پاکستان اور بھارت میں امن کی خواہش

دہشت گردی کے حوالے سے دونوں ممالک کی طرف سے ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے، کیا یہ سلسلہ ختم ہوسکتا ہے؟


آصف محمود May 30, 2017
امن عمل کا مطلب صرف یہی نہیں ہے کہ دونوں طرف کے چند لوگ ایک دوسرے کو لپک لپک کر گلے لگائیں بلکہ امن اُسی صورت ممکن ہے جب ایک دوسرے کی تشویش کو سنا جائے اور اُسے دور کرنے کی کوشش کی جائے۔

KARACHI: میرے سامنے دو تصویریں ہیں، ایک تصویر میں ہندوستانی بچیاں رقص کررہی ہیں جبکہ دوسری تصویر جو ویڈیو اسکرین سے بنائی گئی ہے اُس میں دو بچیاں الگ رقص کر رہی ہیں لیکن یہ بچیاں پاکستانی ہیں۔ یہ تصویریں پاکستان اور بھارت کے مابین نفرتوں اور تناؤ کو محبت میں بدلنے کی کوشش میں مصروف آغازِ دوستی نامی این جی او کی طرف سے سامنے آئی۔ 2012ء میں بننے والی اس این جی او میں پاکستان اور بھارت کے سول لوگ شامل ہیں۔



آغازِ دوستی کے تحت دونوں ممالک کے اسکول اور کالجز کے طلباء و طالبات کے باہمی رابطوں کا ایک پروگرام چل رہا ہے جس کے تحت دونوں ممالک کے مشترکہ کلچر، کھانوں اور رسم و رواج کو فوکس کیا جاتا ہے۔ یہ تصویریں بھارت کے گجرات پبلک اسکول کی ہے، جس میں دو بچیاں کلاس روم میں گجرات کا روایتی رقص کررہی ہیں جبکہ اُسی کلاس روم میں لگی بڑی سی اسکرین پر کراچی کے ایم ایس بی فاطمہ جناح گورنمنٹ گرلز اسکول کے کلاس روم کا منظر ہے جس میں دو بچیاں علاقائی رقص پیش کررہی ہیں۔ اصل میں اسکائپ کے ذریعے پاکستان اور بھارت کے طالب علموں کا مختلف موضوعات پر باہمی مقابلہ کروایا جاتا ہے جس کا مقصد ایک دوسرے کے ملک اور عوام میں محبت پیدا کرنا ہے۔



پاکستان اور بھارت میں اِس وقت جو تناؤ ہے، ایسے میں دونوں ممالک کے مابین امن اور محبت کی بات کرنا یقیناً اپنی حب الوطنی کو خطرے میں ڈالنے کے مصداق ہے لیکن کیا یہ تناؤ پہلی بار آیا ہے؟ یقیناً نہیں، مجھے وہ وقت بھی یاد ہے جب دونوں ہمسایہ ملکوں کے تعلقات اتنے کشیدہ ہوچکے تھے کہ افواج نے سرحدوں پر ڈیرے ڈال لئے تھے اور مشرقی بارڈر کے قریب سینکڑوں دیہات سے لوگ نقل مکانی کرکے شہروں کی طرف منتقل ہورہے تھے لیکن مذاکرات کے عمل کی وجہ سے جنگ کے بادل چھٹ گئے اور دونوں ملکوں کے بیچ حالات معمول پر آگئے۔

آغازِ دوستی تنظیم کی طرف سے دونوں ممالک کے حالات معمول پر لانے کے لیے سرحد کے آر پار بسنے والے سماجی، سیاسی، ادبی اور تعلیمی شخصیات کی طرف سے ایک مشترکہ ای میل مہم بھی جاری ہے جس میں دونوں ملکوں کی سول حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ نفرت کے شعلوں کو مزید بھڑکانے کی بجائے بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے تمام معاملات کو حل کریں، کیونکہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ دونوں ملکوں کے عوام خطے میں امن چاہتے ہیں اور امن بندوق سے نہیں بات چیت سے ہی ممکن ہے۔



یہاں میں آپ کو ایک تازہ ترین واقعہ سنانا چاہوں گا۔

یہ 25 مئی کی بات ہے، سوات کے علاقے مینگورہ کا رہنے والا ایک نوجوان عبداللہ شاہ جس کی عمر 20 سال ہے وہ اِس بات سے بے خبر تھا کہ اِس وقت پاکستان اور بھارت کے حالات کا جوالا مکھی کس قدر پھٹنے کے قریب ہے۔ یہ بیچارا بھارت جانے کی خواہش دل میں لئے سوات سے لاہور پہنچا، یہاں پہنچ کر اُسے معلوم ہوا کہ بھارت جانے کے لئے وہاں کسی رشتہ دار کا ہونا ضروری ہے۔

جب ویزا نہ لگا تو اُس نے سوچا واہگہ بارڈر جاتا ہوں وہاں سے بھارت کے عوام کو دیکھ لوں گا۔ عبداللہ شاہ پریڈ اور بھارتی عوام کو دیکھنے واہگہ بارڈر پر پہنچا تو پریڈ شروع ہونے سے چند منٹ پہلے اُسے گیٹ سے دوسری جانب بی ایس ایف کا جوان کھڑا نظر آیا۔ عبداللہ شاہ نے سوچا وہ بھارت تو نہیں جاسکتا، یہی سوچ کر وہ سرحدی دروازوں کے قریب چلا گیا اور زیرو لائن کے دوسری طرف کھڑے بھارتی سپاہی سے ہاتھ ملانے کی کوشش کی۔ بھارتی سپاہی نے ہاتھ تو نہیں ملایا مگر اِس دوران ایک دوسرا بھارتی سپاہی آیا اور اُس نے عبداللہ شاہ کو پکڑلیا، اب وہ بیچارا امرتسر کی جیل میں ہے۔

خیر ہم بات کررہے تھے آغاز دوستی کی جو پاکستان اور بھارت میں دوستی کی خواہاں ہے۔ اِس تنظیم کی طرف سے متعدد بار 'پیس کلینڈر' بھی جاری کئے جاچکے ہیں جن میں پاکستانی اور بھارتی بچوں کی طرف امن کے پیغامات پر مبنی پینٹنگز کو شامل کیا گیا ہے۔ ہمسایہ ملکوں میں دوستی سب کی خواہش ہے لیکن اہم سوال یہ ہے کہ یہ دوستی کس قیمت پر ہونی چائیے؟ مختلف تنازعات جن میں کشمیر سرِ فہرست ہے کیا دونوں ممالک کشمیر کے بارے میں اپنے اپنے موقف سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں؟ جواب ہوگا کبھی نہیں۔

دہشت گردی کے حوالے سے دونوں ممالک کی طرف سے ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے، کیا یہ سلسلہ ختم ہوسکتا ہے؟ اِس کا جواب بھی فی الحال 'ناں' ہی نظر آتا ہے تو پھر دوستی کیسے ممکن ہے؟ اِس کا صرف ایک ہی حل ہے کہ باہمی تنازعات کے پُر امن حل کے لئے دونوں ملکوں کے عوام اپنی اپنی سول حکومتوں کو مذاکرات پر مجبور کریں تاکہ خوف اور نفرت کے سائے میں پلنے والے دونوں ممالک کے ڈیڑھ ارب عوام امن اور سکون کی زندگی گزار سکیں۔

امن عمل کا مطلب صرف یہی نہیں ہے کہ دونوں طرف کے چند لوگ ایک دوسرے کو لپک لپک کر گلے لگائیں اور اوپری اوپری باتیں کرکے واپس چلے جائیں بلکہ امن اُسی صورت ممکن ہے جب ایک دوسرے کی تشویش کو سنا جائے اور اُسے دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ بھارت یہ بھی جانتا ہے کہ پاکستان کو اِس وقت اندرونی طور پر دہشت گردی کا سامنا ہے، اور اگر پاکستان کے حالات زیادہ خراب ہوتے ہیں تو پھر دہشت گردوں کا اگلا ہدف خود بھارت ہوسکتا ہے۔

پاکستان کا غیر مستحکم ہونا خود بھارت کے مفاد میں نہیں ہے، بلکہ ایک کمزور پاکستان بھارت کے لیے زیادہ خطرہ ہوگا۔ یہ سب جانتے ہوئے بھی بھارت پاکستان کے اندر ایسی شرارتیں کرنے میں لگا رہتا ہے جس سے حالات خراب ہوجاتے ہیں۔ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا یا بھارت نے اپنے رویے پر نظرثانی نہ کی تو پھر آغاز دوستی سمیت اُن تمام لوگوں کی خواہشات کمزور پڑجائیں گی جو اِس وقت امن کی شمع جلانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

[poll id="1377"]

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا لکھاری کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی۔

مقبول خبریں