ٹیکساس کے یہودیوں کی اعلیٰ ظرفی

عبادت گاہ خواہ وہ کسی مذہب کے ماننے والے کی ہو قابل احترام اور حساس ہوتی ہے


Zaheer Akhter Bedari February 10, 2017
[email protected]

دنیا کے خوفناک منظر نامے کو دیکھ کر اہل نظر، اہل دانش جس مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں ایسے میں اگر انسانی یکجہتی کے حوالے سے کوئی چھوٹی سی خبر بھی ان کی نظروں میں آ جاتی ہے تو وہ امید کی ایک کرن بن جاتی ہے اور انسان کے بہتر مستقبل سے مایوس فکری ایلیٹ کو ایک حوصلہ مل جاتا ہے۔ آج تازہ اخبارات کے مطالعے کے دوران میری نظر میں ایک، ایک کالمی چھ سطری خبر پر آ کر رک گئی جو اخبارکے آخری صفحے پر لگی تھی۔

اس خبرکی سرخی تھی ''امریکا، مسجد میں آگ لگنے کے بعد یہودیوں نے اپنا عبادت خانہ مسلمانوں کو دے دیا۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ امریکی شہر ٹیکساس کی ایک مسجد کے جل جانے کے بعد مقامی یہودیوں نے اپنا عبادت خانہ صومعہ مسلمانوں کے حوالے کر دیا۔ ٹیکساس کے ایک چھوٹے سے شہرکی واحد مسجدکوآگ لگنے سے مسجد کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

مقامی یہودیوں نے اپنی عبادت گاہ مسلمانوں کے حوالے کر کے جس انسان دوستی کا مظاہرہ کیا تھا کرۂ ارض کے موجودہ سیاسی اور سماجی منظر نامے میں اس خبر کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اسے چار کالم کی سرخی کے ساتھ اخبارکے صفحہ اول پر شایع ہونا چاہیے تھا کہ دنیا کے مختلف حوالوں سے تقسیم اور ایک دوسرے سے نفرت کرنے والے عوام کو سوچنے کا ایک موقع مل جاتا کہ سر سے پیر تک منافرت میں گھری یہ دنیا اچھے لوگوں سے خالی نہیں اب بھی کرۂ ارض پر اچھے لوگ موجود ہیں جو انسان کے بہتر مستقبل کی امید بنے ہوئے ہیں۔

اسرائیل یہودیوں کا ملک ہے، حکومت اسرائیل پچھلے 70 سال سے فلسطینیوں کے ساتھ جو ظلم کر رہی ہے۔ اس کی وجہ سے دنیا بھر کے مسلمان اور انصاف پسند عوام اسرائیلی حکمران طبقات سے سخت نالاں ہیں لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اسرائیلیوں میں بھی اچھے لوگ موجود ہیں جو اسرائیلی حکمران طبقے سے نالاں ہیں اور اپنی ناراضگیوں کا اظہار مظاہروں اور احتجاجوں کے ذریعے کرتے رہتے ہیں، جن کی خبریں ہمارے میڈیا میں بہت کم جگہ پاتی ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے؟

عبادت گاہ خواہ وہ کسی مذہب کے ماننے والے کی ہو قابل احترام اور حساس ہوتی ہے اپنی عبادت گاہوں کے تقدس کے حوالے سے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان بہت خون خرابے ہوتے رہتے ہیں۔ ہر مذہب کا ماننے والا اپنی عبادت گاہ کو مقدس جانتا ہے اور عام طور پر دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو اپنی عبادت گاہوں میں آنے سے روکتا ہے۔ اس پس منظر میں ٹیکساس کے یہودیوں کا اپنی عبادت گاہ کو مسلمانوں کے حوالے کرنا ایک ایسی انسان دوستی اور مذہبی یکجہتی کی علامت ہے جس کو سراہنا ضروری ہے۔

پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان کی سیاسی اور مذہبی قیادت عیسائیوں اور ہندوؤں کے مذہبی تہواروں میں شرکت کر کے جس مذہبی یکجہتی کے مظاہرے کر رہی ہے وہ نہ صرف اس ملک کے بہتر مستقبل کے لیے قابل نیک ہے بلکہ مذہبی انتہا پسندی کے اندھیروں میں روشنی کی ایک کرن کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس رجحان کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔

پاکستان پچھلے پندرہ بیس برسوں سے جس مذہبی انتہا پسندی اور دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے اس کا ایک غلط فہمی پیدا کرنے والا پہلو یہ ہے کہ دنیا پاکستان کو مجموعی طور پر ایک مذہبی انتہا پسند ملک سمجھنے لگی ہے حالانکہ اس ملک کی 95 فی صد آبادی مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ہے اور دہشتگردی کو دنیا پر مسلط ایک ایسا عفریت سمجھتی ہے جوکرۂ ارض پر ہزاروں سال میں پرورش پانے والی تہذیب کے لیے ایک مہیب خطرے سے کم نہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ دنیا ایک فی صد سے کم مذہبی دیوانوں کو کل پاکستان سمجھتی ہے۔

اس حوالے سے اس المناک حقیقت کو سمجھنے کی زحمت بھی نہیں کی جاتی کہ دہشتگردی کا سب سے زیادہ شکار پاکستان کے مسلمان ہی ہوئے ہیں۔ 70 ہزار پاکستانی مسلمان اب تک دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اور آج بھی ملک کے مختلف علاقوں خصوصاً بلوچستان اور پختونخوا میں دہشتگردی کی ہولناک وارداتیں ہو رہی ہیں یہ دونوں صوبے قبائلی نظام میں جکڑے ہوئے ہیں۔

امریکا کے نئے صدرٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم سے جس تنگ نظری اور نسل پرستی کا مظاہرہ شروع کیا ہے۔ اس کے منفی اثرات نہ صرف امریکا بلکہ ساری دنیا پر پڑ رہے ہیں۔ مسلمانوں اور تارکین وطن کے خلاف جن ناگوار اقدامات کا مظاہرہ مسٹر ٹرمپ کر رہے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بعض امریکی شہروں میں مسجدوں پر حملے ہو رہے ہیں اور امریکا میں مقیم تارکین وطن سخت سراسیمگی کا شکار ہیں۔ ٹرمپ ایک کاروباری آدمی ہیں اور کاروباری انسان عموماً انسانی قدروں سے محروم ہوتا ہے۔

ٹرمپ اپنی ہزیاتی فطرت کی وجہ سے آئے دن جس قسم کے قابل اعتراض اور قابل مذمت اقدامات کا مظاہرہ کر رہے ہیں اس کی وجہ سے ساری دنیا میں ایک خوف کی فضا جنم لے رہی ہے لیکن حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ امریکا سمیت ساری دنیا میں ٹرمپ ذہنیت اور ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف لاکھوں عوام سڑکوں پر آ رہے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ترقی یافتہ ملکوں کے حکمران کتنے ہی متعصب کیوں نہ ہوں ترقی یافتہ ملکوں کے عوام انسانی رشتوں کو محترم سمجھتے ہیں اور عملی زندگی میں سیکولر ہیں۔

ٹیکساس امریکا کا شہر ہے امریکا کے بعض شہروں میں کچھ نسل پرست گروہ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے مذہبی منافرت میں اضافے کا خدشہ ہے لیکن حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ امریکا کی بھاری اکثریت ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر آ کر امریکا کی اکثریت کی نمایندگی کر رہی ہے۔ ٹرمپ نے جن 7 مسلم ملکوں کے عوام پر امریکا میں داخلے کی پابندی لگائی ہے وہیں فرانس نے ایران سے امریکا آنے والوں کی تعداد دوگنی کر کے امریکا کی ایران دشمنی کے منہ پر طمانچہ لگایا ہے۔

ٹیکساس کے ایک چھوٹے سے شہر کے یہودیوں نے اپنی عبادت گاہ کو مسلمانوں کے حوالے کر کے جس انسان دوستی کا مظاہرہ کیا ہے وہ نہ صرف قابل احترام ہے بلکہ قابل تقلید بھی ہے۔ یہی وہ راستے ہیں جو کرۂ ارض کی 7 ارب انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لا سکتے ہیں۔

مقبول خبریں