نریندر مودی کا منشور

مودی سرکار نے ایک سیکولر ملک کو انا اور تعصب پرستی کی بھینٹ چڑھایا دیا ہے اورتمام اقلیتوں پر زمین تنگ کردی ہے۔


Editorial April 10, 2019
مودی سرکار نے ایک سیکولر ملک کو انا اور تعصب پرستی کی بھینٹ چڑھایا دیا ہے اورتمام اقلیتوں پر زمین تنگ کردی ہے۔ فوٹو : فائل

بھارتیہ جنتا پارٹی نے ملک میں عام انتخابات سے قبل انتخابی منشورکا اعلان کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں آئین کے آرٹیکل 35-a اور آرٹیکل 370 کا مکمل خاتمہ کرکے کشمیر کی خود مختاری اورکشمیریوں کو دیے گئے خصوصی آئینی حقوق سلب کرنے کے ساتھ ساتھ ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ رام مندرکی تعمیرکا وعدہ کیا ہے۔

مودی سرکار نے ایک سیکولر ملک کو انا اور تعصب پرستی کی بھینٹ چڑھایا دیا ہے اورتمام اقلیتوں پر زمین تنگ کردی ہے۔ الیکشن جیتنے کے پاگل پن میں مبتلا شخص نے اپنی پارٹی کے منشور میں جن 75اہداف کا اعلان کیا ہے، وہ مسلم دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے نریندر مودی کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے انھیں ''راون'' سے تشبیہ دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی پچھلے پانچ سال عوام سے صرف جھوٹ بولتا رہا ہے۔ دوسری جانب بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ بھارتی قیادت کشمیر میں امن چاہتی ہے تاہم پاکستان کشمیر میں جنگجوؤں کو بھیج کرکشمیر کے امن کو بگاڑ رہا ہے۔تاریخ سے نابلد سشماسوراج کو معلوم ہونا چاہیے کہ تحریک آزادی کشمیر،کشمیریوں کی ستر سالہ جدوجہد سے عبارت ہے۔

راہول گاندھی نے اسے ایک تنہا شخص کی رعونت قراردیا ہے، نیشنل کانفرنس پارٹی کے صدر فاروق عبداللہ کے بقول ''انھیں ایسا کرنے دیں اور یہ اقدام کشمیریوں کو آزادی کا راستہ مہیا کریں گے۔'' بلاشبہ مودی '' گجرات کا قصاب'' والی اپنی فطرت کو بدل نہیں سکتے، وہ بھارت کو ایسی سرزمین بنانا چاہتے ہیں جہاں پر صرف دنگا اور فساد ہو، وہ سمجھتے ہیں کہ الیکشن سے پہلے پاکستان کے خلاف جنگی جنون ابھارنے اور نفرت کا الاؤ روشن کرنے سے انھیں الیکشن جیتنے میں آسانی ہوگی۔ مودی سرکارکو یاد رکھنا چاہیے کہ نفرت اور تعصب کی آگ میں سب کچھ بھسم ہوجاتا ہے۔

مقبول خبریں