : فائل

KARACHI: سندھ ہائی کورٹ نے سابق وزیرداخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقارمرزاکی 4 مقدمات میں حفاظتی ضمانت منظورکرتے ہوئے6مئی تک متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے،دوسری جانب پیپلزپارٹی نے پیمرا سے خط میں استدعا کی ہے کہ ذوالفقارمرزا تسلسل کے ساتھ پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف ہتک آمیز اور جھوٹے الزامات ٹیلی ویژن چینلوں پر لگارہے ہیں،پیمراآصف علی زرداری کے خلاف یکطرفہ اور ہتک آمیز لائیو ٹی وی پروگرام کو روکے کیونکہ یہ پروگرام پیمرا قوانین اورآئین کی خلاف ورزی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بدین میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیرداخلہ ذوالفقار مرزا نے کہا ہے کہ میں نے جب بھی کسی کے خلاف جنگ چھیڑی ہے وہ ہاری نہیں بلکہ ہمیشہ جنگ جیتی ہے۔ سانحہ کارسازکی بے نظیر بھٹو کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ایف آئی آرابھی تک دبی ہوئی ہے،کارسازکے شہدا اور بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

دریں اثنا بدین پولیس نے ذوالفقار مرزا اور ساتھیوں کے خلاف دوسرے روز بھی مزید 2 مقدمات درج کرکے مزید 3ساتھیوں کوگرفتارکر لیا،دوسری جانب پولیس کی بھاری نفری دن بھر مرزا فارم مورجھر کے باہر تعینات رہی جبکہ ذوالفقار مرزا کے سیکڑوں حامی بھی فارم ہاؤس پہنچے اور وہیں ڈیرے ڈال کرموجود رہے لیکن پولیس نے فارم ہاؤس کے اندرجا کرذوالفقار مرزا کو گرفتار کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ ادھر ذوالفقار مرزا کی جانب سے ضلع بدین میں پیر کے روز پہیہ جام اور شٹر بند ہڑتال کی کال پر بدین شہر میں کاروبار زندگی معمول کے مطابق جاری رہا تاہم بعض شہروں میں کچھ گھنٹوں کے لیے کاروبار بند کیا گیا۔ رات گئے ذوالفقار مرزا کی حفاظتی ضمانت منظور ہونے کی خوشی میں بدین میں مٹھائی تقسیم کی گئی۔

اسٹاف رپورٹر کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عقیل عباسی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے ذوالفقارمرزا کی ایک ایک لاکھ روپے زرضمانت کے عوض حفاظتی ضمانت منظور کی ،سابق وزیرداخلہ نے وکیل اشرف سموں کے توسط سے ہوم سیکریٹری سندھ، آئی جی سندھ،مختلف ڈی آئی جیز، ایس ایس پیز اور ایس ایچ اوز سمیت 24سرکاری حکام کو فریق بناتے ہوئے درخواست دائر کی تھی ۔علاوہ ازیں پیپلزپارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری سینیٹرتاج حیدر کی جانب سے لکھا گیاخط سینیٹر تاج حیدر اور سینیٹر کریم خواجہ نے چیئرمین پیمرا سے ملاقات کرکے ان تک پہنچایا۔

جس میں پیمرا کی توجہ اس جانب دلائی ہے کہ ڈاکٹرذوالفقار مرزا تسلسل کے ساتھ پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف ہتک آمیز اورجھوٹے الزامات ٹیلی ویژن چینلوں پر لگا رہے ہیں اور اسے روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی جا رہی، الزامات یکطرفہ اور بے بنیاد ہیں اورجوزبان استعمال کی جا رہی ہے وہ اخلاق سے گری ہوئی ہے، ان الزامات کا کوئی ثبوت بھی نہیں دیا جاتا اور جو کچھ دکھایا جا رہا ہے وہ پیمرا کے ضابطوں کے خلاف ہے اوراسے روکا جانا چاہیے۔

سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ ٹیلی ویژن چینلوں کو بھی یہ بات یقینی بنانی چاہیے کہ ان کا پلیٹ فارم کسی کی ہتک ِ عزت کیلیے استعمال کیا جائے، تاج حیدر نے پیمرا سے کہا ہے کہ اس معاملے کا نوٹس لے اور 7 دنوں کے اندرضروری اقدامات کرے اوراگرایسا نہیں کیا جاتا تو وہ ضروری قانونی اقدام کریں گے۔ دریں اثنا پیپلزپارٹی کے میڈیا سیل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹرعاجزدھامرہ نے کہاکہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے قول و فعل میں ایک نہیں بلکہ مکمل تضاد ہے، سیاسی یتمیوں کو ساتھ ملانے سے پیپلز پارٹی کا کچھ نہیں بگاڑا جاسکتا اور جو لوگ سیاسی یتیموں کو ساتھ لے کرپیپلز پارٹی ختم کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں، وہ صرف احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔

پریس کانفرنس کے موقع پردیگرعہدیدار موجود تھے،سینیٹرعاجز دھامرہ نے کہا کہ جو لوگ ذاتی مفادات کی خاطر یا کسی کے اشارے پرسیاسی جماعت سے اپنا رشتہ ٹوٹ لیتے ہیں ،ان کی کوئی سیاسی حیثیت باقی نہیں رہتی اور تاریخ کے صفحات میں ان کا نام ونشان بھی باقی نہیں رہتا،انھوں نے کہا کہ ایک شخص جس طرح کی بازاری زبان استعمال کررہا ہے، وہ سب کے سامنے ہے،جس طرح ذوالفقار مرزا اپنی ضمانت قبل از گرفتاری اور ذاتی سکیورٹی کیلیے عدالت عالیہ کا دروازہ کھٹکٹھایا، اسی طرح وہ ایف آئی آر درج نہ ہونے پر بھی عدالت عالیہ سے رجوع کرسکتے تھے مگر انھوں نے اسلحہ اور ڈنڈا بردار گروہ کے ساتھ مل کر تھانے پر چڑھائی کردی۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کا جھگڑا صرف شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ہے اور بلاول بھٹو زرداری ان کے قائد ہیں ،لیکن دوسری جانب بدین کی سڑکوں پر بلاول بھٹو زرداری، شہید بینظیر بھٹواورشہید ذوالفقار علی بھٹوکی تصاویر کونذر آتش کیا ،جس پر ان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔دریں اثناپیر کے روز بھی ذوالفقار مرزا اور ان کے ساتھیوں کے علاوہ صحافیوں پر بھی تھانہ بدین سٹی اور کڈھن تھانے پر دو الگ الگ مقدمات درج کیے گئے مقدمات میں سرکاری ڈیوٹی میں مداخلت سمیت دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں جبکہ مزید تین حامیوں کی گرفتاری کے بعد مجموعی طور پر5 مقدمات درج اور6ساتھیوں کو گرفتار کیا جا چکاہے۔

دوسری طرف ذوالفقارمرزا کی ممکنہ گرفتاری کے پیش نظر علاقے میں پھیلی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا۔ تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلے رہے، لیکن طلبا کی حاضری کم رہی۔ حیدرآباد سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق سابق صوبائی وزیر داخلہ کی ضمانت کیلیے سندھ ہائیکورٹ حیدرآباد سرکٹ بینچ آمد کے پیش نظرعدالت اور گرد و نواح میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی تھی۔بدین نمائندے کے مطابق پریس کانفرنس میں ذوالفقار مرزا نے نام لیے بغیرپیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی کمال چانگ کوشدید تنقید کا نشانہ بنایااورکہا کہ میرا گھیرائو کرنے کی دھمکی دینے والے اپنا شوق پورا کرلیں، میں یہاں سے کراچی جائوں گا راستے میں بہت سے علاقے پڑتے ہیں وہ جہاں چاہیں میرا گھیرائو کرلیں۔

قبل ازیں خصوصی گفتگو میں ذوالفقار مرزاکا کہنا تھا کہ وہ قانون کا احترام کرتے ہیں، ماضی میں کبھی قانون کی خلاف ورزی کی نہ ہی کبھی کروں گا، قانونی ماہرین کے مشورے کے بعد ہزاروں حامیوں کے ساتھ گرفتاری پیش کروں گا۔

مقبول خبریں