پاکستانی سیاست اور مڈل کلاس
مذہبی مڈل کلاس بھی شدید دھڑے بندیوں کا شکار ہے اور اپنے تنگ نظرانہ فلسفوں کی وجہ سے جمود اور محدودیت کا شکار ہے
KARACHI:
پاکستان کی سیاسی تاریخ کا یہ المیہ رہا ہے کہ اس ملک میں کبھی مڈل کلاس کی جماعتوں کو قدم جمانے اور مستحکم ہونے کا موقع نہیں دیا گیا، اس سازش میں حکمران اشرافیہ کے ساتھ ساتھ غیر سیاسی طاقتیں بھی شامل رہیں۔ پاکستانی سیاست میں مڈل کلاس پارٹیاں یا تو ترقی پسندوں پر مشتمل رہیں یا پھر مذہبی جماعتوں پر ۔ بھٹو کے سیاست میں آنے سے پہلے سیاسی پارٹیوں میں ترقی پسند سیاسی پارٹیوں کی ایک الگ پہچان تھی کیونکہ ان کے ایجنڈے میں حصول اقتدار کو کوئی اہمیت حاصل نہ تھی بلکہ یہ جماعتیں نظام کی تبدیلی کو اپنے منشور میں سر فہرست رکھتی تھیں۔
اس حوالے سے ترقی پسند جماعتوں کا موقف ہمیشہ یہ رہا کہ ہمارے ملک کی سیاست میں پیش رفت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمارا قبائلی اور جاگیردارانہ نظام ہے جب تک ان فرسودہ اور آؤٹ ڈیٹڈ نظاموں کو ختم نہیں کیا جائے گا، ہماری قومی زندگی کے کسی شعبے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکے گی۔
اس حقیقت کے پیش نظر ترقی پسند جماعتوں نے زرعی اصلاحات کے ذریعے جاگیردارانہ نظام کو ختم کرنے کے پروگرام کو ہمیشہ اولیت دی اور اس حوالے سے بڑی جدوجہد بھی کی لیکن ہماری اجتماعی بد قسمتی یہ رہی کہ ترقی پسند جماعتوں کو ہمیشہ یا تو منتشر رکھا گیا یا پھر ریاستی طاقت کے ذریعے کچلا جاتا رہا۔ ریاستی طاقت کا باضابطہ اور منصوبہ بند اشتعال ایوب خان کی حکومت کے دور سے شروع ہوا اور وہ بھی امریکا کی زیر سرپرستی اور سازش کے تحت بیسویں صدی کی چھٹی دہائی میں سوشلزم دنیا میں اس تیزی کے ساتھ مقبول ہورہا تھا کہ سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں کو یہ خطرہ لاحق ہوگیا کہ سوشلزم کہیں سرمایہ دارانہ نظام کا حقیقی حریف نہ بن جائے۔
سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں کو اس حقیقت کا ادراک تھا کہ پسماندہ ملکوں کے غریب عوام کو جو سرمایہ دارانہ نظام کی چیرہ دستیوں سے عاجز آگئے ہیں۔ سوشلزم متاثر کرسکتا ہے اس خطرے کے ازالے کے طور پر انھوں نے پسماندہ ملکوں کو اقتصادی امداد دینا شروع کی پاکستان کو بھی کولمبو پلان کے تحت امریکا نے بھاری اقتصادی امداد دینی شروع کی اس امداد کے ساتھ امریکا نے یہ شرط بھی لگادی کہ پاکستان میں ترقی پسند طاقتوں کو کچلا جائے۔ ایوب خان نے اس امریکی شرط کو پورا کرنے کے لیے ترقی پسند طاقتوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا۔
ایوب خان کے زمانے میں سیاسی محاذ پر نیشنل عوامی پارٹی کے علاوہ طلبا، مزدوروں،کسانوں، وکلا اور ڈاکٹروں میں بھی ترقی پسند طاقتیں متحرک اور مضبوط تھیں سو ایوب خان نے ان سارے محاذوں کے خلاف بدترین ریاستی طاقت کا استعمال شروع کیا اور سیکڑوں نہیں ہزاروں کارکنوں کو جیلوں میں بند کردیا ۔ حتیٰ کہ ترقی پسند رہنماؤں کو اذیت دے کر قتل کرنے سے بھی دریغ نہ کیا۔ حسن ناصر بھی اس امریکی سازش کا شکار ہوئے اور بائیں بازو کی سیاست کمزوری اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگی ۔ اس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھٹو نے ایک ترقی پسندانہ منشور اور جذباتی نعروں کے ذریعے نیشنل عوامی پارٹی اور ملحقہ تنظیموں کے کارکنوں کو اپنی طرف راغب کرنا شروع کیا اور وہ اس کوشش میں بڑی حد تک کامیاب بھی رہے ۔ سازش کا نتیجہ یہ نکلا کہ بایاں بازو عملاً جمود کا شکار ہوکر رہ گیا۔
بائیں بازوکی کوئی ایسی مرکزی جماعت یا قیادت نہیں رہی کہ ترقی پسند طاقتوں کو ایک مرکز پر اکٹھا کرسکے۔ اس المیے کے بعد بایاں بازو ایسے اشتعال کا شکار ہوا کہ کئی ٹکڑوں میں بٹ گیا اور اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ کے راستے پر چل نکلا۔ حکمران اشرافیہ اپنے منصوبے میں کامیاب رہی اور انھیں سیاست پر قبضہ کرنے کا کھلا موقع مل گیا۔ زمینی اور صنعتی اشرافیہ نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نہ صرف سیاست پر بلکہ اقتدار پر بھی مضبوطی سے اپنے پنجے گاڑ دیے۔ 70 سالوں میں یہ پہلی بار ہورہا ہے کہ اشرافیہ کے خلاف احتساب کا عمل شروع ہوا ہے اور سیاسی اشرافیہ سیاست اور اقتدار پر قبضہ برقرار رکھنے کی جان توڑ کوش کررہی ہے۔
اس افرا تفری اور اشرافیائی انتشارکی صورتحال میں مڈل کلاس کی سیاسی جماعتوں کو یہ موقع ملا تھا کہ وہ اپنے ذاتی اور جماعتی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر متحد ہوجائے اور اس خلا کو پورا کرے جس کے پیدا ہونے کے امکانات ہیں۔ پاکستان میں بائیں بازو کی جماعتیں سخت بے عملی اور انتشار کا شکار ہیں اور اپنے وجود کو قائم رکھنے کی کوشش کررہی ہیں۔ سندھ میں مڈل کلاس بنیادی طور پر دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ایک حصہ ایم کیو ایم ہے، دوسرا سندھی قوم پرستوں کی شکل میں بے عملی کا شکار ہے۔
بالادست طاقتوں نے ایم کیو ایم کو ٹکڑوں میں بانٹ کر ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کردیا ہے اور اس تقسیم اور انتشار کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ تقسیم شدہ ایم کیو ایم سیاسی طاقت سے محروم ہوجائے گی، اس صورتحال کی ذمے داری خود ایم کیو ایم کی قیادت پر بھی آتی ہے اگر وہ اپنے مسائل حل کرنے کے بجائے عوامی مسائل حل کرنے اور عوام سے جڑے رہتی تو اسے اس صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
مذہبی مڈل کلاس بھی شدید دھڑے بندیوں کا شکار ہے اور اپنے تنگ نظرانہ فلسفوں کی وجہ سے جمود اور محدودیت کا شکار ہے اس سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ سندھ میں ایک سرگرم سیاسی قوت کی حیثیت سے اپنی جگہ بناسکے گی۔ ہماری مڈل کلاس کا المیہ یہ رہا کہ وہ اپنی طاقت کو مستحکم کرنے کے لیے عوام میں اپنی جگہ بناتی اور قومی مسائل پر عمل کو متحرک کرتی، سمجھوتوں کے جال میں پھنسی ہوئی ہے اور اپنی طاقت کے تحفظ کے لیے بالادست قوتوں کی طرف دیکھتی ہے۔
پاکستان میں مڈل کلاس پر مشتمل منظم اور باوسائل مذہبی جماعتیں موجود ہیں لیکن بد قسمتی سے وہ جال اور مستقبل کے حوالے سے سیاست کرنے کے بجائے ماضی میں زندہ رہنے اور ماضی کے فلسفوں میں الجھی ہوئی ہیں اور یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ دنیا بڑی تیزی سے سائنس ٹیکنالوجی تحقیق اور حیرت انگیز انکشافات کی راہ پر چل رہی ہے۔
مذہبی جماعتوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ جدید دنیا سے نظریاتی ہم آہنگی پیدا کرکے ملک و قوم کو آگے لے جانے کے بجائے ماضی میں زندہ رہنے کو اپنے ایمان کا حصہ بنا بیٹھی ہے۔ ہمارے ملک کے عوام جن معاشی اور سیاسی مسائل سے دو چار ہیں ان سے عوام کو نجات دلانے کے بجائے وہ اپنے مفروضہ فلسفوں پر جمی ہوئی ہے جس کا نتیجہ انتخابات میں عوام کی عدم پذیرائی کی شکل میں سامنے آرہا ہے۔ مڈل کلاس کی سیاسی جماعتوں کے اس انتشار کا فائدہ منطقی طور پر اشرافیائی جماعتوں کو ہوسکتا ہے اور اگر یہی صورتحال رہی تو پاکستانی سیاست سے مڈل کلاس کی سیاسی جماعتیں صرف غلط بن کر رہ جائیںگی جس کا آخری فائدہ اشرافیہ ہی کو ہوگا۔