این ای ڈی یونیورسٹی کے شعبہ آپٹیکل انجینئرنگ کا قیام روک دیا گیا

اندرون سندھ کے طلبا کی آسانی کیلیے پہلی بارداخلہ فارم ان ہی کے شہروں میں فراہم کرنے کافیصلہ کیا ہے، ڈاکٹرمحمد طفیل


Safdar Rizvi August 08, 2012
جامعہ نے اندرون سندھ کے طلبا کی آسانی کیلیے پہلی بارداخلہ فارم ان ہی کے شہروں میں فراہم کرنے کافیصلہ کیا ہے، ڈاکٹرمحمد طفیل۔ فوٹو فائل

اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی جانب سے گرانٹ نہ ملنے کے سبب این ای ڈی یونیورسٹی کے تحت آپٹیکل انجینئرنگ کے شعبہ میں شروع ہونے والا بی ای پروگرام آغاز سے قبل ہی روک دیا گیا ہے اوریونیورسٹی کے تحت آپٹیکل انجینئرنگ کے شعبہ کا قیام روک دیا گیاہے۔

یونیورسٹی کوآپٹیکل انجینئرنگ کے شعبے میں جدید آلات کی خریداری کے لیے 200ملین روپے درکارتھے تاہم یہ گرانٹ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی جانب سے جاری نہیں کی گئی جس کے بعد یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ نے آپٹیکل انجینئرنگ کے شعبہ کا قیام روکتے ہوئے اسے ترقیاتی گرانٹ سے مشروط کردیاہے ،واضح رہے کہ یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل پہلے ہی شعبہ آپٹیکل انجینئرنگ کے قیام اوربی ای کی تدریس شروع کیے جانے کی منظوری دے چکی ہے ۔

این ای ڈی یونیورسٹی کی داخلہ کمیٹی کے ڈائریکٹرڈاکٹرمحمدطفیل نے ''ایکسپریس''کوبتایاکہ آپٹیکل انجینئرنگ کے شعبہ کاقیام اب 2014کے تعلیمی سال کے لیے ہونے والے داخلوں کے موقع پر متوقع ہے،ڈاکٹرمحمدطفیل نے بتایاکہ یونیورسٹی کے تحت نئے تعلیمی سال کے لیے بی ای(بیچلرآف انجینئرنگ) کے داخلے 27اگست سے شروع ہونگے اورداخلہ فارم این ای ڈی یونیورسٹی سے 1800روپے کے عوض خریدنے کے بعد3اکتوبرتک جمع کرائے جاسکیں گے۔

یونیورسٹی کے تحت نئے تعلیمی سال کے لیے 1952نشستوں پربی ای میں داخلوں کے لیے رجحان ٹیسٹ 7اکتوبرکو لیاجائے گا،یہ ٹیسٹ یونیورسٹی کے مرکزی کیمپس میں منعقدہوگا،این ای ڈی یونیورسٹی نے نئے تعلیمی سال کے داخلوں کیلیے رجحان ٹیسٹ کے پاسنگ مارکس 40سے بڑھاکر50کردیے ہیں جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ کے ایک نئے فیصلے کے تحت اب داخلوںکے موقع پراکیڈمک میرٹ میں مساوی نمبرلینے والے امیدواروںکے داخلوں کیلیے رجحان ٹیسٹ میں زیادہ نمبرلینے والے امیدوارکو ترجیح دی جائے گی۔

ڈاکٹرمحمدطفیل نے مزید بتایاکہ این ای ڈی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے اندرون سندھ سے داخلے کے خواہشمند امیدواروں کی آسانی کے لیے پہلی بارداخلہ فارم ان کے اپنے شہروں میں فراہم کرنے کافیصلہ کیاہے اوراس سلسلے میں یونیورسٹی اورٹی سی ایس کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت داخلہ فارم حیدرآباد، میرپورخاص، نواب شاہ، لاڑکانہ ،مورو،خیرپور اور سکھرمیں ٹی سی ایس کے دفاتر پر دستیاب ہونگے۔

اس سلسلے میں امیدواروں کو ٹی سی ایس کے اضافی 350روپے سروس چارجز اداکرنے ہونگے جبکہ یہ فارم بھی ٹی سی ایس کے دفاتر پرہی جمع ہونگے ،واضح رہے کہ اس فیصلے سے طلبا فارم کے حصول اورجمع کرانے کے لیے خصوصی طور پرکراچی آنے کی زحمت اور اس سلسلے میں آنے والے اخراجات سے بچ سکیں گے۔

مقبول خبریں