صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
بلاگ
رائے
سابق سفارت کار ملیحہ لودھی کے مطابق اس وقت امریکا، پاکستان کی خارجہ ترجیحات میں نمبر ون نہیں ہے
اسلام سے محبت ان کی گھٹی میں شامل ہے۔ مصنف 45 برس سے امریکا میں مقیم ہیں
پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 70 لاکھ سے زائد افراد نشہ کی لت میں مبتلا ہیں
غزہ کی طرح جنوبی لبنان کی سرحد پر بھی غاصب صیہونی حکومت اسرائیل کو شدید ہزیمت کا سامنا ہے
فرانسیسی بندرگاہی شہر لی ہاورے۔ یہ بیانیہ ایک فرانسیسی مصنف انٹوئن روکینٹن کی پیروی کرتا ہے
مزید معلوم ہوا کہ رپورٹ کا ابتدائی خاکہ تو تیار ہوچکا ہے لیکن حتمی رپورٹ ابھی بننی ہے
قومی اسمبلی اور سینیٹ کی چند سیٹوں کے ساتھ مولانا کے کردار نے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔
انسانی بنیادی حقوق وہ چوتھا عنصر ہے جس میں پاکستان کو پرکھا گیا ہے۔
اکثریتی صیہونی موقف کے ان باغیوں کا تعلق بنیاد پرست یہودی فرقے ہریدی سے ہے۔
واٹر بورڈ کی کارکردگی مایوس کن رہی، یوں 1985 کے بعد شہر کراچی میں پانی کی قلت بڑھنے لگی۔
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے چھ شارٹ لسٹڈ خریداروں میں سے پانچ نے چپ سادھے رکھی۔
قطرسے اسلامی اخوت کے رشتے کے علاوہ پاکستان کے ہمیشہ بہترین تعلقات رہے ہیں۔
مولانا نے حکومت کو بیک فٹ پر دھکیل کر اس بات پر قائل کیا کہ فرد واحد کے لیے کوئی ترمیم نہیں لائی جائے گی
ان کا نام ہے خورشید بانو، لیکن عام طور پر وہ ’’خورشید‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہیں۔
بلاول بھٹو آئینی ترامیم منظور کرانے کی مہم میں بڑے سیاست دان بن کر ابھرے۔
ہمارے ہاں سیاستدانوں کی خواتین کو مقدمات میں گھسیٹے جانے کی روایت پرانی ہے۔
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
عالمی جنگوں کے بعد کی دنیا اتحادی فاتحین کی ترتیب دی ہوئی دنیا ہے۔
امریکا اور یورپی ممالک اسرائیل کو لگام دینے کی بجائے پشت پناہی کررہے ہیں۔
بھارت کے بارے میں ہمارے یہاں جتنی کتنی بھی انڈر اسٹینڈنگ پائی جاتی ہے، بہت سطحی ہے۔
اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو 2018میں جس طرح اقتدار میں لے کر آئی تھی پوری دنیا اس سے واقف ہے
جس میں عوامی مفادات کے مقابلے میں اشرافیہ اپنے مفادات کو ہی فوقیت دیتی ہے ۔
طلبہ نے کراچی اور حیدرآباد میں بھی یکجہتی کے لیے مظاہرے کیے۔
آئینی کمیٹی میں اتفاق کے بعد مولانا سے مشاورت میں مزید چار شقوں سے مولانا کو ہٹنے پر راضی کیا تھا
لندن کی سڑکوں پر کی جانے والی بدتمیزی پاکستان میں پسند نہیں کی جاتی۔
سعودی حکومت کی ممکنہ مالی امداد اور معاہدے پاکستانی معیشت کو درپیش چیلنجز میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں
اسلامی تہذیب کی علامات ٹوپی اور اچکن چپراسیوں کو پہنا کر انگریز مسلم تہذیب کی توہین کرنا چاہتے تھے
حکم ہے کہ میزان میں ڈنڈی نہ مارو، حق کو باطل کا لباس نہ پہناؤ، حق حق ہے
اگر ہم پاکستان کے نوجوانوں کو درپیش سب سے بڑے مسئلے، یعنی بے روزگاری کی بات کریں
پاکستان میں ریاستی اور غیر ریاستی سطح پر انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے خاصا کام ہوا ہے۔
روس کے طول و عرض میں مسلمانوں کی تعداد ڈھائی کروڑ سے زیادہ ہے۔
وزیراعظم میاں شہباز شریف کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ اسٹیبلیشمنٹ کے حامی ہیں جب کہ نواز شریف اینٹی اسٹیبلیشمنٹ ہیں ۔
اس جنگ کا بڑا سبب اسرائیلی جارحیت یا اس کی جارحانہ پالیسیاں ہیں۔
ہم میں سے کوئی شخص خدا نہیں جس کا ہر فیصلہ حرف آخر اور درست ہو گا
عدلیہ بحالی تحریک میں بعض کو سیاسی طور پر تحریک میں شامل ہونے کا موقعہ ملا ۔
آبادی میں اضافے سے سیاسی اہمیت اور ووٹ بینک کی طاقت بھی بڑھی ہے
حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف دونوں کی اِس معاملے میں انتہائی غیر معمولی دلچسپی لازمی تھی جس کا کھل کراظہار ہوا۔
ہم بھی کیا سادہ ہیں ہم نے بھی سمجھ رکھا تھا غم دنیا سے الگ ہے غم جاناں،جاناں
آمریت بھی قائم نہیں رہ سکتی تو یہ حکومت کیا چیز ہے۔ اس لیے وکلا تحریک کا بہت شور سنا گیا۔
جنگلوں میں آگ لگنے کے بڑھتے ہوئے واقعات بھی اسی صورت حال کا نتیجہ ہیں۔
اس وقت اسرائیل مسلسل ایران کا صبر آزما رہا ہے اور امید کررہا ہے کہ بڑی جنگ چھیڑ کرو
حکم یہ تھا کہ اسے صاف کر دو، صرف صاف نہ کر دو بلکہ چمکا دو
پروفیسر وون کی سربراہی میں‘سائنسدانوںنے گوریلوں کے گروہ کی عادات و سکنات کو پرکھناشروع کر دیا
چنانچہ افغانستان اور دنیا بھر کے جہادیوں کے لیے پاکستان کو محفوظ پناہ گاہ بنایا گیا
وہ لبنان میں بروئے کار مزاحمتی تحریک ’’حزب اللہ‘‘ کو مکمل طور پر کچلنا چاہتا ہے
گیس صارفین کی تحریری شکایات وصول نہیں کی جاتیں نہ شکایات دور ہوتی ہیں
وہ اپنی پالیسیوں اور منصوبوں کو دوسرے ممالک کو سبق سکھانے اورکنٹرول کرنے کے لیے ترتیب دیتا ہے
آپ نے پاکستان کو اقتصادی اور دفاعی طور پر مضبوط بنانے کے لیے مغربی دنیا سے تعلقات استوار کیے
تمام تر اقدامات کے باوجود پاک افغان سرحد آج بھی پوری طرح محفوظ نہیں بنائی جاسکی ہے
یہ اچھی اور محفوظ سرمایہ کاری تھی‘ آپ پیسہ لگائیں اور پانچ سال بعد پیسہ ریٹرن کے ساتھ واپس لینا شروع کر دیں