دی گریٹ رومن سرکس

مغلوں نے جنتا کو دبدبے میں رکھنے کے لیے ایسی دبدبہ دار عمارات اور عظیم منصوبوں کا سہارا لیا


Wasat Ullah Khan October 22, 2016

ISLAMABAD: کہا جاتا ہے یونان جدید جمہوریت کی ماں ہے۔ عام شہری کے ووٹوں سے پہلی شہری ریاست (سٹی اسٹیٹ) ایتھنز میں پیدا ہوئی۔ اس ریاست میں غلاموں اور اجنبیوں (غیرملکی) کے سوا ہر شہری رائے دینے کا اہل تھا۔

منتخب اسمبلی ایک مقررہ مدت کے لیے شہری ریاست کا انتظام چلاتی اور جنگ و امن و تجارت و سماجی اخلاقیات کی حدود سمیت مقدس دیوتاؤں کے سائے میں مفادِ عامہ کے لیے سب طرح کے اہم فیصلے کرتی تھی۔ بنیادی آزادیوں کی ضمانت اور تحفظ کے نتیجے میں یونانی ڈرامہ، منطق، سائنس اور طب پیدا ہوئے جنہوں نے آگے چل کر مہذب دنیا کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ کہا جاتا ہے کہ آج کا مغرب دراصل یونانی سٹی اسٹیٹ کی ایک جدید شکل ہے۔

مگر یونانی تمام تر ترقی اور جدید سوچ کے باوجود سکندرِ اعظم کی عارضی فتوحات کو چھوڑ کر ویسی سلطنت قائم نہ کر پائے جیسی بعد ازاں رومن اور پھر ایرانی اور پھر عرب اور پھر نوآبادیاتی طاقتیں قائم کرنے میں کامیاب ہو سکیں اور آج یہی سلطنت نیو کلونیل ازم کے نام پر بین الاقوامی کارپوریشنوں کی بادشاہت ہے اور چند سو لوگ دنیا کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ منگول طوفان کی طرح اٹھے ضرور مگر اپنی حکمرانی کو وہ پائیداری کیوں نہ دے سکے جس کے لیے رومن، ایرانی، عرب، مغربی نوآبادیاتی اور آج کی گلوبل سرمایہ دارانہ سلطنت جانی جاتی ہے۔

اس بابت متعدد وجوہات پر قیامت تک بحث ہو سکتی ہے مگر پہلے کے مقابلے میں اب یہ دیکھنا زیادہ آسان ہے کہ کسی طبقے یا شخص کی آمریت جسمانی جبر کی بنیاد پر بہت زیادہ کیوں نہ چل سکی اور جن سلطنتوں نے عوام کے ذہنوں پر قبضہ کیا اور بنیادی مسائل سے عوامی توجہ ہٹانے میں کامیاب رہیں وہ تادیر قائم رہیں۔

رومنوں نے اگرچہ یونانی طرزِ حکومت سے بہت کچھ لیا۔ فیصلہ سازی کے اختیارات منتخب رومن سینیٹ کو حاصل تھے اور وہی اہم امور میں قانون سازی بھی کرتی تھی۔ کبھی بادشاہ اس پر حاوی ہو جاتا تھا تو کبھی سینیٹ بادشاہ پر۔ مگر سینیٹ دراصل اشرافیہ کا کلب تھی۔ اقتدار کی میوزیکل چیئر گیم عام رومن شہری دیکھ کر تالیاں تو بجا سکتا تھا مگر اس کلب میں داخل ہونا محال تھا۔ لیکن یہ بھی ضروری تھا کہ فیصلہ سازی میں عام آدمی کی عدم شرکت سے پیدا ہونے والے ممکنہ احساسِ محرومی کو بغاوتِ عام کی شکل ملنے سے پہلے پہلے وقتاً فوقتاً کچھ اس طرح کے توجہ ہٹاؤ اقدامات کیے جاتے رہیں کہ انھیں سوچنے کی فرصت ہی نہ ملے کہ ان کے نام پر جو فیصلے ہو رہے ہیں ان کا بیشتر فائدہ مٹھی بھر اشرافیہ ہی کیوں اٹھا رہی ہے۔

اتنی بڑی سلطنت کے پھل صرف اشرافیہ کی گود میں ہی کیوں ہیں۔ مالِ غنیمت اور نوآبادیاتی خوشحالی میں ہمارا حصہ اتنا کم کیوں ہے؟ ہمارے لیے اناج کیوں مہنگا ہے؟ ہم صرف توسیعِ سلطنت کی جنگوں کا ایندھن بننے کے لیے ہی کیوں ہیں؟ اگر مقبوضہ علاقوں کے غلام وافر ہیں تو یہ سب حکمران طبقے کی خدمت کے لیے ہی کیوں ہیں؟

انھی سوالات سے بچنے کے لیے اشرافیہ نے گریٹ رومن سرکس کی بنیاد رکھی۔ جیسے ہی رومن شہریوں میں کسی بھی معاشی و سیاسی بحران کے سبب بے چینی کے آثار نمایاں ہوتے کھیلوں کا اعلان ہو جاتا۔ روم کے کولوسئم کے دروازے کھل جاتے اور ذرا دیر میں اسٹیڈیم جنتا سے بھر جاتا۔ آج بھوکے شیروں اور گلیڈی ایٹرز ( تربیت یافتہ غلام ) کی لڑائی ہو گی۔ کل نوکدار سینگوں والے بیلوں اور غلاموں کا دنگل ہو گا۔

پرسوں گریٹ رومن آرمی کے چاق و چوبند گھڑ سوار جنگی مشقوں کا مظاہرہ کریں گے، گزشتہ روز بادشاہ سلامت کولوسئم میں مقابلے دیکھنے تشریف لائیں گے اور اس موقع پر اپنے پیارے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کچھ اہم اعلانات کریں گے اور نئی فتوحات کی خوشخبریاں سنائیں گے۔ اس سے اگلے دن معزز سینیٹرز بھی عوام کے درمیان بیٹھنے کے لیے تشریف لائیں گے اور جن باغیوں کی سزائے موت پر عمل ہونا ہے انھیں عظیم رومن عوام کے سامنے کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔

اور پھر گھروں، بازاروں، چائے خانوں میں ایک ہی موضوع ہوتا۔ فلاں گلیڈیٹر نے بھوکے شیروں کے سامنے کیا دادِ شجاعت دی واہ واہ۔ ہمارا بادشاہ گزشتہ بادشاہوں کی نسبت ہمارا زیادہ خیال رکھتا ہے، دیکھا شاہی محافظوں کے بکلس کیسے چمک رہے تھے۔ سنا ہے ایک اور عظیم الشان کولوسئم بنایا جا رہا ہے؟ ارے یہ افواہ کتنی سچ ہے کہ تیونس میں ہماری عظیم فوج نے وحشیوں کی بغاوت کچل دی ہے؟ ان وحشیوں کے ساتھ یہی ہونا چاہیے جو ہماری عظیم سلطنت کے سامنے کھڑے ہونے کی جرات کریں۔

ایرانیوں نے عام آدمی کو سوال سے محروم کرنے کے لیے اور بہتر طریقہ نکالا۔ بادشاہ تو خدا ہے اور خدا سے کیسی حجت؟ عرب سلطنت میں قبائلی عصبیت کو ابھار کے کبھی ایک کو نیچے تو کبھی دوسرے کو اوپر لا کر لوگوں کو کسی اجتماعی سوال کے محور پر یکجا ہونے سے کامیابی کے ساتھ روکا گیا اور یہ فارمولا آج تک تیر بہدف ہے۔

مغلوں نے جنتا کو دبدبے میں رکھنے کے لیے ایسی دبدبہ دار عمارات اور عظیم منصوبوں کا سہارا لیا جن سے اشرافیہ کی سطوت کا سکہ جما رہے اور لوگ اسی میں لگے رہیں واہ کیا تاج محل بنایا ہے۔ تم نے فتح پور سیکری کے محلات دیکھے؟ بھیا مجھے تو لگتا ہے کہ دلی کا لال قلعہ کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔ ارے پھر تم نے لاہور کی بادشاہی مسجد اور اس کے ساتھ والا قلعہ نہیں دیکھا۔ سنا ہے بادشاہ اب دکن فتح کرنے جا رہا ہے۔ ہاں بھئی اپنے مغلوں کے آگے کون ٹھہر سکتا ہے۔ ٹھیک ہے پچھلے سات برس ہمارے علاقے میں قحط پڑا رہا مگر یہ بھی تو دیکھو کہ بادشاہ نے لگان آدھا کر دیا۔

راجھستان میں جب لوگ بھک مری میں مبتلا ہونے لگتے تو راجپوت رجواڑے بھوکوں کو روزگاری مصروفیت دینے کے لیے کسی قلعے یا محل کا منصوبہ شروع کر دیتے۔ اسی لیے آپ کو راجھستان میں بیسیوں شاندار قلعے اور محلات نظر آتے ہیں جن کا بظاہر کوئی معاشی یا عسکری جواز نہ بھی رہا ہو۔ مگر عوامی استعمال کی پرانی عمارات بہت کم ہیں۔

پھر یہ ہوا کہ لوگ پڑھ لکھ گئے اور ''باشعور'' ہونے لگے۔ حکمران طبقات اور ان کی ضروریات و تقاضے بھی بدلتے چلے گئے۔ چنانچہ لالی پاپ بھی بدلنے پڑ گئے۔ سوچئے ہٹلر کے دن اقتدار میں رہتا اگر وہ ''خون چوسنے والی یہودیوں'' اور منتقم جرمن دشمن مغربی طاقتوں ''اور سوویت کٹھ پتلی جرمن کیمونسٹوں کا پنچنگ بیگ ''باشعور'' جرمن عوام کے سامنے نہ لٹکاتا اور انھیں خالص آریائی خون کی حکمرانی کا باجا تھماتے ہوئے میدانِ جنگ کی طرف نہ دھکیلتا۔

ایک عام امریکی کو نہ کبھی بیس بال میچ دیکھنے سے فرصت ملے گی اور نہ ہی وہ سوچے گا کہ آخر باقی دنیا کے لوگ امریکا سے پیسے لے کر امریکا کو گالیاں کیوں دیتے ہیں۔ پوتن اور اس کے راتوں رات نودولتیوں کی ایمپائر برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ عام روسی کے کان میں مسلسل پھونکا جاتا رہے ''میرا ساتھ نہ دیا تو مغرب کچا کھا جائے گا''۔

آر ایس ایس کو جب لگنے لگے کہ ان کا مودی وعدے کے باوجود ''اچھے دن'' نہیں لا پا رہا تو اس سے پہلے کہ لوگ سوال اٹھانے لگیں انھیں ''غدار'' تلاش کرنے پر لگا دو، گائے کے گوشت کی گھر گھر تلاشی میں مصروف کر دو اور کشمیر کے مدعے میں اتنی ہوا بھر دو کہ سب کو لگنے لگے کہ کشمیر پر کنٹرول ڈھیلا ہوا تو بھارت بھی گیا۔

خود پاکستان کو دیکھ لیں۔ اشرافیہ (حزبِ اختلاف، حزبِ اقتدار، فوج وغیرہ) روزانہ ایک نئی فلم لے آتی ہے، کبھی بلوہ، کبھی خواب، کبھی خوف۔ تاکہ ان بنیادی سوالوں کو اٹھایا ہی نہ جا سکے کہ ستر سال بعد بھی ہم ہر بنیادی شعبے میں ستر سال پیچھے کیوں ہیں؟

عظیم رومن سرکس پچھلے تین ہزار برس سے جاری ہے اور جاری ہے...

 

مقبول خبریں