برہنہ بے بسی اور ایک اجنبی لڑکا
یہ ٹارگٹ کلنگ تھی جس کا سارا ہدف ہزارہ مسلمان کمیونٹی کے نوجوان بنے
یکم ستمبر 2012 کی دوپہر کے ستمگر لمحات ایک بار پھر ہزارہ مسلمانوں پر ہلاکت خیز بجلی بن کر گرے۔ ایک بار پھر کئی معصوموں کے لاشے زمین پر گرے۔
ایک بار پھر بلوچستان کے دارالحکومت کی سڑکیں بے گناہ انسانی خون سے لالہ زار بن گئیں۔ ایک بار پھر قاتل فرار ہونے اور چھپنے میں کامیاب ہو گئے۔ ایک بار پھر صوبائی اور وفاقی حکومت کے حکمران زبانی کلامی اِس خونی سانحے کی مذمت کر کے خاموش ہو گئے۔ یکم ستمبر کی دوپہر کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی کی سبزی منڈی سے ہزارہ مسلمان کمیونٹی کے لوگ پھل اور سبزیاں خرید کر گھروں کو لَوٹ رہے تھے کہ ناگہاں قاتل نمودار ہوئے، گولیاں برسائیں اور ہوا ہو گئے۔
یہ ٹارگٹ کلنگ تھی جس کا سارا ہدف ہزارہ مسلمان کمیونٹی کے نوجوان بنے۔ پلک جھپکتے میں نصف درجن سے زائد نوجوانوں کے بے روح بدن کٹے ہوئے تنوں کی مانند زمین پر بکھرے پڑے تھے۔ یہ خونخوار اور خونریز واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا سانحہ نہیں جس میں ہزارہ مسلمان، جو ایک خاص مسلک کے پیروکار ہیں، قتلِ عام کا شکار ہوئے ہیں۔
کوئی نہیں جانتا اور ہماری ریاست کے کارپرداز غالباً جاننا بھی نہیں چاہتے کہ اِس خونریز المیے سے قبل اِس مسلک کے حامل کتنے ہی لوگوں کو گولیوں سے اُڑا دیا گیا۔ ایک پُر اسرار بے بسی ہے جس نے سب کو گرفت میں لے رکھا ہے۔ ہزارہ مسلمان کمیونٹی کی بے بسی سب سے سوا ہے۔
ایسے میں ہمیں محمد حنیف صاحب کی لکھی گئی ایک تازہ سچی کہانی یاد آ رہی ہے جس میں اِس بے کسی کو الفاظ کی شکل میں مجسم کر دیا گیا ہے۔ اور اِس سے پہلے کہ ہم ہزارہ مسلمانوں کے بارے میں یہ دِل دہلا دینے والی کہانی پڑھیں، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ محمد حنیف کو بھی پہلے یاد کر لیا جائے۔
اڑتالیس سالہ محمد حنیف صاحب اوکاڑہ میں پیدا ہوئے۔ پاکستان ایئر فورس اکیڈمی سے وہ پائلٹ بن کر نکلے لیکن جنگی جہاز اڑانے میں دل نہ لگا۔ فوراً اِس سے پِنڈ چھڑا کر صحافت کے خار زار میں اُترے۔ آغاز میں کراچی سے شایع ہونے والے ماہنامہ انگریزی جریدے ''نیوز لائن'' سے وابستہ ہوئے۔ قلم رواں ہوا اور اِس کا اعتبار بھی جمنے لگا تو امریکا کے ممتاز اخبار ''واشنگٹن پوسٹ'' اور بھارت کے نمایاں ترین نیوز میگزین ''انڈیا ٹو ڈے'' میں بھی اُن کی تحریریں شایع ہو کر شہرت حاصل کرنے لگیں۔
اِسی دوران انھوں نے انگلستان کی ''یونیورسٹی آف ایسٹ انجلیا'' سے بھی تعلیم حاصل کی، لندن جا کر ''بی بی سی'' میں ملازمت اختیار کی اور پھر رفتہ رفتہ بی بی سی اردو سروس کے سربراہ بن گئے۔ صحافت کے ساتھ ساتھ وہ ڈراما نگاری اور ناول نویسی کے میدان میں بھی رواں ہو گئے۔ اُن کے تحریر کردہ اسٹیج ڈرامے The Dictator's Wife نے لندن میں دھومیں مچا دیں۔ آج سے تقریباً چار سال قبل محمد حنیف صاحب نے جنرل ضیاء الحق کے طیارے کی تباہی کے پس منظر میں ایک ناول لکھا اِس کا نام تھا: A Case of Exploding Mangoes اِس ناول کے بالکل انوکھے پلاٹ اور جاذبِ نظر اسلوب نے مشرق و مغرب میں دھومیں مچا دیں اور مغربی دنیا سے، حتیٰ کہ بھارت سے بھی حنیف صاحب نے کئی اعلیٰ ادبی انعام پائے۔
گزشتہ برس اُنہوں نے Our Lady of Alice Blatti کے نام سے ایک نیا ناول لکھا جس کی بازگشت ہمیں اب بھی چاروں اور سنائی دے رہی ہے۔ محمد حنیف صاحب کوئٹہ کے آس پاس بسنے والے مظلوم ہزارہ مسلمانوں کے ایک بچے سے ملے۔ اُس کی کتھا سُنی۔ خود بھی خون کے آنسو روئے اور ہمیں بھی اداس کر گئے ہیں۔
محمد حنیف لکھتے ہیں: ''اِس سال کے آغاز میں میَں ایک چودہ سالہ ہزارہ لڑکے سے کراچی سے بینکاک جانے والی ایک پرواز کے دوران ملا۔ مذاق مستی کے موڈ میں پاکستانی تاجروں کا ایک گروہ اس لڑکے پر چینی زبان آزمانے کی کوشش کرنے لگا۔ (کیونکہ اُس کے خدوخال چینیوں کی طرح تھے) لڑکے نے پریشان ہو کر مجھے کہا کہ یہ لوگ کونسی زبان بول رہے ہیں؟ میَں نے احتیاط کے ساتھ اُس گروہ کو بتایا کہ یہ لڑکا پاکستانی ہے۔ تاجر اس بات پر حیران رہ گئے کہ چینی نظر آنے والا یہ بچہ روانی کے ساتھ اردو کیسے بول لیتا ہے؟ کچھ دیر بعد انھوں نے ہمیں اکیلا چھوڑ دیا اور وہ آپس میں بینکاک کے قحبہ خانوں پر باتیں کرنے لگے۔ میَں نے لڑکے سے پوچھا: ''اکیلے ہی چھٹیوں پر جا رہے ہو؟''
میرے سوال پر اُس نے کہا: ''میَں نویں جماعت میں ہوں۔'' وہ خود کو بچہ نہیں کہلوانا چاہتا تھا۔
''تو تم اسکول کیوں نہیں جاتے؟'' میَں نے پوچھا۔
پھر جو کہانی اس نے سنائی، وہ میرے لیے نئی نہیں تھی، تاہم ایک بچے کے نقطہ نظر سے میَں نے پہلی بار سنی تھی۔ اس نے کہا: ''میرے ابو کچھ عرصے سے گھر میں ہم سے عجیب طرح کا برتائو کر رہے ہیں۔'' اس نے دھیمی آواز کے ساتھ بتایا کہ (کوئٹہ کی) سریاب روڈ پر ان کی ایک بہت بڑی دکان ہے۔ پہلے ابّا وہاں روز جایا کرتے تھے تاہم اب وہ زیادہ تر گھر پر ہی رہتے ہیں۔ لڑکے نے بتایا کہ پہلے ابو نے مجھے اسکول جانے سے روک دیا، پھر باہر جانے پر بھی پابندی لگا دی اور پھر انھوں نے مجھے بتایا کہ میَں بینکاک جا رہا ہوں۔
اُس لڑکے کو اس بات کا اندازہ نہ تھا کہ اس کی (ہزارہ مسلمان) برادری کس قسم کے (سنگین) حالات کا سامنا کر رہی ہے۔ اس کے والد کوئٹہ کے ان تاجروں میں سے ایک ہیں جنھیں اپنے کام پر جا کر مر جانے یا گھر پر رہ کر زندہ رہنے کے بیچ انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ لڑکے کو اس بات پر یقین تھا کہ اس کے والد کچھ عجیب طرح سے برتائو کر رہے تھے۔ میَں نے اس لڑکے سے پوچھا کہ کیا تم کبھی بینکاک پہلے جا چکے ہو اور تمہارے خاندان کا کوئی فرد وہاں موجود ہے؟ اس نے سر ہلاتے ہوئے جواب دیا: ''نہیں، میَں کبھی کہیں نہیں گیا۔
میری ساری بہنیں کوئٹہ میں ہیں اور میں ان کا اکلوتا بھائی ہوں۔ میَں بینکاک میں انکل مرزا کے ساتھ رہنے جا رہا ہوں۔'' پھر ٹھیٹ لڑکپن کے جوش کے ساتھ اس نے مجھ سے سوال کیا: ''کیا آپ انکل مرزا کو جانتے ہیں؟ بینکاک میں انھیں تو سب جانتے ہیں۔ ''کچھ دیر بعد پتا چلا کہ انکل مرزا ان کے خاندانی دوست ہیں لیکن یہ لڑکا اُن سے کبھی نہیں ملا تھا۔ مجھ میں یہ کہنے کا حوصلہ نہیں تھا کہ میَں کسی انکل مرزا کو نہیں جانتا اور میَں یہ بھی تصور نہیں کر پایا کہ اس بچے کی بینکاک میں زندگی کیسی ہو گی۔'' محمد حنیف مزید لکھتے ہیں: ''رواں سال ہزارہ برادری کے ایک رہنما عبدالقیوم چنگیزی میتیں اٹھانے کے خوف سے مجھے کہنے لگے: ''وہ حکومت کو ایک مشورہ دینے والے ہیں کہ ان کی تمام جائیداد، اُن کا گھر، کاروبار، دکانیں اور تمام جمع پونجی لے کر حکومت انھیں کسی جہاز میں بٹھا دے اور کسی ایسے ملک بھیج دے جو انھیں قبول کرنے کو تیار ہو۔''
عالمی شہرت یافتہ ناول نگار، ڈراما نویس اور صحافی محمد حنیف کی لکھی گئی یہ دل شکن کہانی، جو اگست 2012ء کے وسط میں ایک انگریزی معاصر میں شایع ہُوئی ہے، پڑھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بلوچستان میں مقیم ہزارہ مسلمان برادری کس طرح کے بے پناہ خوف اور کرب کا شکار ہے۔ اُن پر آئے روز کے قاتلانہ حملوں نے اُن کی امیدوں اور حوصلوں کے چراغ بجھا دیے ہیں۔ اچانک نمودار ہونے والے قاتلوں کا خوف اُن کے دل و دماغ میں برف کی قلم بن کر بیٹھ گیا ہے۔ گویا اپنے وطن میں رہتے ہُوئے وہ اجنبی بنا دیے گئے ہیں۔ بینکاک روانہ ہونے والے لڑکے کی کہانی سے ہم یہ بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہزارہ مسلمان برادری اپنی اولاد کو محفوظ بنانے کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلنے پر مجبور ہے۔ ہم بھارت میں آسامی اور برما میں روہنگیا مسلمانوں کی مظلومیت پر آنسو بہا رہے ہیں، اُن کی بے بسی پر ہم بہت پریشان ہیں لیکن حیرت ہے کہ ہمیں اپنے ملک کے ہزارہ برادری کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم نظر آ رہے ہیں نہ اُن کا مسلسل بہتا ہُوا خون ہمارے دل نرم کر رہا ہے۔ کیا کوئی اِس کی وجہ بتا سکتا ہے؟