مہنگائی

اشیائے خورو نوش کی اس گھمبیر صورت حال کے نتیجے میں بچوں کی نشوونماء متاثر ہورہی ہے۔


Editorial August 25, 2021
اشیائے خورو نوش کی اس گھمبیر صورت حال کے نتیجے میں بچوں کی نشوونماء متاثر ہورہی ہے۔ فوٹو؛ فائل

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تعمیراتی شعبے کی ترقی خصوصاً کم لاگت والے گھروں کی تعمیر میں بلاتعطل پیش رفت اولین ترجیح ہے،انھوں نے جائزہ اجلاس کی صدارت کے دوران حکم دیا کہ تعمیرات میں استعمال ہونے والے خام مال، سیمنٹ ، سریا اورگھی جیسی بنیادی اشیاء ضروریہ کی طلب کے مطابق بلا تعطل رسد اورقیمتوں میں استحکام یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔

بلاشبہ وزیراعظم کے خلوص نیت پر شک وشبہ کی گنجائش نہیں، وہ چاہتے ہیں کہ تعمیراتی شعبہ دن دگنی، رات چوگنی ترقی اور ملک میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی آئے ، وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی پر اکثر وبیشتر نوٹس بھی لیتے رہے ہیں، لیکن عملی طور پر مہنگائی کی شرح روزانہ کی بنیاد پر ہوش ربا اضافے سے عام آدمی کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ کارخانے دار، تاجر اور دکان دار کو مکمل آزادی حاصل ہوگئی ہے کہ وہ جب چاہے اپنی مرضی سے اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کرلے، اسے کوئی پوچھنے والا نہیں رہا ہے۔ صرف بیانات سے تبدیلی تو ممکن نہیں ، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے منظم اور مربوط حکمت عملی تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔

یہ بات درست ہے کہ سریا، سیمنٹ سمیت دیگر تعمیراتی میٹریل کی بڑھتی قیمتیں تعمیراتی شعبے کی ترقی کو متاثر کررہی ہیں ۔پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کا وعدہ حکومت کے تین برس مکمل ہونے کے باوجود تاحال پورا نہیں ہوسکاہے ، کیونکہ کم لاگت کے مکانات کی لاگت تعمیراتی میٹریل مہنگا ہونے کے سبب کئی گنا بڑھ چکی ہے ۔

کچھ روز قبل تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کرنے پر ایک وفاقی وزیر نے بیان دیتے ہوئے کہا تھاکہ ''عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث حکومت کے پاس تیل کی قیمتوں میں اضافے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا'' تیل کی قیمتوں میں اضافے کے دفاع میں حکومت کی جانب سے پڑوسی ممالک کی قیمتوں سے تقابلی جائزہ اور پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے ختم ہونے کے دلائل دیے گئے،اور یوں بے بسی اور لاچارگی کی تصویر بن کر عوام کو مسلسل کڑوا گھونٹ پینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی.

لیکن اس کے بر عکس اگر مسئلہ کا ذرا سا گہرائی میں جا کر تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ بے چارگی اور بے بسی ہمارے حکمرانوں کی خود مسلط کردہ ہے۔ نہ کہ یہ کوئی آفاقی حقیقت ہے کہ جس کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

پٹرولیم مصنوعات اور توانائی کے دیگر ذرایع کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ ہے ، اس حقیقت کا ادراک ہونے کے باوجود مہنگائی کے سونامی کو روکنے کے لیے اقدامات نہ کرنا ،حکومت کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے ۔

موجودہ سال کے آغاز سے لے کر اب تک اگر تعمیراتی شعبے میں بڑھنے والی لاگت کا جائزہ لیا جائے تو تعمیراتی کام میں سب سے اہم سریے اور سیمنٹ کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آیا۔اسی طرح سیمنٹ کی قیمت میں بھی خاصا اضافہ ہو چکا ہے۔ ایلومینیم اور رنگ، لکڑی کی قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے،جب کہ شیشے، سینٹری،بجری، اینٹیں اور ریت کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

اگر بلڈنگ میٹریل کی قیمتوں میں اسی رفتار سے اضافہ ہوتارہا تو 40سے50لاکھ روپے میں تعمیر ہونا والے گھر کی تعمیراتی لاگت میں کم سے کم دس لاکھ روپے اضافہ ہو جائے گا، پاکستا ن میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری تو تعمیراتی شعبے میں ہورہی ہے، اگر یہ شعبہ متاثر ہوا تو پاکستانی کی معیشت مزید مشکلات کا شکار ہوجائے گی ۔

گھریلو استعمال کی روز مرہ اشیاء یعنی انڈے ،دودھ ، دہی،گوشت اور چینی وغیرہ کی قیمتیں بھی خاصی بڑھ چکی ہیں ، یوٹیلٹی اسٹورز پر بھی مختلف اشیا کے نرخوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ مختلف برانڈز کے کوکنگ آئل،گھی ، بچوں کے لیے خشک دودھ 10مہنگا ہو گیا ہے۔

اگر حکومت اپنی نگرانی میں چلنے والے اسٹورز پر اشیائے صرف خصوصی طور پر کھانے پینے کی اشیا کے نرخ بڑھانے پر مجبور ہے تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مارکیٹ میں مہنگائی کیا رنگ دکھا رہی ہو گی۔ سرکاری دفاتر میں بیٹھ کر لسٹیں بنا دینے سے مہنگائی کبھی کنٹرول نہیں کی جا سکتی نہ ہی اس کے درست اعدادوشمار تیار کیے جاسکتے ہیں۔

اس کے لیے باہر نکل کر مارکیٹ کا جائزہ لینا پڑتا ہے' گراں فروشوں پر نظر رکھنا پڑتی ہے اور قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے باقاعدہ ایک نظام وضع کرنا پڑتا ہے کہ فلاں چیز کی لاگت کیا ہے' اس کی ترسیل پر کتنے اخراجات آئے اور دکاندار کا منافع شامل کر کے اسے کتنے میں فروخت کیا جانا چاہیے۔

صورت حال یہ ہے کہ لسٹیں جاری ہو جاتی ہیں' لیکن یہ دیکھنے والا کوئی نہیں ہوتا کہ ان پر عمل بھی کیا جا رہا ہے یا نہیں۔نتیجہ یہ کہ مارکیٹ میں من مانی چلتی ہے اور جس کا جتنا دل چاہتا ہے منافع کماتا ہے جب کہ صارف لٹتا رہتا ہے۔

چینی کی مثال لی جا سکتی ہے کہ ماہ رمضان میں اس کی قیمتوں پر سرکاری سطح پر کنٹرول کیا گیا تھا تو یہ جنس طے کردہ نرخوں پر دستیاب رہی' لیکن جونہی یہ نگرانی ختم کی گئی چینی کے نرخ بڑھ گئے اور اب یہ ایک سو دس روپے اور کہیں ایک سو پندرہ روپے فی کلوکے حساب سے فروخت ہو رہی ہے۔

یہ غور کرنے کا معاملہ ہے کہ اگر چینی جیسی روزمرہ استعمال کی چیز بھی سرکار کے طے کردہ نرخوں پر دستیاب نہیں تو باقی اشیا کی گرانی کا کیا عالم ہو گا۔ کسان کے کھیت سے اور کسی فیکٹری یا کارخانے کے گیٹ سے صارف کے گھر تک ترسیل کے سارے نظام پر کڑی نظر رکھ کر ہی مہنگائی کے جن کو بوتل میں واپس جانے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔

قیمتوں میں بار بار ردوبدل سے عوام میں مایوسی پھیلتی ہے۔ادویات کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافے دیکھنے میں آرہا ہے ، جان بچانے والی ادویات بھی بہت مہنگی ہوچکی ہیں، غریب اور متوسط طبقے کے مریض علاج ومعالجہ مہنگا ہونے کے سبب موت کے منہ میں جارہے ہیں ۔

نا جائز منافع خوری، ناپ تول میں کمی، اشیاء خور و نوش میں ملاوٹ و خود ساختہ مہنگائی ہمارا وطیرہ بن چکا ہے۔ اشیائے خور و نوش میں سب سے سستا نمک ہے مگر صد افسوس کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پیک شدہ نمک کی فروخت بڑھانے کے لیے عام خوردنی نمک میں بھی پتھر کی ملاوٹ کی جارہی ہے۔ چنے کے چھلکوں سے چائے کی پتی اور پھر اس میں جانوروں کا خون اور مضر صحت رنگ۔ بیکریوں میں گندے انڈوں کا استعمال، آٹے میں میدے کی آمیزش، سرخ مرچوں میں چوکر،اینٹوں ولکڑی کا بورا،کالی مرچوں میں پپیتے کے بیج کی ملاوٹ، معروف برانڈ کی کمپنیوں کے ڈبوں میں غیر معیاری اشیاء کی پیکنگ جیسی دھوکا دہی ہمارے معاشرے میں عام ہے۔

ملاوٹ مافیا کہیں خطرناک کیمیکل، سوڈیم کلورائیڈ، فارمالین، ڈٹرجنٹ اور پانی کی آمیزش سے دودھ تیار کرکے فروحت کررہے ہیں تو کہیں دودھ کی مقدار کو بڑھانے کے لیے اس میں پروٹین، چکنائی، کوکنگ آئل، یوریا اور دیگر مضر صحت کیمیکلز کو شامل کیاجارہا ہے۔ اسی طرح ٹافیوں، پرفیوم، شیمپو، میک اپ کے سامان میں مختلف بیماریوں کا باعث بننے والی اشیاء کی ملاوٹ کی جارہی ہے۔

اشیائے خورو نوش کی اس گھمبیر صورت حال کے نتیجے میں بچوں کی نشوونماء متاثر ہورہی ہے، اور شہریوں بالخصوص بچوں میں بیماریاں پھیل رہی ہیں، اور ہر چوتھا پاکستانی منہ،جگرکے کینسر، ہیپا ٹائٹس، گردوں کے امراض،شوگر، بلڈپریشر،جلدی امراض اور معدے کے عارضوں میں مبتلاہے، شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جس میں کوئی مریض نہ ہو۔ ایسے غیر انسانی فعل پر ملاوٹ مافیا کو محض تھوڑا بہت جرمانہ یا عارضی طور پر ان کا کاروباربند کیا جاناکافی نہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ انھیں عبرتناک سزائیں دی جائیں ۔

مہنگائی کے حوالے سے اگر ایک مستقل نظام وضع کر دیا جائے تو اس بار ،بار کے نوٹس لینے سے جان چھوٹ سکتی ہے اور عوام کی روز افزوں مہنگائی سے۔ آغاز یوٹیلٹی اسٹورز سے کرنا چاہیے' جہاں اگر کسی چیز کی قیمت بڑھتی بھی ہے تو اسے سبسڈی کے ذریعے کنٹرول کیا جائے۔ مہنگائی اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اگر اس پر قابو پالیا جائے تو ملکی ترقی کا سفر زیادہ تیزرفتا ہوسکتا ہے ۔

مقبول خبریں