سینیٹ میں بجٹ پر بحث بی این پی مینگل کا حکومت سے الگ ہونے کا عندیہ

حکومت نے 6میں سے ایک نکتے پربھی عمل کاآغازنہیں کیا،سلسلہ جاری رہا توحکومتی بینچوں پرنہیں بیٹھیں گے،جہانزیب جمالدینی


Numainda Express September 27, 2018
یہ توروایتی بجٹ سے بھی بدترہے،کہیں یوٹرن لینانہ پڑے،اپوزیشن ارکان،تنقید کرنے والوں نے ہی ملک اس نہج پرپہنچایا،حکومتی ارکان۔ فوٹو:فائل

ایوان بالا میں حزب اختلاف کے اراکین نے ضمنی بجٹ کو بلیک اکانومی اور عوام دشمن قراردیتے ہوئے مسترد کردیا جبکہ حکومت کے اتحادی جماعت بی این پی مینگل کے رکن نے ضمنی بجٹ میں ان کے ساتھ طے شدہ 6 نکات میں سے کسی کے لیے کچھ نہ رکھنے پر حکومت سے علیحدگی کا عندیہ دے دیا ہے۔

سینیٹ میں اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے حکومت کی جانب سے مختصر عرصے کے دوران گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان معاملات پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں۔

ایوان بالا میں ضمنی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر شیری رحمن نے کہا یہ بجٹ اسٹیٹس کو سے بھی بدترین بجٹ ہے، یہ تو روایتی بجٹ بھی نہیں، فنانس منسٹر نے عوام سے بہت وعدے کیے تھے مگر یہ منی بجٹ کیا ہے۔ آپ تو تبدیلی کے دعویدار تھے، کہیں پھر یو ٹرن نہ لینا پڑے جس طرح آج ریڈیو بلڈنگ کے حوالے سے یو ٹرن آیا ہے، ملک میں معاشی بے یقینی کی صورتحال ہے، حکومت کو معلوم نہیں کہ اسٹاک ایکسچینچ سے روپے باہر جارہے ہیں۔

مقبول خبریں