پی آئی سے طیارے کی جرمنی میں متنازع فروخت معاملہ سرد خانے کی نذر ہونے کا خدشہ

ایئربس 310 جہازڈرامائی طریقے سے جرمن نژاد سی ای اوہلڈن برنڈ کی اجازت سے جرمنی پہنچا کر14 کروڑ روپے میں فروخت کیا گیا


Staff Reporter March 18, 2019
پی آئی اے نے ’ پریمیئر ‘ سروس کیلیے 8 ہزار ڈالر فی گھنٹہ کرایے پر ایئربس 330 ساختہ طیارے حاصل کیے، ذمے دار ہلڈن برنڈ کو ٹھہرایا گیا فوٹوفائل

قواعدوضوابط کے خلا ف قومی ایئر لائن کے فضائی بیڑے میں شامل ایئر بس 310 ساختہ جہاز جرمنی منتقل کرنے اور پریمیئر سروس کے لیے مہنگے داموں لیز پر جہازوں کے حصول کے ذمے داروں کو تحقیقات کے لیے پاکستان واپس نہیں بلوایا جاسکا، پی آئی اے کے سابق جرمن نژاد سی ای او سمیت دیگر ملوث افراد کی جانب سے تحقیقات کے لیے پیش ہونے میں تاخیری حربوں کی وجہ سے کیس سرد خانے کی نذرہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قوانین کے برخلاف قومی ایئر لائن کے فضائی بیڑے میں شامل ایئر بیس 310ساختہ طیارہ 2016 میں جرمنی لے جایا گیا تھا، جسے جرمنی کے لزپک ایئر پورٹ پرکچھ عرصہ قبل پاکستانی 14کروڑروپے میں فروخت کردیا گیا، تاہم فروخت سے قبل اس طیارے کی جرمنی روانگی اور بعدازاں پیدا ہونے والی صورتحال کے نتیجے میں یہ معاملہ مسلسل متنازع بنا رہا، مذکورہ ایئر بس 310 جہاز انتہائی ڈرامائی طریقے سے اس وقت کے جرمن نژاد سی ای او ہلڈن برنڈ کی اجازت سے جرمنی پہنچایا گیا تھا، ذرائع کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے جرمن نژاد سابق سی ای او نے3لاکھ یورو میں ایک غیر ملکی فلمساز کمپنی سے جہازکے فلم کی عکس بندی میں استعمال ہونے کا معاہدہ کیا تھا، اس وقت جہاز کے تیکنیکی طور پراڑان کے 25گھنٹے باقی تھے۔

ہلڈن برنڈ سمیت پی آئی اے کے اعلیٰ افسران کو یہ اندازہ نہ ہوسکا کہ مڈل مین کے ذریعے ہونے والایہ معاہدہ دراصل اسرائیلی فلم کی شوٹنگ کے لیے ہورہا ہے، اس پہلو کے منظر عام پر آنے اور جہاز کی ہائی جیکنگ کی فلم بندی کی تصاویر سوشل میڈیا پروائرل ہونے کی وجہ سے معاملہ حساس ہوگیا،اور اسی تناظر میں پاکستان میں تحقیقات شروع کی گئیں،کیونکہ جہاز کی جرمنی منتقلی کے دوران عجلت میں قوانین کے برخلاف راستہ اپنایاگیا، اسی دوران پی آئی اے نے پریمیئر کے نام سے ایک نئی شروع کی جس کے لیے ایئربس 330ساختہ طیارے لیز پرحاصل کیے گئے جس کے لیے 8ہزارڈالرفی گھنٹہ کرایہ طے کیا گیا،اس معاہدے کا الزام بھی براہ راست ہلڈن برن پر لگا،اور سابق سی ای او پی آئی اے دہرے الزامات کی زد میں آگئے۔

بعدازاں ان کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا،تاہم سفارتی دباؤ پر انھیں ایک ایک ماہ بعد واپسی کی شرط پر بارسفرکی اجازت دے دی گئی۔ ذرائع کے مطابق 6مئی 2017 کو جرمنی جانے کے بعد وہ واپس لوٹ کر نہیں آئے،ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلڈن برنڈ کے حوالے سے 2016سے موجود انکوائری میں ہلڈن برنڈ کے علاوہ ان کے جرمن نژاد جرمن کنسلٹنٹ شروڈکربھی شامل ہیںجو اطلاع دیے بغیر اپنے ملک روانہ ہوگئے تھے، ذرائع کے مطابق ہلڈن برنڈ پر طیارہ چوری کرکے اپنے وطن لے جانے کا الزام قومی اسمبلی میں بھی عائد کیا گیا تھا، تاہم اس اہم معاملے کے اصل ذمے داروں کے پیش نہ ہونے کی وجہ سے معاملہ سردخانے کی نذر ہورہا ہے، ذرائع کا یہ بھی کہناہے کہ تحقیقاتی اداروں کے رجوع کرنے پر ہلڈن برنڈ نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ معاملے پر براہ راست پاکستان میں پیش ہونے کے بجائے جواب اپنے وکلا کے ذریعے دیں گے۔

مقبول خبریں