جلدی بیماریوں اور زخم میں پیچیدگی پیدا کرنے والے43اقسام کے جراثیم دریافت

نئے جراثیم کیلیےدوائیں موجود نہیں،جراثیم مریض کےخون میں شامل ہوکراسکےڈی این اےکےذریعےاپنا ڈی این اےبناتے ہیں،محقیقین.


Safdar Rizvi December 18, 2012
جلدی بیماری اور زخم میں پیچیدگی پیدا کرنے والے مختلف اقسام کے جراثیم ۔ فوٹو : ایکسپریس

جامعہ کراچی میں بائیومیڈیکل ٹیکنالوجی کے ضا بطے میں کی گئی تحقیق کے ذریعے جلدی بیماریوں اور زخم میں پیچیدگی پیدا کرنے والے پاکستان میں 43 اقسام کے نئے اورمنفرد جراثیم دریافت کرلیے گئے ہیں۔

جو ہمارے اردگرد کے ما حول اور آب و ہوا میں موجود ہیں تاہم دنیا کے دیگر ممالک کی آب وہوا میں ان کا وجود دریافت نہیں ہوا ہے جس کی بنا پر جراثیم کا ڈیٹا جمع کرنے والے بین الاقوامی امریکی ادارے نے پہلی بار ملک میں موجود ان منفرد جراثیم کی بنیاد پر پاکستان کا نام اوران جرا ثیم کی جینیاتی تفصیلات اپنے ڈیٹا بیس میں شامل کرلی ہیں، 43اقسام کے ان منفرد جراثیم کی دریافت جامعہ کراچی کے ڈاکٹر عبدالقدیر خان انسٹیٹیوٹ آف بائیو ٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ میں تحقیق میں کی گئی ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ یہ جراثیم نہ صرف زیادہ تر جلدی بیماریاں پیدا کررہے ہیں۔

9

بلکہ جلد میں کسی بھی قسم کے زخم میں مزید پیچیدگی کا صرف اس لیے سبب بن رہے ہیں کہ ان جراثیم کو ختم کرنے والے دوائیں موجود نہیں ہیں،یہ تحقیق ڈاکٹر عبدالقدیر خان انسٹیٹیوٹ آف بائیو ٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹرمحمد شاہدکی زیر نگرانی سائنسی محققین عمبرینہ خاتون اور فرازحسین نے مکمل کی ہے، محقیقین کے مطابق ان نمونوں کے جینیاتی مادے کی تر تیب و ترکیب دنیا میں بھی پہلی بار دریافت کی گئی ہے ، ان انمول نمونوںکی جینیاتی اقسام کوسائنسی نام ST 2395 سے ST 2409 اورST 2451 تک تفویض کیے گئے ہیں جوکہ بین الاقوامی ڈیٹا بیس سے قابلِ رسائی ہے، اس ڈیٹا بیس میں دنیا بھر سے مختلف Staphylococcus aureus2592 کی معلومات درج ہیں،جامعہ کراچی کے ڈاکٹر عبدالقدیر خان انسٹیٹیوٹ آف بائیو ٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ میں انمول جرا ثیم دریافت کرنے والے سائنسدان ڈاکٹر محمد شاہد نے ''ایکسپریس''کو بتایا کہ دنیا کے تمام ممالک میں ''Staph aureus''نامی جراثیم پایا جاتا ہے جس کی 2ہزارکے قریب اقسام ہیں۔

تاہم پاکستان میں اس جراثیم کے خاندان کی 43نئی اورانمول اقسام دریافت کی گئی ہیں جودنیا میں اس جراثیم کے خاندان کی پائی جانے والی اقسام سے جدا ہیں، ڈاکٹر عبدالقدیر خان انسٹیٹیوٹ آف بائیو ٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹرعابد اظہرنے بتایاکہ مریض کی جلد یازخم میں شامل ہونے سے قبل ان جراثیم کا اپنا''ڈی این اے''نہیں ہوتا بلکہ یہ جراثیم مریض کے خون میں شامل ہوکراس کے ڈی این اے کے ذریعے اپنا ڈی این اے بنالیتے ہیں ، ڈاکٹر محمد شاہد نے بتایاکہ پاکستان میں زخم میں ہونے والے انفیکشن کو ختم کرنے کے لیے زیادہ تر ''Methicillin''اور''Vancomycin''نامی اینٹی بائیٹک دوائیں استعمال کی جاتی ہیں تاہم یہ دوائیں''Staph aureus''نامی جراثیم اور اس کے خاندان کے دیگرجراثیم کیلیے بنائی گئی ہیں۔

مقبول خبریں