تحفظ پاکستان ترمیمی آرڈیننس مثبت اقدام ہے

بادی النظر میں ترمیمی آرڈی نینس کا مقصد ہی لاپتہ افراد کیس کا معاملہ حل کرنا ہے


Editorial January 23, 2014
بادی النظر میں ترمیمی آرڈی نینس کا مقصد ہی لاپتہ افراد کیس کا معاملہ حل کرنا ہے. فوٹو:پی آئی ڈی

صدر ممنون حسین نے جبری گمشدگیوں اور لاپتہ افراد کے معاملے کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے تحفظ پاکستان ترمیمی آرڈیننس کی منظوری دے دی، حکومت نے مذکورہ آرڈی نینس میں ضروری ترمیم کر دی ہے، تحفظ پاکستان ترمیمی آرڈی نینس 2014 ء فوری طور پر نافذ العمل ہو گا۔ ملک کو دہشت گردی کے جس عفریت کا سامنا ہے اس سے نمٹنے کے لیے یہ آرڈی ننس وقت کی ضرورت اور احسن آئینی انتظام کی جانب بروقت اقدام بھی ہے، جس سے نہ صرف ملکی سالمیت، قومی یکجہتی اور بقا کے حوالے سے قوم کو درپیش چیلنجز سے نمٹنا آسان بلکہ اب فوج اور حساس اداروں کے بحالی مراکز کو استثنیٰ حاصل ہو جائے گا اور ان مراکز میں رکھے گئے افراد کو زیر حراست تصور کیا جائے گا۔ اس سنگین مسئلے نے قومی اعصاب کو بری طرح جکڑ رکھا تھا جب کہ دہشت گردی کے نیٹ ورک اپنے مذموم مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے پیدا شدہ صورتحال سے فائدہ اٹھانے میں سرگرم عمل تھے، چنانچہ اس آئینی ضرورت کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ قومی مفاد کے خلاف کام کرنے والوں کو آیندہ حراستی مراکز میں لانے کے معاملات کو خفیہ رکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

عسکری کارروائیوں کو آئینی تحفظ ملے گا، جب کہ فوج، پولیس، ایف سی، رینجرز اور لیویز کو ایک آئینی و قانونی سمت ملنے کے باعث منضبط و مربوط انداز میں اور مکمل اشتراک عمل سے دہشت گردی کے قلع قمع کرنے میں مدد ملے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ لاپتا افراد یا مجرمانہ سرگرمیوں، مزاحمت و ریاست دشمنی میں ملوث عناصر کے خلاف اقدامات اور ان کی سرکوبی کے ضمن میں اٹھنے والے سوالات عدلیہ، انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوامی حلقوں کے لیے اعصاب شکن چیلنج کی شکل اختیار کر چکے تھے، عدالتی فعالیت کا ایک اہم باب اس سے منسلک ہے، تاہم یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ خطرناک دہشت گرد، ان کے ماسٹر مائنڈز، ٹارگٹ کلرز، تخریب کار اور اغوا برائے تاوان، بم دھماکوں اور بدامنی کے ذمے دار عناصر بھی قانونی موشگافیوں، گواہوں کے ڈر یا منحرف ہونے، شواہد کی کمی، عدم دستیابی اور آئین میں مناسب ترمیم نہ ہونے کے باعث عدالتوں سے رہا ہوتے رہے۔ معاشرے کے اندر چھپے ہوئے سیاسی جماعتوں اور مذہبی تنظیموں کے غیر مرئی عسکری ونگز، مسلح گروہوں، بے چہرہ مافیائوں کی طرف سے ان کی ضمانتوں پر رہائی کے پیچھے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی کی کہانی خاصی اندوہ ناک ہے۔

مشاہدہ میں آیا ہے کہ اکثر سیاسی جماعتوں اور مقامی تنظیموں کی دیدہ دلیری اور سرپرستی نے شہروں میں پولیس اور رینجرز سمیت انٹیلی جنس اداروں اور حکومتی اقدامات کو غیر موثر بنایا، پولیس اور رینجرز کے چھاپوں کے خلاف یہی قوتیں احتجاجی مظاہرے کرواتی اور پولیس اور رینجرز کی کارروائیوں کو ظلم و جبر سے تعبیر کر کے رائے عامہ کو دھوکہ دیتی رہیں۔ مجرموں کو پکڑنے میں ناکامی کی روشنی میں ہی اس بات کی کمی شدت سے محسوس کی گئی کہ دہشت گردی اور اس کے نتیجہ میں ہلاکتیں پولیس اور رینجرز کی مزید تربیت کی متقاضی ہیں، انھیں جدید اسلحہ ملنا چاہیے۔ یہ اہم انتظامی ضرورت ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے جنھیں اب آئینی تحفظ بھی ملا ہے، کسی دہشت گرد کو بھاگنے کا موقع نہ دیں۔ کراچی میں گینگ وار کارندوں کو گرفت میں لانے کے لیے پولیس اور رینجرز کو اپنی نفری سمیت لیاری کی تنگ گلیوں میں داخل ہونا پڑے گا، قتل و غارت روکنا ہو گی۔ آرڈیننس کے قانون بن جانے سے بلاشبہ جبری گمشدگیوں اور لاپتہ افراد کے زمرے میں آنے والے افراد کے بارے میں بلاخوف و خطرعدالتوں کو بتا سکیں گے اور ایسے افراد پر عائد الزامات اور تفتیش میں ہونے والی پیشرفت کے بارے میں بھی بتانے سے نہیں ہچکچائیں گے۔

بادی النظر میں ترمیمی آرڈی نینس کا مقصد ہی لاپتہ افراد کیس کا معاملہ حل کرنا ہے جس کے تحت لاپتہ افراد کے معاملات کو باضابطہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ترمیمی آرڈی نینس کے مطابق اب ہر اس شخص کو ''جنگجو دشمن'' تصور کیا جائے گا جو پاکستان، پاکستان کے شہریوں، مسلح افواج اور نیم عسکری، سرکاری قوتوں کے خلاف ہتھیار اٹھائے گا۔ اب حکومت کے تحریری احکامات پر ملک کے تحفظ، سلامتی، مفاد اور دفاع کے خلاف کام کرنے والے کو 90 روز تک زیر حراست رکھا جا سکے گا۔ ترمیمی آرڈی نینس کے بعد جبری گمشدگیوں اور لاپتہ افراد کے زمرے میں گرفتار ملزموں کو آئین کے آرٹیکل 10 کے تحت زیر حراست تصور کیا جائے گا۔ جنگجو دشمن اور اجنبی دشمن کے زمرے میں پائے جانے والے ملزموں کو بھی 90 روز تک بلا اعتراض زیر حراست رکھا جا سکے گا۔ ایسے افراد کو کسی بھی وقت پولیس یا تحقیقاتی ایجنسیوں کے حوالے کیا جا سکے گا۔ یوں دہشت گردی، شورش، مزاحمت اور ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے والوں سے نمٹنے کا آئینی و قانونی روڈ میپ مل گیا ہے لیکن ابھی منزل نہیں آئی۔ آرڈی ننس پر اعتراضات سامنے آ سکتے ہیں، کچھ اسے شہری آزادیوں سے متصادم قرار دیں گے تاہم یہ بحث جمہوری عمل کا حصہ ہے۔

حقیقی معنوں میں ریاست و حکومت کے ارباب حل و عقد کی آزمائش اب شروع ہونے والی ہے۔ اس آرڈی ننس کو ماضی کے دیگر آرڈی ننسوں کی طرح مصلحتاً 90 دن کی میعاد کے خاتمہ کے بعد طاق نسیاں ہوتے کوئی نہیں دیکھنا چاہتا۔ یہی وقت ہے کہ پارلیمنٹ اپنی جمہوری بالادستی، دہشت گردی کے خطرناک مضمرات اور بھیانک اثرات کے پیش نظر زمینی حقائق کا ادراک کرے، قومی امور کے حل میں اپنی عدم فعالیت، فیصلہ کن حیثیت کے فقدان، لاتعلقی کے طرز عمل اور خاموشی کے طلسم کو توڑے۔ پارلیمانی ماہرین کا تبصرہ ہے کہ پارلیمنٹ نے اپنا موثر اور جانبدار کردار ابھی تک ادا نہیں کیا۔ قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں وزیر اعظم، وزرا اور اراکین کی عدم شمولیت نے اس رجحان کو فروغ دیا کہ لاتعداد قومی ایشوز کو حکمران ان کے وزرا اور مشیر میڈیا میں گپ شپ سے ٹالتے رہے۔ یہ قومی اتفاق رائے کا نازک مرحلہ ہے، اس آرڈی ننس کو جلد از جلد قانونی شکل دی جائے۔ یاد رہے کہ ملکی سیاست کی پوری تاریخ انواع و اقسام کے قانونی جنگل میں بھٹکتی رہی۔ معمولی جرائم سے لے کر بھیانک مجرمانہ وارداتوں کے مرتکب ملزمان کے خلاف قوانین کا گورکھ دھندا موجود ہے مگر یہ المیہ ہے کہ قانون پر عمل درآمد سے بوجوہ گریز نے قوم کو دہشتگردی، قانون شکنی، طوائف الملوکی اور بدانتظامی و بدعنوانی کی کھائی میں دھکیلا ہے۔ حالات غیر معمولی ہیں، اس لیے غیر معمولی اقدامات قوم و ملک کی ضرورت ہیں۔ اب محاذ آرائی نہیں مشترکہ اور سنجیدہ جدوجہد کا وقت ہے۔

مقبول خبریں