صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
خاص خبریں
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
فیکٹ چیک
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
امریکا کو ایران کے وسیع جغرافیہ اور اس کی قومی حیثیت کا اندازہ ہی نہیں تھا
ہر طبقے کے لوگوں کو اپنی جیب کے مطابق کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے
پاکستانی ڈرامہ اس لیے زندہ ہے کہ اس نے خود کو بازار کے شور میں گم نہیں ہونے دیا
قیامِ پاکستان کے وقت ہم نے انتہائی کٹھن حالات میں سفر کا آغاز کیا تھا
بدقسمتی سے اسرائیل اور بھارت مسلم دشمنی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے
مجھے لگتا ہے کہ ایک انقلابی دانشور کی سب سے بڑی شکست یونیورسٹی میں فیل ہونا نہیں
اس دور کی تربیت میں میکے سسرال کا کوئی تفرقہ روا نہ رکھا جاتا سب مل جل کر رہتے
ماضی گواہ ہے کہ دور برطانیہ کا غیر منقسم برصغیر کایہ اہم شہر فرنگیوں کی پسندیدگی کا نگاہ مرکز رہا ہے
ضروری نہیں کہ خاندان کو مضبوط بنانے کے لیے بڑے اخراجات کیے جائیں
لڑکیوں کو مفت کا مال سمجھ کر برے کاموں میں ملوث کر دینا روزکا معمول ہے
اس دور میں انگریزوں کے خلاف سخت نفرت اور بغاوت تھی
سندھ میں 1965 اور 1971 میں چھوڑی گئی متروکہ املاک پر صرف سندھ کے عوام کا حق ہے
درحقیقت ہم ایک مردہ قوم بن چکے ہیں جو اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں
کتاب انسان کی تنہائی کی ساتھی اور بہترین دوست سمجھی جاتی ہے
جامعات کی خود مختاری کے نظام اور اس سے جڑے مسائل پر تنقید کرنا آسان ہوتا ہے۔
پوری قوم نے اپنا 79 ویں یوم آزادی منایا، کچھ حلقے اپنی معاشی کامیابیوں کا جشن بھی منا رہے ہیں۔
’’ کسی ایک اتحادی پر حملہ تمام اتحادیوں پر حملہ تصور ہوگا‘‘۔
بلوچستان میں ایک بار پھر ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس نے نظامِ انصاف پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ملک کے عوام حکومت سے نالاں اور مہنگائی اور بے روزگاری سے ازحد پریشان ہیں جن کی دونوں بڑی اتحادی پارٹیوں کو فکر نہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ امریکا اور یورپ کے ممتاز پالیسی ساز اور فوجی مبصرین ایران سے متعلق پالیسی کی غلطیوں کو کھل کر اجاگر کر رہے ہیں۔
اس بار جشن آزادی کا جذبہ گزشتہ برس کے دفاعی معرکے کی یاد سے بھی جڑا ہوا ہے۔
قرآنِ مجید نے سورةآلِ عمران میں واضح ارشاد فرمایا ہے کہ "اللہ کی رسی کو مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔"
ٹیکنالوجی اور مٹی کا یہ ملاپ زرعی معیشت کو ایک نئی جہت دے رہا ہے
زیبسٹ کے سوشل سائنسز فیکلٹی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر ریاض شیخ نے اس کتاب کا آسان اردو میں ترجمہ کیا ہے
جنگ ایک ہے، مگر اس کی ادبی زبانیں متعدد ہیں۔
24 کروڑ عوام صوبائیت، لسانیت اور عصبیت کے قانون میں تقسیم ہو چکی ہے۔ اسلام صرف مدرسوں، مکتبوں اور درسی کتابوں تک محدود ہو گیا ہے۔
امریکا کے مشرق وسطیٰ میں کئی بڑے مفادات ہیں، لیکن ان میں دو نمایاں ترین ہیں۔ ایک اسرائیل۔ دوسرا، توانائی اور ڈالر کے عالمی مالیاتی نظام سے جڑا مفاد۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ اسی نفسیاتی جنگ کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔
اِس وقت ملک میں قانون کی حکمرانی کا کوئی تصور نہیں، پارلیمنٹ irrelevant ہے۔
ایک دن بعد ہم جشن آزادی منائیں گے۔ سبز ہلالی پرچم گھروں کی چھتوں، گاڑیوں اور بازاروں میں لہراتے دکھائی دیں گے
رضا میر کا قتل ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو کس طرح کا مستقبل دے رہے ہیں۔
گھوسٹ اسکول سے مراد ایسے اسکول ہوتے ہیں جو سرکاری دستاویزات میں تو موجود ہیں مگر عملی طور پر یہ اسکول موجود نہیں ہوئے۔
متوفیہ بچی کے باپ نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو سزائے موت دی جائے
ایک وقت تھا جب گھر کے دو چار فون نمبر ذہن میں محفوظ ہوتے تھے۔ آج ہمیں اپنے بعض قریبی لوگوں کے فون نمبر بھی یاد نہیں۔
ایران کی جانب سے امریکا پر انحصار کے خاتمے کی بات بھی اس بحث کو ایک وسیع تر تناظر فراہم کرتی ہے۔
سیاسی ادارے یا قوتیں مسائل کو حل کرنے کے لیے تواتر کے ساتھ مکالمہ اور باہمی مشاورت پر زور دیتے ہیں
غریب خاندان کو انصاف اپیلیں کرنے اور درخواستیں کرنے سے نہیں ملتا ہے۔ غریب لوگ رو دھو کر صبر شکر کرکے بیٹھ جاتے ہیں
آخر ایسا کیوں ہے کہ یہ کمپنیاں کتابوں کو کاپی کرنے کے بعد ہارڈ کاپی محفوظ کرنے کے بجائے ضایع کر رہی ہیں۔
پیپلز پارٹی کی ایک رہنما نے دعویٰ کیا ہے کہ جو کام اپوزیشن کا تھا ،وہ کام پیپلز پارٹی نے کیا ہے۔
لڑکے نے نظریں جھکا کر آہستہ سے کہا۔ ’’سر... میرے ابو کہتے ہیں کہ ہم اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں، مگر عبادت صرف اللہ کی کرتے ہیں۔‘‘
ہم جو کچھ سوچتے ہیں جس طرح سوچتے ہیں اسے دوسروں تک پہنچانے کا عمل ابلاغ کہلاتا ہے۔ شخصیت کی تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ آپ میں ابلاغ کی صلاحیت ہو
کبھی کبھی تاریخ کسی میدان جنگ میں نہیں، ایک بند دروازے کے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔
جہان و کار جہان جملہ ہیچ بر ہیچ ست ہزار بار من این نکتہ کردہ ام تحقیق
یہ تو بالکل ایسی مثال ہے جیسے ایک بڑے کارخانے میں کچھ مخصوص بچوں کو مشینوں کے نقشے دیے جائیں اور انھیں چلانے کا فنی علم سکھایا جائے۔
مذکورہ معاہدے سے یقیناً تینوں معاہد مسلم ممالک کی سلامتی اور سیکورٹی کو مزید تقویت ملے گی ۔
مکہ دفاعی معاہدہ کیا ہے؟ اس موضوع پر کہنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ اس معاہدے پر عجلت میں کیے گئے تبصرے اپنی جگہ لیکن کچھ حقائق اپنی جگہ موجود ہیں۔
پاکستان میں پہلے بھوک و بے روزگاری سے تنگ آ کر خود کشیاں کرتے تھے مگر اب انھیں انتہائی مہنگی بجلی نے خودکشی کرنے پر مجبور کر دیا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم ہند کے اول دن سے کشمیر کا تنازعہ بنیادی کشیدگی کا سب سے بڑا سبب بنا ہوا ہے۔
ایران بھی اس حقیقت سے پوری طرح واقف ہے، اسی لیے تہران کی زبان میں جنگی اعتماد اور مذاکراتی آمادگی بیک وقت نظر آتی ہے۔
ماضی قریب میں ہر چھوٹی بڑی سڑک کے کنارے اور درمیان میں فٹ پاتھ بنائے گئے تھے