دعا اور بسمہ کے اغوا میں ملوث 5 رکنی گروہ کے 2 اغوا کار گرفتار

بسمہ اور دعا منگی کو ڈیفنس سے اغواکیا گیا، دونوں تاوان کی ادائیگی کے بعد گھر آئیں


Staff Reporter March 19, 2020
گرفتار ملزمان کے 3 ساتھیوں کی تلاش جاری ہے، کراچی پولیس چیف کی پریس کانفرنس۔ فوٹو: فائل

پولیس نے 2 نوجوان لڑکیوں کے اغوا میں ملوث 5 رکنی گروہ کے 2 اغوا کاروں کو گرفتار کرلیا۔

اغوا برائے تاوان کے دونوں مقدمات پولیس کے لیے چینلج بنے ہوئے تھے جسے پولیس نے کامیابی سے حل کرتے ہوئے نہ صرف ملوث گروہ کا سراغ لگایا بلکہ 2 اہم ملزمان کو بھی گرفتار کرلیا، اس حوالے سے کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن نے اپنے دفتر میں سی پی ایل سی زبیر حبیب اور ایس ایس پی اینٹی وائلنٹ کرائم سیل عبداللہ شیرازی کے ہمراہ اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ وہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے مجھے پریس کانفرنس کرنے کی اجازت دی۔

انھوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ڈیفنس کے علاقے سے 2 نوجوان لڑکیوں کو اغوا کیا گیا جس میں بسمہ کو 12 مئی جبکہ 30 نومبر کو دعا منگی کو اغوا کیا گیا اور یہ دونوں مقدمات درخشاں تھانے میں درج ہوئے تھے جو کہ اغوا اور تاوان وصول کرنے سے متعلق تھے۔

کراچی پولیس چیف نے بتایا کہ ان واقعات کے بعد سندھ حکومت خصوصاً وزیر اعلیٰ سندھ نے پولیس کو سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے متعدد بار اجلاس بھی بلائے جبکہ کراچی پولیس ، رینجرز ، سی پی ایل سی اور حساس اداروں نے مشترکہ کوششوں سے اس کیس کو حل کرنے کی کوششیں شروع کیں اور یہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا اور تمام اداروں کے لیے خاص طور پر اس وقت جب اسی گروپ نے اپنی دوسری کارروائی میں دعا منگی کو سر راہ اغوا کر کے فرار ہوگئے اس واقعے کے بعد یہ تاثر ظاہر کیا جا رہا تھا کہ پولیس ان ملزمان کے سامنے بے بس ہے اور ان کا سراغ لگا کر گرفتار نہیں کر پا رہی لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی۔

کراچی پولیس چیف نے بتایا کہ پولیس اور تمام اداروں نے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے تندہی سے کام کیا اور آخر کار ان وارداتوں میں ملوث 5 رکنی گروہ کا سراغ لگا کر 2 ملزمان زوہیب قریشی ولد ممتاز قریشی اور مظفر عرف موذی ولد رفیق حسین کو گرفتار کرلیا۔

انھوں نے بتایا گرفتار ملزمان کے دیگر 3 ساتھیوں آغا منصور ، شکیل اور کامران عرف کامی کی تلاش میں چھاپے مارے جا رہے ہیں جبکہ دونوں ملزمان نے ابتدائی تفتیش کے دوران اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے ، گرفتار ملزم زوہیب اور مفرور ملزم آغا منصور جو کہ پولیس کا برطرف اے ایس آئی ہے اس نے اغوا کا منصوبہ بنایا اور اس حوالے سے انھوں نے کلفٹن بلاک 2 میں ایک فلیٹ کرایے پر حاصل کیا جس میں دونوں مغوی نوجوان لڑکیوں کو رکھا گیا اور رہائی کے عوض تاوان وصول کر کے رہا کیا گیا۔

غلام نبی میمن نے بتایا کہ دونوں وارداتوں میں ملزمان نے اپنی شناخت کو چھپاتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ، انھوں نے بتایا کہ ملزمان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔ ملزمان ماضی میں بھی جرائم کی وارداتوں میں ملوث رہے ہیں ، ملزمان کو فلم دیکھ کر واردات کرنے کا خیال آیا جبکہ ملزمان کے گروہ میں ایک لڑکی کے بھی شامل ہونے کی اطلاع ملی ہے۔

کراچی پولیس چیف نے بتایا کہ اغوا کی جانے والی دونوں لڑکیوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائیگا جبکہ تینوں مفرور ملزمان کی گرفتاری میں مدد دینے کے لیے حکومت سندھ سے 50 لاکھ روپے سر کی قیمت مقرر کیے جانے کی بھی سفارش بھیجی جا رہی ہے جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ نے تمام پولیس افسران اور دیگر اداروں کے افسران جو کہ اس کیس کو حل کرنے میں پیش پیش تھے ان کو شاباش دی ہے جبکہ 20 لاکھ روپے نقد انعام دینے کی بھی سفارش کی جا رہی ہے۔

مقبول خبریں