سیاسی ابلاغ کی پسماندگی
پاکستان میں سیاسی جلوسوں میں رہنماؤں کی تقاریر اوربیانات نے ہمیشہ سیاسی ماحول کو پراگندہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے
اسلام آباد میں جاری دھرنوں اور حکومتی وزراء کے بعض بیانات سے سیاسی ابلاغ کی تاریخ میں ایک بدنما باب کا اضافہ ہوا ہے ۔اشتعال انگیز تقاریر سے ملک میںبے یقینی کی کیفیت پیدا ہوئی اور عوام میں سیاسی رہنماؤں کا امیج بری طرح متاثر ہوا، محدودسوچ اورچھپے ہوئے مفادات کے حامل گروہوں کی طرف سے طالع آزما قوتوں کو نجات دہندہ بنانے کا موقع ملا۔حکومتی وزراء نے عمران خان کے دھرنے میں شریک خواتین کی کردارکشی کی کوشش کی، حمزہ شہباز شریف نے ایک بیان میں کہا ماں اور بہنوں کو نچانے سے انقلاب نہیں آتا، عمران خان نے کہا کہ ان کے ہاتھ نواز شریف کے گردن تک پہنچ گئے وہ نہیں چھوڑیں گے۔
ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان نے اپنے اپنے کارکنوں کو ہدایت کی کہ اگر انھیں کچھ ہوگیا تو شریف برادران سے انتقام لینا، مولانا فضل الرحمن بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں رہے ، انھوں نے ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کے دھرنوں میں متحرک خواتین اور لڑکیوں کو نشانہ بنایا اور کہا کہ لوگ ڈانس دیکھنے جاتے ہیں ۔ اس صورتحال کا منطقی نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ فریقین کے حامیوں میں جذباتی کیفیت نفسیاتی حد سے تجاویز کرگئی ۔ یوں سمجھوتے کی تمام امیدیں ختم ہوئیں ، پولیس اور دھرنے میں شریک لوگوں میں تصادم ہوا فوج کو تشدد سے گریز کرنے کے لیے اپیل کرنی پڑی، مظاہرین نے سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا یوں جمہوری نظام کا مستقبل مخدوش ہوگیا۔
پاکستان میں سیاسی جلوسوں میں رہنماؤں کی تقاریر اور بیانات نے ہمیشہ سیاسی ماحول کو پراگندہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جب پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو چیلنج کا سامنا کرنا پڑا تھا تو انھوں نے اس وقت کے رہنما حسین شہید سہر وردی، ٹکا خان، مولانا بھاشانی کو غیر ملکی ایجنٹ اور غدار قرار دیا، لیاقت علی خان کے دور میں جماعت اسلامی کے خلاف کارروائی ہوئی تومولانا شبیر عثمانی نے لیاقت علی خان کی حمایت میں مولانا مودودی کی کردار کشی شروع کی ۔
جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے لیاقت علی خان کی اہلیہ رعنا لیاقت علی خان کی سرگرمیوں کو نشانہ بنایا ، ایوب خان نے اپنے تمام مخالفین کو غدار قراردیا۔ خاص طور پرخان غفار خان ، جی ایم سید، شیخ مجیب الرحمٰن، غوث بخش بزنجووغیرہ کو غدار اور بھارت اور افغانستان کا ایجنٹ قرار دیا جانے لگا۔ جب شیخ مجیب الرحمن عوامی لیگ کے سربراہ ہوئے اور چھ نکات کو عوامی لیگ کے منشورکی اساس قرار دیا تو پھر چوہدری خلیق الزماں کی قیادت میں مسلم لیگیوں اور جماعت اسلامی کے شیخ مجیب الرحمن اور مولانا بھاشانی کو ہر تقریر میں ملک دشمن اور غدار کہنا شروع کیا۔
1970 کے انتخابات میں جماعت اسلامی، پیپلزپارٹی اور عوامی لیگ کے رہنماؤں نے ایک دوسرے کے خلاف بیہودہ زبان استعمال کی اب سوشلزم کی بات کرنے والے رہنماؤں کو ملک دشمن کے علاوہ کافرقرار دیا جانے لگا۔ بھٹو صاحب نے اپنی تقاریر میں لوگوں سے لڑنے اور مرنے کا حلف لیا۔ 1971کے اوائل میں ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور کے جلسے میں یہ دھمکی دی کہ ڈھاکا میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں مغربی پاکستان سے شرکت کے لیے جانے والے اراکین قومی اسمبلی کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی، اسی جلسے میں بھٹو صاحب کی تقریر سے ایک سینئر صحافی نے یہ سرخی اخذ کی ''ادھر تم ادھر ہم'' جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ پاکستان تقسیم ہونے والا ہے ، بعد میں بعض محققین نے اس سرخی کو بھٹو صاحب کی تقریر کے متن سے متصادم قرار دیا ۔
جب 1976 میں وزیر اعظم بھٹو نے قومی اسمبلی توڑ کر عام انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا تو 9 سیاسی جماعتوں پر مشتمل پاکستان قومی اتحاد قائم ہوا ، تحریک استقلال کے رہنماایئر مارشل اصغر خان اور نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما بیگم نسیم ولی خان نے جلسوں میں انتہا ئی سخت زبان استعمال کی اور یہ نعرہ لگایا گیا کہ گنجے کے سرپر ہل چلے گا اور پھر اصغر خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ بھٹو صاحب کوہالہ کے پل پر پھانسی دی جائے گی۔ بی این اے اور حکومت میں بہت دیر بعد سمجھوتہ ہوا، لیکن معاہدے پر دستخط میں دیر ہونے کے سبب مارشل لاء لگ گیا۔ 1988 کی انتخابی مہم میں شیخ رشید نے پیپلزپارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کے خلاف تقاریر میں بازاری زبان استعمال کی، شیخ رشید نے اپنی تقاریر میں بے نظیر بھٹو اور نصرت بھٹو پر رکیک حملے کیے ، جب کہ پیپلزپارٹی کے بعض رہنماؤں نے اپنی تقاریر میں شریف خاندان کی خواتین کا بھی ذکر کیا ۔ 1999 میں جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو میاں نواز شریف اٹک قلعہ اور پھر لانڈھی جیل بھیج دیا گیا تو لانڈھی جیل میں نظر بند پیپلزپارٹی کے رہنما آصف زرداری سے ان کی طویل ملاقاتیں ہوئیں ، میاں صاحب جلا وطن ہوکر جدہ چلے گئے۔
بعد میں نواز شریف لندن پہنچے جہاں بے نظیر بھٹو پہلے سے موجود تھیں ۔ دونوں سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کی مشترکہ جدوجہد کرنے کے لیے میثاق جمہوریت کے معاہدے پر دستخط ہوئے، جس کے نتیجے میں سیاست میں سنجیدگی اور برداشت کے امکانات روشن ہوئے۔ 2008 میں انتخابی مہم شروع ہوئی تو اس بار سیاستدانوں کی تقاریر میں مخالفین کے خلاف اور نعروں کا تناسب کم ہوا۔
بے نظیر بھٹوکی 27 دسمبر 2007 کو شہادت کے بعد آصف علی زرداری نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں مسلم لیگ ق کو قاتل لیگ قرار دیا۔ بعد میں انھوں نے اس جملے پر معذرت کی چیف جسٹس کی بحالی کی مہم اور پنجاب میں شہباز شریف حکومت کو معطل کرنے کے دوران تقاریر میں شہباز شریف نے آصف زرداری کی ذات پر رکیک حملے کیے اسی طرح عمران خان شریف بردران اور آصف زرداری پر سخت حملے کرتے رہے۔ اخبارات میں ایک یا دودفعہ ایسی خبریں شایع ہوئی کہ میاں نوازشریف نے شہباز شریف کی بعض تقاریر پر خفگی کا اظہار کیا ہے اب اگست کے مہینے میں ڈاکٹر طاہر القادری ، عمران خان، شیخ رشید ، شہباز شریف، حمزہ شہباز، مولانا فضل الرحمن کی تقاریر سے ماضی کی سیاسی تاریخ کے واقعات ترو تازہ ہوگئے۔
تاریخ کا مطالعہ واضح کرتا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کی اس طرح کی تقاریر پر ہمیشہ کشیدگی بڑھی جو رہنمامخالفین کو غیر ملکی ایجنٹ قرار دیتے تھے انھیں جب مذاکرات کے لیے پہلے ان رہنماؤں کے ساتھ بیٹھنا پڑا تو انھیں اپنے ان ریمارکس کی وجہ سے ایک طرف تو خفت کا سامنا کرناپڑا اور فاصلے سمیٹنے کا عمل متاثر ہوا۔ دوسری طرف عوام کے ذہنوں میں ان کا امیج یک دم کم ہوگیا۔
بھٹو صاحب اپنی تقریر کے اس جملے ''ادھر ہم ادھر تم'' کی تردید کرتے رہے مگر یہ تاریخ کا حصہ ہوگیا جب ایئر مارشل اصغر خاں نے 1973 کے آئین کی بحالی کے لیے جمہوریت کی بحالی تحریک میں پیپلزپارٹی کے ساتھ ایم آر ڈی میں شمولیت اختیار کی تو بھٹو صاحب کو کوہالہ پل پر پھانسی دینے کی تقریر ان کی جمہوریت سے وابستگی کی دلیلوں میں ہمیشہ رکاوٹ ثابت ہوئی۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے مخالفین کے بارے میں ہمیشہ شائستہ زبان استعمال کی ، مہاتما گاندھی، پنڈت جواہر لعل نہرو ، مولانا ابو الکلام آزاد کی تقاریر تاریخی دستاویز اس لیے بن گئیں کیونکہ وہ شائستگی اور سنجیدگی کا مجموعہ تھیں، سیاسی رہنما عوام کو اشتعال دلاکر ان کے جذبات کو بھڑکا کر وقتی طور پر مقبولیت حاصل کرسکتے ہیں مگر یہ مقبولیت دیرپا نہیں ہوتی ہے۔ ملک کا مستقبل جمہوری نظام سے وابستہ ہے۔
جمہوری نظام میں بات چیت ہر وقت ہوتی ہے بات چیت کے ذریعے ہر مسائل کا حل نکلتا ہے، اگر بات چیت سے پہلے اپنے حامیوں کے جذبات کو انتہا پر پہنچا دیا جائے تو سیاسی رہنما سمجھوتہ نہیں کرپاتے ، سیاسی رہنماؤں کو سیاسی ابلاغ پر خصوصی توجہ دینی چاہیے یوں وہ عوام کی تربیت کے ساتھ جمہوری نظام کومستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔