صفحۂ اول
تازہ ترین
پی ایس ایل 11
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
پاکستان میں ادبی میدان اور فیسٹیولزکا جائزہ لیا جائے تو اس میں اشرافیائی رجحانات واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں
ملک میں بدقسمتی سے ایسے لوگوں کی کمی ہے جن میں انسانیت اور ہمدردانہ جذبہ موجود ہے
انگریزوں نے پورے خطے میں‘ لسانی‘ مذہبی ‘ طبقاتی اور سماجی دراڑیں ڈالنی شروع کر دیں
پاکستان اگر حلال گوشت، کاسمیٹکس اور فارماسیوٹیکل اور بہت سی مصنوعات پر توجہ دے تو اربوں ڈالر کی نئی مارکیٹ کھل سکتی ہے
اسرائیلی اسلحے کا سب سے بڑا گاہک یورپ ہے۔اسرائیل نے گزشتہ برس یورپ کو دو ہزار تئیس کے مقابلے میں اکیس فیصد زائد اسلحہ فروخت کیا
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ عدلیہ بنیادی حقوق کے تحفظ کے آئینی فریضے پرکوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی
شحنہء دہر برملا ہرچہ گرفت، پس نداد کاتب بخت در خفا ہر چہ نوشت حک نخواست
لاہور میں موسلادھار بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں
انشا جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا؟
جے یو آئی کے سربراہ فضل الرحمن سینئر سیاستدان اور ٹھنڈے مزاج کے ہمیشہ رواداری کا مظاہرہ کرنے والے قومی رہنما ہیں
ایلون مسک کے والد کانکنی اور قیمتی پتھروں کے کاروبار سے وابستہ رہے ہیں
عمارت کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر بھی حملہ کیا گیا لیکن جس کو اﷲ رکھے اسے کون چکھے
پاکستان کا تشخص اب عالمی بالخصوص علاقائی سیاست میں بھارت کے مقابلے میں توازن اور برابری کی بنیاد پر سامنے آیا ہے
امریکا کے خصوصی ایلچی برائے شام و لبنان تھامس براک نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملے لبنان کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل سکتے ہیں
عوامی شعور اور شرکت کے بغیر کوئی بھی حکمت عملی دیرپا یا مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی۔
حضور اکرم ﷺ نے ساری زندگی جو بھی معاہدے کیے وہ اس مقصد کے لیے تھے کہ مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے
طالب نے ایک سندھی اخبارکے لیے اردو میں یہ مضامین تحریر کیے ہیں جو اب پاکستان فشر فوک فورم نے کتابی شکل میں شایع کیے ہیں
حال ہی میں ہونے والی حمیرا اصغر کی وفات اور اس سے منسلک مصدقہ اور غیر مصدقہ حقائق نے تو پاؤں تلے سے زمین نکال دی
حکومت میں آنے اور اپوزیشن میں نمایاں رہنے کے لیے سیاست میں رہنا ضروری ہے
اس غیرت ناہید کی ہر تان کی دیپک شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو
پاکستان میں برآمدات درآمدات کے اعداد و شمار نے خسارے کی کہانی کی ابتد ا کر دی ہے
عوامی سطح پر پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے اثرات نہایت واضح اور گہرے ہوتے ہیں
بانیٔ پاکستان کی یہ بات سو فیصد درست ثابت ہوئی ہے کہ ’’ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمان ساری عمر اپنی وفاداری ثابت کرنے میں ہی لگے رہیں گے‘‘
بس اک داغ سجدہ میری کائنات جبیں تری آستانے ترے
یہ سب کچھ صرف فطرت کا قہر نہیں، یہ سرمایہ دارانہ نظام کی سفاکی بھی ہے۔ ایک ایسا نظام جس نے ماحول کو بھی ایک منافع کی چیز بنا دیا ہے
افغانستان کی کل آبادی اس سال کے ایک تخمینے کے مطابق 43,858,449 ہے جب کہ اس آبادی کی 49.51 فیصد خواتین پر مشتمل ہے
آجکل مرزا آفریدی کا بہت ذکر ہے، آج دنیا بھر کی برائیاں ان میں نظر آرہی ہیں ، مثلاً انھوں نے نو مئی کی مذمت کی
ملک کی سیاست میں وفاقی حکومت کے خلاف 1973 کے آئین کے بعد دو بار تحریک اعتماد آئی ہیں
موجودہ بحران کسی ایک ادارے کی ناکامی کا نتیجہ نہیں بلکہ پورے انتظامی ڈھانچے کی اجتماعی ناکامی ہے
میں نے زندگی میں دیکھا‘ جہاں پھول تھے وہاں کانٹا بھی تھا اور جہاں کانٹا تھا وہاں خوشبو بھی تھی۔
کراچی میں غیر فعال ٹریفک نظام اور ناقص ٹرانسپورٹ شہریوں کے لیے انتہائی پریشانی کا باعث ہیں
رافیل کے سربراہ یوو ترگمین کا کہنا ہے کہ ہم نے لیزر ہتھیار کی دو مزید اقسام پر بھی تجربات مکمل کر لیے ہیں
گنڈا پور اور ان کا قافلہ جی ٹی روڈ میں راستہ میں کہیں نہیں رکا۔ کسی شہر پر کوئی استقبال نہیں ہوا
بانی پی ٹی آئی سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی مفاہمت ہونی ہے تو اس کا سیاسی راستہ بھی عملی طور پر مزاحمت کی سیاست کی بنیاد پر ہی نکلے گا
جن سخت معاشی حالات میں شہباز شریف نے عنان حکومت سنبھالا تھا کسی کو بھی اُمید نہ تھی کہ وہ دس ماہ سے زیادہ چل پائیں گے
پاکستان کو اگلے چند سالوں میں مثبت اصلاحات اور معاشی شفافیت کو جاری رکھنا ہوگا
کیلی گلا‘ کسی بیماری کی وجہ سے سر کے تمام بالوں سے محروم ہو چکا تھا اور بدصورت لگنے لگا تھا
80ارب روپے اور تاجروں نے صرف62ارب روپے ٹیکس کی شکل میں قومی خزانے میں جمع کرائے ۔ ذرا اندازہ کریں
گوتم اڈانی بھارت کے ممتاز ترین سرمایہ دار ، صنعت کار اور سرمایہ کار ہیں
اس پہ مستزاد سفارتی محاذ پر بھی پاکستان نے بھارت کو بری طرح ناکامی اور شرمندگی سے دوچار کیا
ایک بڑی وجہ غیر سیاسی قوتوں کا بڑھتا ہوا اثرو رسوخ ہے ۔ بہت سے اہل دانش اسی عنصر کو جمہوریت کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں
فلسطینیوں کی جدوجہد کسی سرحدی تنازعے کی نہیں بلکہ وجود، بقا، شناخت اور انصاف کی جنگ ہے
سودا کی جو بالیں پہ گیا شور قیامت خدام ادب بولے ابھی آنکھ لگی ہے
برصغیر کی تقسیم کے بعد جو ملک وجود میں آئے، انھیں یہ نظام ورثے میں ملا
یورپ اور امریکا میں ایسی معمولی غلطیوں پر اداروں کا بند ہونا معمولی بات ہے
تیس سال کے عرصے میں کوئی بھی عمارت پرانی نہیں کہلائی جا سکتی
ہم لکھنے والے لوگ ہیں اور ہماری وفاداری صرف قلم سے ہونی چاہیے
دنیا بلاول بھٹو کو جانتی ہے۔ وہ ہندوستان کے پروپیگنڈہ کا بھرپور مقابلہ کر رہے ہیں
دیکھتے ہیں کہ کشمیر کے کنوئیں میں گرائے جانے والوں کے ساتھ وہ اب کیا کرتا ہے
زرعی ملک ہونے کے باوجود زراعت کے لیے ’’زمین تنگ‘‘ ہو گئی ہے