اچھی خبریں برے حقائق

شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کا یہ بیانیہ بڑا دل خوش کن ہے کہ وہ خطے کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنا چاہتے ہیں۔


Zaheer Akhter Bedari May 08, 2018
[email protected]

KARACHI: کچھ عرصے پہلے تک شمالی کوریا، جنوبی کوریا اور امریکا کے درمیان ایٹمی تنازعہ پر کشیدگی اس انتہا پر پہنچ گئی تھی کہ ساری دنیا دہشت زدہ ہوگئی تھی کہ کہیں ان ملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ نہ چھڑ جائے لیکن فریقین میں حالیہ ملاقاتوں اور جنگ اور کشیدگی سے احتراز کی سیاست کی وجہ سے دنیا نے سکون کا سانس لیا ہے۔

شمالی کوریا کے سربراہ کم جون ان اور جنوبی کوریا کے صدر ہون جے ان کے درمیان ملاقات میں دونوں سربراہوں نے خطے کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سربراہوں کی یہ ملاقات 65 سال بعد ہوئی ہے ، شمالی کوریا کے سربراہ کا جنوبی کوریا میں شاندار استقبال کیا گیا۔

جنوبی کوریا کے صدر جواباً شمالی کوریا کا بہت جلد دورہ کریںگے۔ دونوں ملکوں کے سربراہوں کے درمیان جنگ کے دوران علیحدہ ہونے والے خاندانوں کو ملانے پر بھی اتفاق ہوا ۔ جنوبی کوریا کے دورے کے دوران مہمانوں کے تاثرات کے حوالے سے لکھتے ہوئے شمالی کوریا کے صدر نے فرمایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان نئی تاریخ کا آغاز ہوگیا ہے، امن کا دور آگیا ہے ۔

شمالی کوریا کے صدر کم جون ان نے مزاحیہ انداز میں کہاکہ شمالی کوریا کے ایٹمی تجربات کی وجہ جنوبی کوریا کے صدر کی نیندیں حرام ہوگئی تھیں۔ شمالی کوریا کے صدر رواں سال جون میں امریکا کا دورہ بھی کریںگے۔ 1953کی کورین جنگ کے بعد جنوبی کوریا کا دورہ کرنے والے شمالی کوریا کے پہلے صدر بن گئے ہیں، دونوں ملکوں کے سربراہوں کی اس ملاقات کا دنیا بھر میں خیر مقدم کیا گیا ہے۔

اس مثبت اور حوصلہ افزا خبر کے تسلسل میں ایک اور خبر یہ ہے کہ شمالی کوریا نے جون میں جوہری تجربات مرکز بند کرنے کا اعلان کیا ہے، اس حوالے سے جوہری مرکز کا معائنہ کرنے کے لیے جنوبی کوریا کے صحافیوں کو شمالی کوریا آنے کی دعوت بھی دی گئی ہے۔

اس تسلسل میں ایک اور مثبت خبر یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت شنگھائی تنظیم کے تحت روس کے پہاڑی علاقے اورلی میں مشترکہ فوجی مشقیں کریںگے۔ مشترکہ فوجی مشقوں کا مقصد خطے کو دہشت گردی سے نجات دلانا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں کوریا اور پاکستان بھارت کے درمیان مشترکہ فوجی مشقیں مثبت سمت میں ایک حوصلہ افزا اقدامات کہلاسکتی ہیں لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا دونوں کوریاؤں اور ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں سے دنیا میں امن کی گارنٹی حاصل ہوسکتی ہے؟

ایک تازہ خبر کے مطابق امریکا کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ موصوف نے اس حوالے سے یہ ''خوشخبری'' بھی سنائی ہے کہ واشنگٹن تہران کے خلاف نئی پابندیاں عاید کرنے کے لیے تیار ہے اس حوالے سے ایک خبر میں بتایاگیا ہے کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی ایران سے نمٹنے کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ان متضاد اور حوصلہ افزا اور حوصلہ شکن خبروں کی وجہ یہ ہے کہ سامراجی ملک اپنے سیاسی اور اقتصادی مفادات کی خاطر دنیا کو غیر یقینی صورتحال سے باہر نکلنے کا موقع نہیں دینا چاہتے۔ بد قسمتی سے اس پر آشوب اور خطراتی دور میں امریکا کی قیادت ایک ایسے فطری جنگ پسند شخص کے ہاتھوں میں ہے جو اپنی غیر متوازن شخصیت کی وجہ سے دنیا کو امن کی طرف جانے کی راہ میں دیوار بن کر حائل ہورہا ہے۔ مشرق وسطی کے شخصی حکمرانوں کو قابو میں لے کر امریکا ایران کے خلاف مسلسل جارحانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے بد قسمتی سے عرب ممالک امریکا کی سازشوں کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔

شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کا یہ بیانیہ بڑا دل خوش کن ہے کہ وہ خطے کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن کیا اس خطے کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کردیا گیا تو دنیا ایٹمی خطرے سے محفوظ ہوجائے گی، پاکستان اور بھارت روس میں شنگھائی تنظیم کے تحت مشترکہ فوجی مشقیں کررہے ہیں، مشترکہ فوجی مشقیں دوست ملکوں کے درمیان ہوتی ہیں۔ کیا بھارت اور پاکستان دوست ملک کہلاسکتے ہیں؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ بھارت پاکستان 70سال سے متحارب ملک ہیں اور ان کے درمیان اختلاف کی بڑی وجہ مسئلہ کشمیر ہی بنا ہوا ہے۔ جواہر لعل نہروں سے لے کر نریندر مودی تک کشمیر کے حوالے سے ایک ہی پالیسی آرہی ہے۔ اس پالیسی کا محور ''قومی مفادات'' ہے یہ گھنٹے سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں نے تمام ملکوں کے سربراہان کے گلے میں اس طرح باندھ دی ہے کہ کوئی اس گھنٹی کو اپنے گلے سے نکال کر عالمی مفادات کے گھنٹے کو تھامنے کے لیے تیار نہیں۔

اس میں ذرا برابر شک نہیں کہ شمالی اور جنوبی کوریا کے سربراہوں کے درمیان ملاقات اور ان کا مشترکہ بیانیہ دنیا کے لیے انتہائی حوصلہ افزا ہے لیکن جب بھی امریکا کے مفادات کا تقاضا دونوں کوریاؤں کے درمیان کشیدگی پیدا کرنا ہوگا، دونوں کوریاؤں کے یہ خوش کن بیانیے ہوا میں اڑ جائیںگے اور پھر شمالی کوریا کے رہنما فرمانے لگیںگے کہ امریکا کا ہر شہر ہمارے میزائلوں کے نشانے پر ہے اور امریکا کے بحری بیڑے علاقے میں آجائیںگے۔

یہ ایک انتہائی بد نما حقیقت ہے کہ جب تک دنیا میں ایک بھی ایٹمی ہتھیار موجود ہے، دنیا کے سر پر ایٹمی خطرات کی تلوار لٹکتی رہے گی لیکن کیا سامراجی ملک دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک ہونے دیںگے؟ سامراجی ملکوں کا فلسفہ ہے کہ طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی ضروری ہے لیکن کیا سامراجی ملک اس حقیقت سے انکار کرسکتے ہیں کہ دنیا کا کوئی ایٹمی ملک ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی حماقت نہیں کرسکتا۔

امریکا بہادر ایک طرف دونوں کوریاؤں کو اس بات پر بدھائی دے رہا ہے کہ دونوں ملکوں کے سربراہوں نے خطے کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کا عہد کیا ہے تو دوسری طرف خلیجی ممالک کو مشورہ دے رہا ہے کہ وہ ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوجائیں اور فرانس، برطانیہ اور جرمنی فرمارہے ہیں کہ امریکا ایران کے خلاف جو بھی کارروائی کرے گا، ہم اس کے ساتھ ہوںگے۔ ایک طرف پاکستان اور بھارت شنگھائی تنظیم کے تحت روس میں مشترکہ فوجی مشقیں کررہے ہیں تو دوسری طرف کشمیر کے مسئلے پر دونوں ملک ایک دوسرے کے خلاف تلواریں سونتے کھڑے ہیں اور ہر روز ایل او سی پر فائرنگ اور جانی نقصانات کا سلسلہ جاری ہے؟

ان سارے جھگڑوں اور تضادات کا خاتمہ کیسے ہوگا، ہوگا بھی یا نہیں لیکن ایک حقیقت عیاں ہے کہ دنیا میں ہتھیاروں کی صنعت تیزی سے ترقی کررہی ہے اور دنیا کے 7 ارب انسانوں میں 80 فی صد انسان غربت و افلاس کا شکار ہیں اور غربت میں اضافہ ہو رہا ہے اور سرمائے کے ارتکاز میں ترقی ہورہی ہے۔

مقبول خبریں