صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
بلاگ
رائے
جیسے ہی فلم بندی مکمل ہوئی، افسوس کہ ہمارے سیاسی نظام کی یہ اہم وڈیو دستاویز پی ٹی وی کے آرکائیو کا حصہ نہ بن سکی
ایک عام شہری جب بیماری میں مبتلا ہوتا ہے، تو سب سے پہلے وہ سرکاری اسپتال کا رخ کرتا ہے
امریکا میں اس وقت ڈیموکریٹس کی حکومت ہے اور عدالتوں میں فائز جج صاحبان قدامت پسند نظریات رکھتے ہیں
نواز شریف بھارتی صحافیوں کو بتا رہے ہیں کہ وہ بھارت سے دوستی اور نریندر مودی سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں
تعلیمی نظام کو معیشت اور روزگار سے نہ جوڑنے کی پالیسیو ں نے تعلیم یا ڈگری کی اہمیت کو بہت کم کردیا ہے
بادشاہ اشوک نے اپنا چہرہ آسمان کی طرف اٹھایا اور نوحہ کیا اس کا گریہ تاریخ میں محفوظ ہے
جس آبائی گھر میں ان کی پرورش ہوئی، وہ اپنے محلے میں ’’ پھولوں والی حویلی‘‘ کے نام سے مشہور تھا
پردھان منتری واجپائی کے امن کو بھارت کی سرکار خطے کی ترقی اور محبت میں تقسیم در تقسیم کرسکتی ہے
ان کا کہنا ہے کہ شعرا غیر طرحی مشاعرہ برپا کرکے اپنا دل خوش کر لیتے ہیں
یہ اسکرپٹ یقینا پڑھنے والوں کے لیے متاثر کن ہوگا۔ پر ذرا سوچیے کہ جن دلوں پرگزری ہے
پاکستان اور افغانستان میں پولیو ایک مرتبہ پھر ایک بڑے خطرے کے طور پر سر اٹھا رہا ہے
گو ایماندار اور با اصول لوگ اب ناپید ہوتے جا رہے ہیں لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ تمام ایماندار لوگ ختم ہو چکے ہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر میں مہناز رحمن ایک ایسا نام ہے جس سے ہر مظلوم عورت آشنا ہے
حکومت کی نیت اگر عدالتی اصلاحات کی ہوتی تو یہ نیک کام ضلعی عدلیہ سے شروع ہوتا۔
دنیا جلد ہی نیو ورلڈ آرڈر سے نکل کر کثیر قطبی نظام کی طرف مراجعت کر رہی ہے۔ کثیر
کیمرا اسرائیل مخالف جذبات کو لگام دینے کے لیے موقر اخبارات میں پورے پورے صفحے کے اشتہارات شایع کرواتی ہے۔
بیشتر پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں اردو، سندھی اور بنیادی سائنس کے علم کے مکمل شعبے بھی قائم نہیں ہیں۔
آئینے کے سو ٹکڑے کرکے ہم نے دیکھے ہیں ایک میں بھی تنہا ہیں سو میں بھی اکیلے ہیں
لاہور بھی مسائل کے انبار میں کراچی سے پیچھے نہیں ہے۔
برکس اجلاس میں چین کے صدر زی جن پنگ اور بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی ملاقات ہوئی ہے۔
فلموں میں ایک یا دو کامیڈین بھی ہوتے تھے، لیکن غیر منقسم ہندوستان میں ایک خاتون کامیڈین نے بڑی دھوم مچائی
حالیہ آئینی ترامیم کی منظوری پر بہت سے سوالات و خدشات بھی جنم لیتے ہیں
ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد کردہ نائب صدر،جے ڈی وانس، بارے بنیادی باتیں جاننا ضروری ہیں ۔
ہم صرف اور صرف پاکستان کو دیکھ رہے ہیں، پاکستان ہی سب کچھ ہے۔
26 ویں آئینی ترمیم پر مولانا نے ایسی سیاست کی ہے کہ سب کو خوش کر دیا ہے۔
یہ ہماری زندگی کو اپنی حرارت،روشنی اور کششِ ثقل سے سپورٹ کرتاہے
اسرائیل کو خوف ہے کہ دوبارہ سے وہی خطرات سر اٹھا لیں گے اگر ایران کو ان کی پشت پناہی سے روکا نہ گیا
مفتی محمودؒ اپنی ذات میں ہی ایک انجمن تھے، وہ زندگی کے ہر پہلو میں اپنی مثال آپ تھے۔
مولانا فضل الرحمن نے اس سارے قضیے کے دوران ایک چیز سیکھی‘ خاموش بیٹھیں اور اپنے وقت کا انتظار کریں‘
عدلیہ بحالی کے بعد پی پی حکومت میں عدلیہ کی جانب سے انتظامی مداخلت کرکے پی پی حکومت کو پریشان رکھا گیا۔
برصغیر میں انگریز دور سے اعلیٰ عدالتوں نے ازخود نوٹس کے استعمال سے انسانی حقوق کا تحفظ کیا ہے۔
قطرہ اپنا بھی حقیقت میں ہے دریا لیکن ہم کوتقلید تنک طرفی منصور نہیں
نئی آئینی ترمیم میں لکھا ہوا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی دو تہائی اکثریت سے نامزدگی کر سکتی ہے۔
عالمی معاملات اور طاقت کے نئے بین الاقوامی توازن کے حوالے سے برکس کی اہمیت اور اس کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
خدا جانے اس نئی ترمیم کی پٹاری سے عوام الناس کے لیے کیا برآمد ہوتا ہے۔
سندھ کی دھرتی ہمیشہ سے صوفیوں، اولیاء اور محبت کی زمین رہی ہے۔
میاں صاحب کے ساتھ ان کی صاحبزادی پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز بھی موجود تھیں۔
یہ اعلان تحریک انصاف نے ہی کیا کہ ان کے یہ دو سنیٹر حکومتی ترامیم کے حق میں ووٹ ڈالنے جا رہے ہیں۔
ڈیل کارنیگی کا کہنا ہے کہ زندگی میں سب سے زیادہ اہم چیزکامیابیوں سے فائدہ اٹھانا نہیں ہے
قوم کا نچلا اور اَن پڑھ طبقہ ہی نہیں، اپر کلاس اور پڑھا لکھا طبقہ بھی اس مرض میں مبتلا ہوچکا ہے۔
دنیا کی طاقتور اقوام بھی اسرائیل مخالف بیان بازی کرکے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرتے نظر آتے ہیں۔
چھبیسیویں آئینی ترمیم پاس کرکے پارلیمان نے قانون سازی کے اپنے آئینی حق کو ثابت کیا ہے۔
جب ایس جے شنکر وزیر خارجہ بنے تو ہندوستانی وزیر اعظم کی پالیسیوں کو ایک اسٹرٹیجک فریم ورک دیا گیا تھا
آج ہمارے سماج میں سیاسی ،سماجی اور معاشی ، خاندانی دباؤ، تناؤ، تکالیف اور دکھ زیادہ ہیں
ہمارے سماج میں عدل اور انصاف کو ایک ہی طرح سے دیکھنے کے رجحان نے مزید پیچیدگیاں پیدا کی ہیں
ایک بات ہمیشہ یاد رکھنے کی ہے کہ ’’ مشکل وقت گزر جاتا ہے محنتی لوگ باقی رہتے ہیں‘‘
آئی، ٹی کی اس کرشماتی دنیا میں پاکستانی نوجوان بھی اپنی انتھک محنت سے کامیابی کے جھنڈے گاڑھ رہا ہے
سات برس کی عمر میں ایک مصرع لکھا ’’ معلوم کیا کسی کو میرا حال زار ہے‘‘ مگر مدتوں سے دوسرا مصرع نہ لگ سکا
مودی جی کے بلند اخلاق اور تمیز کے کیا ہی کہنے کہ اس قدر بے رخی اور تکبر کہ بلا اجازت ہی اڑان بھر لی
حسینہ واجد کی معزولی کے بعد بھی ہندوستان اپنی تخریبی شرارتوں سے باز نہیں آرہا ہے