ڈونا اسٹریکلینڈ

فزکس کا نوبل انعام اپنے نام کرنے والی قابل خاتون کا تذکرہ


October 23, 2018
فزکس کا نوبل انعام اپنے نام کرنے والی قابل خاتون کا تذکرہ۔ فوٹو:فائل

ڈونا اسٹریکلینڈ کو پچھلے ماہ موصول ہونے والی ایک فون کال نے نہ صرف حیران کر دیا بلکہ یہ دنیائے سائنس میں ان کی شہرت کا سبب بھی بنی۔ وہ ایک سائنس داں ہیں اور فزکس ان کا خاص مضمون ہے۔ اس فون کال کے ذریعے انہیں مطلع کیا گیا تھاکہ فزکس کے شعبے میں انہیں ان کی ایک تحقیق پر نوبل انعام کا حق دار قرار دیا گیا ہے۔

اسٹریکلینڈ یہ جان کر کچھ دیر کے لیے ساکت و جامد رہ گئیں۔ خوشی اور مسرت کے شدید احساس نے ان کو کچھ بھی کہنے سے جیسے روک لیا تھا۔ اس طرح وہ 1963ء کے بعد اس مضمون میں اہم تحقیق اور دریافت کے حوالے سے نوبل انعام پانے والی پہلی خاتون ہیں۔ اسٹریکلینڈ کی تحقیق اور دریافت 'لیزر پلس' کے گرد گھومتی ہے۔ وہ ایک عرصے سے اس حوالے سے کام کر رہی تھیں۔

اس شعبے میں محنت اور ریسرچ پر انہیں فزکس کے ماہرین پہلے بھی سراہتے رہے ہیں اور بصارت سے متعلق ان کی محنت جہاں انسانوں کے لیے سود مند ثابت ہو گی وہیں نوبل پرائز کے ذریعے دنیا نے ان کی اس شعبے میں خدمات کا اعتراف کیا ہے جس پر اسٹریکلینڈ خوشی سے نہال ہیں۔ اس سال نوبل انعام کے لیے کمیٹی کے سامنے جو نام آئے ان میں ڈاکٹر اسٹریکلینڈ بھی شامل تھیں۔ اس خاتون سائنس داں کو چھوٹے اور جامع لیزر پلس بنانے کی ایک نئی تکنیک متعارف کروانے پر نوبل انعام سے نوازا گیا۔ اس کے ذریعے آنکھوں کے آپریشن، سرطان کے علاج اور مستقبل میں اسی ریسرچ کو بنیاد بناتے ہوئے اس میدان میں مزید اہم کام کرنے میں مدد ملے گی۔

1901ء سے اب تک نوبل انعام سے متعلق کمیٹی فزکس کے شعبے میں 122 انعامات دے چکی ہے جب کہ اسٹریکلینڈ سے پہلے اس مضمون میں کسی اہم کام اور دریافت پر نوبل انعام صرف دو خواتین کو دیا گیا تھا۔ ان میں سے ایک 1903ء میں مادام کیوری اور 1963ء میں ماریا گیوپرٹ مائیر کو فزکس کے شعبے میں نمایاں کام کرنے پر نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔ اور اب یہ پرائز اسٹریکلینڈ کا مقدر بنا ہے جس پر دنیا بھر میں ان کا چرچا ہو رہا ہے۔ اس کام یابی پر کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈر نے بھی انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔

27 مئی 1959 کو کینیڈا میں پیدا ہونے والی اسٹریکلینڈ نے تعلیمی میدان میں نمایاں پوزیشن حاصل کی۔ وہ فزکس کے مضمون میں خاص دل چسپی رکھتی تھیں اور یہی ان کی تحقیق اور مہارت کا میدان ہے۔ ان کے والد انجینئر اور والدہ تدریس سے وابستہ تھیں۔ اسٹریکلینڈ نے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد میں فزکس کے مضمون میں تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔

ساتھ ہی فزکس کے شعبے میں بصارت سے متعلق تحقیق کا کام جاری رکھا۔ اس کے علاوہ وہ مختلف حیثیت میں سائنس سے متعلق اداروں اور تنظیموں سے وابستہ ہیں۔ اسٹریکلینڈ دو بچوں کی ماں ہیں اور ان کے شوہر بھی طبیعیات داں ہیں۔

ایک موقع پر اسٹریکلینڈ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کسی بھی شعبے میں مردوں سے پیچھے نہیں۔ انسانوں کی فلاح اور خوش حالی کے لیے اور کسی بھی اچھے مقصد کے لیے لگن اور محنت سے کام کیا جائے تو ناکامی نہیں ملتی۔ ان کا کہنا تھاکہ کسی بھی معاشرے کی خواتین اپنی صلاحیتوں کا درست استعمال کرتے ہوئے محنت کریں تو نام اور مقام بنا سکتی ہیں۔

مقبول خبریں