کانفرنس میں شرکت کے لیے امریکا جانے والی آسٹریلوی مسلمان خاتون کو ڈی پورٹ کردیا گیا

یاسمین عبدالمجید کو مغربی ممالک میں مسلمان خواتین کو درپیش مشکلات پر اظہار خیال کرنا تھا


ویب ڈیسک April 13, 2018
مسلمان مصنفہ ’ پین انٹرنشینل ‘ کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے امریکا پہنچی تھیں۔ فوٹو: ٹویٹر

امریکا میں آسٹریلوی مسلمان خاتون اور مصنفہ یاسمین عبدالمجید کا موبائل چھین کر اور پاسپورٹ ضبط کر کے محض تین گھنٹے بعد ہی دوسری پرواز سے واپس بھیج دیا گیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سوڈانی نژاد آسٹریلوی مسلمان خاتون یاسمین عبد المجید ایک کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے امریکا پہنچی تھیں جہاں انہیں مہمان مقرر کے طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم اپنی آمد کے تین گھنٹے کے بعد ہی انہیں نیویارک سے ویزے پر اعتراض لگا کر دوسری پرواز سے واپس لندن بھیج دیا گیا جب کہ وہ اسی ویزے پر پہلے بھی امریکا میں سفر کرچکی ہیں۔

مصنفہ یاسمین عبدالمجید خواتین اور نوجوانوں کے حقوق کے لیے کام کرتی ہیں اور انہیں نیویارک میں بین الاقوامی تنظیم ' پین انٹرنیشنل' کی دعوت پر کانفرنس ' پین ورلڈ وائسس فیسٹیول ' اور 'ٹارگٹ کارپوریشن' کے ایک پروگرام میں بھی شرکت کرنا تھی۔ انہیں مغربی ممالک میں موجود مسلمان خواتین کو درپیش مشکلات پر اظہار خیال کرنا تھا۔

https://twitter.com/yassmin_a/status/984213088307212288

امریکی کسٹم اینڈ بارڈر پروٹیکشن کا کہنا تھا کہ ان کے پاس مطلوبہ ویزا نہ ہونے کے سبب ایسا کیا گیا تاہم پین انٹرنیشنل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مصنفہ اس سے قبل بھی اسی ویزے پر سفر کر چکی ہیں۔ وہ اسی ویزے پر مینیاپولس پہنچی تھیں اور وہاں سے نیویارک سٹی کے لیے پرواز لی تھی لیکن انہیں بورڈنگ سے روک کر اگلی پرواز سے لندن روانہ کردیا گیا۔

 

مقبول خبریں