صفحۂ اول
تازہ ترین
پی ایس ایل 11
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
اس ملک کی تاریخ میں تین وزرائے اعظم ایسے اقتدار میں آئے جو حقیقی طور پر سادگی کا نمونہ تھے۔
آبنائے ہرمز کے تنگ سمندری راستے میں ذرا سی بھی رکاوٹ پیدا ہو جائے تو دنیا کی معیشت میں ہلچل مچ جاتی ہے۔
امریکا نے ایران پر حملہ کر کے ایک خود مختار اور غیور قوم کو للکارا ہے۔
زکوۃ دینے کا اصل مقصد یہ ہے کہ مانگنے والا مانگنا چھوڑ دے ، وہ وقت آئے کہ آپ سے زکوۃ لینے والا خود زکوۃ دینے کے قابل ہو جائے۔
ایران کے دارالحکومت تہران پر حالیہ فضائی حملوں نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
مصالحت نہ سکھا جبرِ ناروا سے مجھے میں سر بکف ہوں، لڑا دے کسی بلا سے مجھے
ایرانیوں نے اپنے سپریم لیڈر کی شہادت پر جس اتحاد اور محبت کا ثبوت دیا
عورت کی تاریخ دراصل ظلم اور مزاحمت کی تاریخ ہے۔ صدیوں تک عورت کو انسان کے برابر درجہ نہیں دیا گیا۔
افغانستان سے ہونے والے مسلسل دہشت گردی کے حملوں کے خاتمہ کے لیے پاکستان کی فوج جوابی کارروائی میں مصروف ہے۔
ایران کی مجلس خبرگان نے شہید آیت اللہ خامنہ ای کے صاحبزادے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر اور رہبر اعلیٰ منتخب کر لیا ہے
پاکستان کا حکمرانی کا نظام عوامی مفادات کے تناظر میں اپنی اہمیت کھوچکا ہے
پاکستان کے لیے موجودہ صورتحال ایک چیلنج کے ساتھ ساتھ ایک موقع بھی ہے
پاکستان جن بڑے مسائل میں گھرا ہوا ہے، ان سے باہر نکلنے کے لیے واحد راستہ مفاہمت کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔
قطر نے ایل این جی کی فراہمی روک دی ہے۔ خلیجی ممالک کی قومی معیشتیں دباؤ کا شکار ہو گئی ہیں۔
کم ازکم ہم بچوں نے اسلم بھائی کو کبھی چیخ کر بات کرتے یا کسی کو گالیاں دیتے نہیں دیکھا۔
حکومت خود سادگی اختیارکرنے پر یقین نہیں رکھتی بلکہ صرف عوام کو ٹیکسوں کے ذریعے نچوڑنے پر ہی یقین رکھتی ہے۔
ہمارے ہاں رمضان عبادت کے اعتبار سے جس طرح سے گزارا جاتا ہے اس میں تین بڑے نمایاں حصے نظر آتے ہیں۔
جنھیں ہم ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینیوں میں وہ نکلے میرے ظلمت خانہ دل کے مکینوں میں
افغانستان کے حکمرانوں نے اول روز سے پاکستان کی مخالفت کو ریاستی پالیسی کے طور پر اختیار کیے رکھا ہے
خلیجی خطہ دنیا کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے
ایران کا تجربہ ایک پہلو سے پاکستان سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے
موجودہ حالات جس میں اسرائیل نے ایران پر یک طرفہ جنگ مسلط کر ڈالی ہے
ایران کے تمام صوبوں میں موجود میزائل سسٹم اور ذخائر اب بھی محفوظ ہیں
ٹاؤنز کے رٹائرڈ ملازمین کو عدالتوں میں مقدمات لڑنے پڑے
کراچی انتظامیہ میں فعال اسسٹنٹ کمشنروں کی چیکنگ سے سرکاری خزانہ زیادہ بڑھا
گزرے 9 دنوں میں ایک ہزار سے زائد ایرانی بے گناہ عوام بھی شہید کیے جا چکے ہیں
آج ہندوستان کے پورٹ، امریکی جہازوں کو سہولت کاری فراہم کر رہے ہیں
بہرحال ایران کا جو بھی فوجی یا ایٹمی نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ تو ہو ہی جائے گا
یہ جنگ محض امریکا ،اسرائیل اور ایران تک محدود نہیں رہی
اس پورے منظرنامے میں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت بھی کم نہیں۔
خیبر پختونخوا، بلوچستان اورکراچی میں مہاجرکیمپ قائم کیے گئے
یہ واقعات محض اخلاقی لغزشیں نہیں تھیں۔ نہ ہی یہ کسی ایک یا دو مقامات کا نوحہ ہے
حکومتی اداروں سے انتظامی طور پر اس کی حیثیت بالکل علیحدہ ہوتی ہے
ایران پر مسلط کی گئی ہولناک جنگ کو تقریباً ایک ہفتہ ہو چکا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ہر جانب بربادی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔
بیرونی تجارت سے متعلق تازہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جولائی تا فروری 2006 کے پہلے 8 ماہ میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 25 ارب ڈالر کی دہلیز پار کر چکا ہے۔
کند ہم جنس باہم جنس پرواز ، کبوتر با کبوتر باز بہ باز۔یہ ضرب المثل ہم میں سے اکثر نے ہوش سنبھالتے ہی کسی نہ کسی سے ضرور سنی ہو گی۔
تحریک انصاف ایک جمہوری پارٹی ہے جس میں فیصلے جمہوری طور پرکیے جاتے ہیں اور پی ٹی آئی میں مکمل جمہوریت ہے۔
دوستو ! آج کے کالم میں ہم ذکر کریں گے، وینزویلا کے سابق صدر ہوگوشاویز کا۔ ہوگو شاویز 28 جولائی 1954 کو وینزویلا کے قصبے سبانیتا میں پیدا ہوئے
پھرآہستہ آہستہ تعویذ بھی لکھتے تھے ، لوگ آتے اوربچوں بلکہ بڑوں کی بیماریوں کے لیے یہ پرچ پیالے لکھواتے تھے
عالمی سیاست کے افق پر اس وقت مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی اور غیر یقینی کی علامت بن چکا ہے۔
نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا کاغذی ہے پیرہن، ہر پیکر تصویر کا
پاکستان کی سیاست میں سیاسی جماعتیں ’’احتساب‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے انتخابات میں حصہ لیتی ہیں
میرے سامنے ایک ایسی نئی کتاب پڑی ہے جسے دلکشا بھی کہا جا سکتا ہے ، دل افروز بھی اور ایمان پروربھی ۔
طویل اقتدار میں رہنے والے جنرل ایوب خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف جنھیں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والی سیاسی حکومتیں آمر قرار دیتی ہیں
بالآخر امریکا اور اسرائیل اپنے منصوبے کے تحت ایران کو نشانہ بنا کر سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو شہید کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
صدر ٹرمپ نے جون 2025 کی جنگ میں امریکی بی ٹو بمبار طیاروں سے بم باری کروا کے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کا نیوکلیئر پروگرام صفحہء ہستی سے مٹ چکا ہے۔
افغانستان کے ساتھ تعلقات بھی اس تناظر میں نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔
پاکستان اپنی تیل کی درآمدات کے لیے خلیجی ممالک پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور یہ تمام سپلائی ’’آبنائے ہرمز‘‘ کے راستے پاکستان پہنچتی ہے۔
امریکا اور اسرائیل کے خلاف ایک متحدہ محاذ بنایا جائے جس میں تمام امریکی اور اسرائیلی مخالف جماعتیں شامل ہیں۔
امور مملکت خویش خسرواں دانند گدائے گوشہ نشینی تو حافظا مخروش