آغا سلیم صوفی اور انقلابی

’’پھر ایک دن کفن پوش جتھے کا سردار پکڑا گیا۔ اسے گرفتار کر کے کراچی میں فلپ کے سامنے پیش کیا گیا


Zahida Hina April 24, 2016
[email protected]

یاد نہیں کہ ان سے پہلی ملاقات کب ہوئی تھی لیکن یہ بات دل پر لکھی ہے کہ ان سے میرا پہلا تعارف ستار پیرزادو کے وسیلے سے ہوا تھا، جنرل ضیاء الحق کا زمانہ تھا اور میں 'روشن خیال' نکال رہی تھی۔ ان ہی دنوں ستار پیرزادو ایک ضخیم رجسٹر لے کر میرے پاس آئے۔ یہ آغا سلیم سے میرا پہلا تعارف تھا۔

ستار نے کہا ''ادی! آغا صاحب نے قرۃالعین حیدر کے شاہکار 'آگ کا دریا' سے متاثر ہو کر سندھ کے تاریخی اور ثقافتی پس منظر میں یہ ناول لکھا ہے۔'' میں سندھی تحریروں کی تلاش میں رہتی تھی۔ ستار پیر زادو کا ترجمہ کیا ہوا یہ ناول میں نے ان سے لیا اور ایک ہی رات میں اسے پڑھ گئی۔ آغا سلیم کے لکھے ہوئے لفظوں میں جنم بھومی کے عشق کی خوشبو تھی، ان کے کرداروں سے شہادت کی سگندھ آتی تھی۔ انگریز نے تجارت کے دبیز ست رنگے پردے کی آڑ میں جس طرح ہندوستانیوں سے حکومت چھینی تھی، اس کے بھید بھاؤ آغا صاحب نے کس ہنرمندی سے لکھے تھے۔ اس ناول میں سندھ سے اور حسن سے عشق تھا۔ اس میں موئن جودڑو کی نرتکی تھی، اس کا پروہت تھا۔ وہ برطانوی تھا جو برٹش بیورو کریسی کا فرد تھا اور علم کا جویا تھا۔ وہ سندھی رسم الخط کو بنانے کے لیے بے تاب تھا، لیکن جب وقت آیا تو اسی نے سندھیوں کے سینے سیسے کی گولیوں سے چھلنی کر دیے۔

اپنے ہیرو سارنگ اور برطانوی افسر فلپ کے بارے میں آغا سلیم نے کچھ یوں لکھا کہ:

''سارنگ نے سندھی اور انگریز علما سے مل کر سندھی کے حروف تہجی بنائے، سندھی کے نئے رسم الخط میں کتابیں لکھیں۔ تاریخ، جغرافیہ، حساب، کہانیاں، بچوں کا قاعدہ۔ کراچی، حیدرآباد اور شکارپور میںا سکول کھلے تھے، جہاں سارنگ کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھائی جانے لگی تھیں۔ ہر روز رات کو وہ فلپ سے ملنے جایا کرتا۔ دونوں مل کر کتابیں لکھتے۔ فلپ بہت سی کتابوں کا سندھی میں ترجمہ کروانا چاہتا تھا، وہ کتنا خوش تھا۔ جیسے سندھی کا رسم الخط نہ بنا تھا، اس کی اپنی مادری زبان کا رسم الخط بن گیا تھا۔ وہ پوری رات جاگ کر سارنگ سے انگریزی کی کتابوں کا ترجمہ کرواتا لیکن اچانک ہندوستان میں آزادی کی جنگ چھڑ گئی۔ انگریزوں نے اس جنگ کو بغاوت کہا اور توپوں اور بندوقوں سے آزادی کے متوالوں کا خون بہایا لیکن جیسے جیسے جاں فروشوں کے خون کی چھینٹیں اس آگ پر پڑتیں ویسے ویسے وہ آگ اور زیادہ بھڑک اٹھتی۔ پورا ہندوستان جل رہا تھا اور وہ آگ سندھ میں بھی بھڑکنے والی تھی۔ فلپ نے ایک دم قلم اور کتابیں پھینکیں اور فوج کو ساتھ لے کر سندھ کے دورے پر نکل پڑا۔''

آزادی کی آگ جب سندھ میں بھڑک رہی تھی تو سرفروشوں کا ایک جتھا سامنے آیا جو کفن پوش تھا۔ ان کفن پوشوں نے انگریزوں کی نیندیں حرام کر دیں۔ یہ معاملات آغا صاحب نے بہت درد انگیز انداز میں بیان کیے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

''پھر ایک دن کفن پوش جتھے کا سردار پکڑا گیا۔ اسے گرفتار کر کے کراچی میں فلپ کے سامنے پیش کیا گیا۔ فلپ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ سامنے سارنگ کھڑا تھا۔ وہی گندمی رنگ، کالی اور گھنی داڑھی، چوڑے شانے، چیتے جیسی کمر اور آنکھوں میں الاؤ۔ اس الاؤ کا عکس فلپ نے سارنگ کی آنکھوں میں اس وقت بھی دیکھا تھا جب وہ پہلی بار اس سے ملا تھا۔ ایسا ہی عکس اس نے بلوچ سرداروں کی آنکھوں میں بھی دیکھا تھا جن کو اس نے کالے پانی کی سزا سنائی تھی، یہی الاؤ، شیلے کی شاعری تھا، روسو اور والٹیئر کا خواب تھا، فرانس کا انقلاب تھا اور انسان کی آزادی کی امنگ تھا۔ کون ہے جو اس الاؤ کو بجھا سکے اور دھرتی سے روشنی کو ختم کر سکے۔ سارنگ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی اور وہ فلپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھ رہا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کے دوست تھے۔ دونوں نے مل کر سندھی کا رسم الخط بنایا تھا اور سندھی کی کتابیں لکھی تھیں۔ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ایک دوسرے سے، تاریخ سے اور زمانے کے ضمیر سے سوال پوچھ رہے تھے۔

بمبئی سے جج آئے۔ فلپ اور ججوں نے مل کر سارنگ پر کیس چلایا اور اسے موت کی سزا سنائی۔ فلپ نے اپنے ان ہاتھوں سے سارنگ کی موت کے پروانے پر دستخط کیے جن ہاتھوں سے اس نے مارگریٹ کے بالوں کو سنوارا تھا۔ جن ہاتھوں سے اس نے سندھی کا رسم الخط بنایا تھا۔ ان ہی ہاتھوں سے اس نے سارنگ کے موت کے پروانے پر دستخط کیے۔

سارنگ کو کراچی شہر سے دور ایک میدان میں لایا گیا، اسے توپ کے ساتھ باندھا گیا۔ توپ کی گرجدار آواز آئی اور سارنگ کے گوشت کے لوتھڑے اور ہڈیوں کے ٹکڑے ہوا میں اڑے اور سندھ کی سرزمین کے سینے پر آن گرے۔''

جی چاہتا ہے کہ آغا صاحب کی لکھت کے حوالے دیتی چلی جاؤں لیکن تنگیٔ داماں اجازت نہیں دیتی، بس یہ جان لیجیے کہ یہ ناول 'روشن خیال' میں 'اندھیری دھرتی، روشن ہاتھ' کے عنوان سے قسط وار شایع ہوا لیکن عجیب اتفاق تھا کہ آغا صاحب سے آمنا سامنا نہ ہو سکا۔ مجھے یاد نہیں کہ ان سے پہلی ملاقات کب اور کہاں ہوئی لیکن ہم دونوں کو محسوس یہی ہوا کہ ہم تو جُگوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ وہ سرکاری عہدوں پر رہے اور وہ بھی اس زمانے میں جب پاکستان کو آمریت کے گدھ نوچ رہے تھے، اس کے باوجود ان کے آئینہ دل پر مصلحت کا غبار نہ آیا۔ یہ وہ دن تھے جب اردو اور سندھی بولنے والے بہت سے لوگوں کی زبانیں زہر اگلتی تھیں اور انگلیاں ذہنوں میں زہر گھولتی تھیں لیکن آغا سلیم انسانوں کے عشق میں سرشار رہے، علم و دانش کے سات دریاؤں کی شناوری کرتے رہے۔ شیخ ایاز 'شاہ جو رسالو' کا اردو میں ترجمہ کر چکے تھے اور ساری دنیا سے داد وصول کر چکے تھے، ایسے میں آغا سلیم نے 'رسالو' کے ترجمے کا ڈول ڈالا۔ شیخ ایاز کی طرح انھوں نے بھی 'رسالو' کا منظوم ترجمہ کیا، فرق تھا تو یہ کہ بقول عبدالحمید آخوند 'انھوں نے شاہ صاحب کے کلام کی موسیقیت کو نظر میں رکھتے ہوئے ترجمہ کیا اور ان کے ترجمے کو ان ہی دھنوں میں گایا جا سکتا ہے جن میں شاہ کے سندھی کلام کو گایا جاتا ہے۔'

آغا صاحب نے جب شاہ جو رسالو کا اردو میں ترجمہ مجھے عنایت کیا تو اس نے دل موہ لیا، شاید اس کا سبب یہ ہو کہ وہ عربی اور فارسی کے بجائے ہندی اور ہندوستانی سے قریب ہے۔ سُر مومل رانو، کی چند سطریں پڑھیے اور سر دُھنیے:

''کندن تن کنواریاں، کھیلیں چاندی سنگ... آنگن خوشبو میں بسے، مہکیں سیج پلنگ... عطر انڈیل کے دھوئے سب نے، اجلے اجلے انگ... ایک ہجوم عاشقاں، دیکھ کے رہ گیا دنگ... عاشق عاشق بیراگی ہے، جو گی کا ہے سنگ''۔

آغا سلیم کے وجود میں جو سُر لہریں لیتے تھے، وہ انھوں نے شاہ جو رسالو کی سطروں میں نچوڑ دیے اور اردو والوں کو ایک انمول رتن دے گئے۔

اسی طرح انھوں نے حضرت سچل سرمست کے سندھی اور سرائیکی کلام کو اردو کا جامہ اس انداز سے پہنایا: ''عشق سوا سب جھوٹ فتور، سولی پر منصور... نہ کوئی دوزخ، نہ کوئی جنت، نہ ہی حور قصور... دل مُلا کی بات نہ مانے، نہ اس کا مذکور... دیکھ لیا ہے چشم یار کا، ہم نے سارا نور... دوجی ساری باتیں پھندے، ان سے رہ تو دور... 'سچو'، اب تو جان لے سچ کو، آپ ہی آپ حضور''۔

صوفی شاہ عنایت شہید سندھ کا مان اور اس کے انقلابیوں کی جان ہیں۔ ان کے بارے میں آغا سلیم نے 'ہمہ اوست' لکھا۔ نام 'سارنگ' انھیں بہت محبوب تھا، تب ہی 'ہمہ اوست' میں بھی سارنگ ہے۔ شہید شاہ عنایت کے جھوک سے سارنگ کی رخصت اور شاہ کی شہادت کو آغا سلیم نے یوں لکھا کہ جو پڑھ لے اس کے دل پر نقش ہو جائے:

''سورج غروب ہونے کو تھا۔ جلاد کی تلوار بجلی کی طرح کوندی اور شاہ عنایت کا سر تن سے جدا کر دیا۔ سارنگ کی بیوی نے فریاد کی اور بچے کو سینے سے لگا لیا۔ بھٹ پر شاہ عبداللطیف نے چونک کر مراقبے سے سر اٹھایا اور آسمان کی طرف دیکھا۔ درویش نے طنبورے پر ضرب لگائی اور فریاد کی۔ ہر کوئی منصور، کس کس کو تو قتل کرے گا۔

سارنگ کے سینے میں ٹیس سی اٹھی۔ اس نے لگام چھوڑ کر ہاتھ دل پر رکھ لیا۔ گھوڑا پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہو گیا اور زور سے ہنہنایا۔ سارنگ گرتے گرتے بچا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ آسمان پر خون آلود شفق کی سرخی پھیلی تھی۔ آسمان سے خون ٹپک رہا تھا اور ساری کائنات لہولہان تھی۔''

ان کا کہنا تھا کہ سندھی صوفی شاعروں کو پڑھ کر میں کہا کرتا ہوں کہ صوفی اور انقلابی کبھی بھی مایوس نہیں ہوتا۔ وہ کل کا فرزند ہوتا ہے اور کل ہی میں جیتا ہے۔ انقلابی اس کل میں جیتا ہے کہ جب دھرتی سے سارے دکھ دھل جائینگے اور دکھی انسانوں کے لبوں پر مسکراہٹوں کی پو پھٹے گی اور صوفی کہتا ہے کہ یہ ہجر تو پل بھر کا ہے پھر تو وصل ہی وصل ہے۔

آغا صاحب آپ رخصت ہوئے، ہمیں سوگ میں چھوڑ گئے۔ کیا آپ سے ہم یہ پوچھیں کہ زندگی آپ کے لیے ہجر تھی اور اب ایک وصل مسلسل بن چکی ہے یا کائنات کی نامعلوم مسافتوں میں آپ گوتم بدھ کی طرح 'سروم دکھم دکھم' کا ورد کر رہے ہیں؟

مقبول خبریں