امریکا نے طورخم کے راستے نیٹو سپلائی روک دی تدبیری کامیابی ملی تحریک انصاف دھرنے جاری

ڈرائیوروں کے تحفظ کی خاطرسپلائی معطل کی،امیدہے جلدبحال ہوجائیگی،ترجمان پینٹاگون


Numaindgan Express/AFP/Net News December 05, 2013
مظاہروں کے باعث افغانستان اور پاکستان کی مرکزی گزرگاہیں متاثر ہوئی ہیں۔فوٹو:اے ایف پی

SUKKUR: امریکا نے طورخم کے راستے افغانستان سے سامان کی ترسیل کا عمل عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ڈرون حملوں کیخلاف جاری احتجاج کے باعث ڈرائیوروں کے تحفظ کی خاطر ایسا کیا گیا ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان مارک رائٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 'جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ مظاہروں کے باعث افغانستان اور پاکستان کی مرکزی گزرگاہیں متاثر ہوئی ہیں، ہمارے آلات لے جانے والے ڈرائیوروں کے تحفظ کی خاطر ہم نے رضاکارانہ طور پر طورخم سے کراچی کے راستے واپس لے جائے جانے والے سامان کی ترسیل روک دی ہے۔ مارک رائٹ نے بتایا کہ 'ہمیں امید ہے کہ پاکستان کے راستے سامان کی ترسیل مستقبل قریب میں بحال ہو جائے گی'۔ برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز سے بات کرتے ہوئے مارک رائٹ نے کہا کہ کم لاگت کے باعث ہم پاکستان کے راستے سپلائی کی حمایت کرتے ہیں تاہم سامان کی منتقلی کیلیے امریکا پاس دیگر ذرائع یا راستے بھی موجود ہیں۔ بی بی سی کے مطابق روکی جانے والی سپلائی میں زیادہ تر وہ فوجی سازو سامان شامل تھا جو فوج کے بتدریج انخلا کے بعد افغانستان سے امریکہ واپس بھیجا جا رہا تھا۔

افغانستان میں بھیجے جانے والی رسد کا بڑا حصہ بہت پہلے ہی پاکستان کے حالات کے پیش نظر دیگر ممالک میں موجود متبادل راستوں پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ اے ایف پی کے مطابق ایک امریکی دفاعی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنیکی شرط پر بتایا کہ واشنگٹن کو یقین ہے کہ اسلام آباد حکومت سپلائی کیلئے اس روٹ کے استعمال کا مکمل حامی ہے اور وہ جلد اس کیلئے سکیورٹی بحال کردے گی۔ دوسری جانب وزارت داخلہ کے ترجمان عمر حمید نے اے ایف پی سے گفتگو میں بتایا کہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنا صوبائی حکومت کا معاملہ ہے اور صوبائی حکومت نیٹو کنٹینرز اور ٹرکوں کی سیکیورٹی کی ذمہ دار ہے۔ وفاقی حکومت اس سلسلے میں صوبائی حکومت کو ہدایت جاری نہیں کرسکتی۔



اسلام آباد،پشاور(نمائندگان ایکسپریس)تحریک انصاف کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹر شیریں مزاری نے افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کو رسد کی بندش کے حوالے سے خبروں پر رد عمل کااظہار کرتے ہوئے اسے تحریک انصاف کی تدبیری کامیابی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ترکیبی کامیابی اس وقت میسر آئے گی جب امریکا پاکستان کی حدود کے اندر ڈرون حملے روکنے کا اعلان کرے گا۔ اسلام آباد سے جاری بیان میں ان کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں کیخلاف خیبر پختونخوا میں جاری احتجاج اور تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے نیٹو رسد کی بندش کی وجہ سے افغانستان میں مقیم امریکی اور نیٹو افواج کو سازو سامان کی فراہمی میں تعطل ہمارے احتجاج کی تدبیری کامیابی ہے تاہم ترکیبی کامیابی امریکا کی جانب سے پاکستان کی حدود کے اندر جاسوس طیاروں کے حملے روکنے کی یقین دہانی کروانے سے ہی ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے احتجاج سے امریکی انتظامیہ پرشدید دباؤ کی تصدیق امریکی محکمہ دفاع پینٹا گون کے ترجمان مارک وائٹ کے بیان سے ہوتی ہے۔

جس میں اس نے قبول کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے زبردست احتجاج نے افغان سرزمین پر موجود امریکی اڈوں تک سازو سامان سے لدے ٹرکوں کی آمدورفت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر تحریک انصاف کا خیبر پختونخوا سے نیٹو رسد کی بندش کے ذریعے مضبوط احتجاج پینٹا گون کو دباؤ کا شکار کر سکتا ہے تو ڈرون حملے روکنے اور کل جماعتی کانفرنس کے فیصلوں کے نفاذ کے حوالے سے وفاقی حکومت کا مصمم اور غیر متزلزل ارادہ بھی جارحانہ امریکی طرز عمل کو متاثرکرتے ہوئے مطلوبہ نتائج حاصل کر سکتا تھا۔ دوسری جانب نیٹو سپلائی کیخلاف تحریک انصاف کے دھرنے بدھ کو بارہویں روز بھی جاری رہے ۔ گزشتہ روز بھی پشاور، نوشہرہ، کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں لگائے گئے دھرنا کیمپوں میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود رہی۔ تحریک انصاف کے صوبائی سیکریٹری جنرل خالد مسعود نے حیات آباد ٹول پلازہ پر لگائے گئے دھرنا کیمپ کا دورہ کیا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے خالد مسعود نے کہا کہ موٹروے انٹر چینج پر دھرنا کیمپ بوجوہ ختم کر دیا گیا ہے کیونکہ اس روٹ سے نیٹو سپلائی نہیں آ رہی تھی ۔

مقبول خبریں